تازہ ترین

سرکاری محکموں میں بھرتی عمل معدوم: ساگر

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر//نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں اس وقت بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے کیونکہ انتظامیہ اس جانب کوئی بھی توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہے۔ خصوصی بھرتی عمل تو دور کی بات گذشتہ برسوں سے یہاں معمول کی بھرتیاں نہیں ہورہی ہیں۔ پارٹی ہیڈکوارٹر پر مختلف طبقہ ہائے فکر خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے وفود سے تبادلہ خیال کرتے ساگر نے کہاکہ نوجوانوں کے وفود نے انہیں بتایا کہ لاتعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عمر کی حد پار کر گئے ہیں جبکہ بہت سارے اس حد کو پہنچنے کے قریب ہے۔ ساگر نے کہاکہ گذشتہ برسوں سے سرکاری محکموں میں بھرتی عمل معدوم ہو کر رہ گیا ہے اور اب نوکریوں کیلئے ڈومیسائل حاصل کرنے والوں کو اہل قرار دینے کے بعد مقامی نوجوانوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوگئے ہیں جس کی وجہ ہے پہلے ہی پریشانِ حال بے روزگار نوجوان زبردست غیر یقینیت کے شکار ہوگئے ہیں۔ انجینئروں کے وفد نے کہاکہ افسوس اس بات کاہے کہ گذشتہ5سال کے دوران جموں وکشمیر میں ایک بھی گریجویٹ انجینئرکو نوکری نہیںملی ہے،کشمیری نوجوانوں کو دور دور تک روشنی کی کرن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ساگر نے اس موقعہ پر کہا کہ گذشتہ برسوں سے جاری غیر یقینیت اور بے چینی سے یہاں کا نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوا اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نئی پود کو مزید پشت بہ دیوار کر کے رکھ دیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ گذشتہ ایک سال کے دوہرے لاک ڈائون سے یہاں کا پرائیویٹ سیکٹر بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور ایک سروے کے مطابق کشمیر میں 5لاکھ افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا،یہ ایک سنگین صورتحال ہے اور حکومتی سطح پر بھی اس کا تدارک کرنے کیلئے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ساگر نے کہاکہ   5اگست 2019کے بعد بھی یہاں 1لاکھ نوکریاں فراہم کرنے کے اعلانات کئے گئے لیکن ابھی تک اس اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا جبکہ بڑے پیمانے پر غیر ریاستیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اجراء کی جارہی ہیں جس کا مقصد یہاں کے نوجوانوں سے مقامی روزگار کے وسائل بھی چھیننا ہے۔ ساگر نے کہا کہ نئی بھرتیاں عمل میں لانے کے بجائے جموں وکشمیر انتظامیہ لوگوں کا روزگار چھیننے میں مصروف ہے جس کی جیتی جاگتی مثال 4500سیلف ہیلف انجینئروں کو بیک جنبش قلم نوکریوں سے برطرف کرنا ہے۔ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دوران نہ صرف سرکاری محکموں میں بھرتی عمل جاری رہتا تھا بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی مکمل تعاون دیکر نوجوانوں کیلئے روزگار کے وسائل بڑھانے کا عمل بھی جاری تھی۔ اس کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ مشاہرہ بھی دیا جاتا تھا لیکن موجودہ دور میں ماضی کی تمام سخت محنت رائیگاںکرکے رکھ دیا گیا ہے۔