کشمیر کی 48سالہ بیوہ کی محنت 30سال بعد رنگ لائی

پالی تھین کو سائنسی طور ٹھکانے لگانے کے تجربے پر اعزاز سے سرفراز

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //کولگام کی ایک 48سالہ بیوہ کی 30سال کی محنت اُس وقت رنگ لائی جب اس نے پولی تھین کو سائنسی طور پر ٹھکانے لگانے کانسخہ نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پرپیش کر کے کر ایشیا بْک آف ریکارڈس ایوارڈ اپنے نام کر لیا ۔اس سے قبل مذکورہ خاتون نے انڈیا بْک آف ریکارڈز، کلامز بْک آف ریکارڈز بھی اپنے نام کئے ہیں۔ ماہرین نے جہاں پولی تھین کو عام شہریوں کیلئے زہر آلود قررا ر دے کر اس کے مضر اثرات گنوا دیئے ہیں، وہیں سماج میں ایسے اشخاص بھی موجود ہیں جو اس کی تباہ کاریوں سے واقف ہو رہے ہیں اور یہ سمجھ چکے ہیں کہ اس کے مضر اثرات کیا ہیں ۔کنی پورہ کولگام کی 48 سالہ ناصرہ اختر نے دنیا کے سامنے ایک نئی ایجاد پیش کی، جس میں پالی تھین کو سائنسی طور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا نسخہ بتایا گیا ۔ناصرہ اختر نے30سال قبل کام شروع کیا تھا اور اس کام کو انجام دینے کے دوران اُس نے کبھی ہمت نہیں ہاری بلکہ وقت وقت پر وہ ہر ایک سٹیج پر اس کی تشہیر اور ہنر کا مظاہرہ کرتی رہی تاہم اس کے کام کی تب پذیرائی ہوئی، جب انہیں انڈیا بْک آف ریکارڈز، کلامز بْک آف ریکارڈز اور ان دنوں ایشیا بْک آف ریکارڈز کے اعزازت سے نوازا گیا۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران ناصرہ اختر نے کہا ’’ وہ بیوہ ہے اس کی دو بیٹیاں ہیں ،لیکن یہ کام انجام دینے میں کبھی بھی اس کی ہمت نے جواب نہیں دیا ۔اس کا کہنا تھا کہ 30سال قبل پولی تھین کے مضر اثرات کے بارے میں جب میں نے ریڈیو اور ٹی وی پرجانکاری پروگرام سنے ،تب میں نے یہ ٹھان لی کہ مجھے اس پر ایک چیلنج کے تحت کام کرنا چاہئے ۔ اس کا کہنا تھا کہ زیادہ پڑھی لکھی نہ ہونے کے باوجود بھی اس نے اس پر کام شروع کیا۔ کام شروع کرنے کے 8سال7ماہ اور5دن بعد جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں نے کچھ اچھا کر لیا ہے تو میں نے نہ صرف نیشنل سطح پر پولی تھین کے خاتمہ کیلئے نسخہ پیش کیا بلکہ لوگوں کو بھی آگاہ کرنا شروع کیا ۔کئی ایک نیشنل ٹیلی ویژن چینلوں پر بھی میں نے اس حوالے سے بتایا ‘‘ اس کا کہنا تھا ’’ میں کوئی پڑھی لکھی خاتون نہیں ہوں ، اور جب میں نے یہ کام شروع کیا تب موبائل سہولیات بھی یہاں نہیں تھیں ،میں نے انفرادی طور پر کوشش کی اس کا خاتمہ سائنسی طور کیسے ممکن ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ کوشش کسی اعزازیا شہرت کیلئے نہیں تھی۔اس نے کشمیر یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا، جہاں اس کی پذیرائی ہوئی۔ اس نے ماہرین کی ایک ٹیم کے سامنے نمونہ پیش کیا جہاں اس کا تجربہ ہوا اور بعد میں مجھے احمد آباد سے بھی بلاوا آیا، وہاں پر بھی نمونے پیش کئے گئے ،میرے حوالے سے کئی ایک بین الاقوامی جریدوں نے بھی خبریں تحریر کیں اور یہی وجہ رہی کہ مجھے اعزاز سے نوازا گیا ۔اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنا کام انجام دے دیا ہے اب سرکار کا کام ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کلیدی رول ادا کرے ۔اس کا کہنا تھا کہ جب کام کرنے کی کسی میں لگن ہوتی ہے تو اس کیلئے کوئی کام مشکل نہیں ہوتا  ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پولی تھین کی یہاں سینکڑوں اقسام ہیں صرف چالان کرنے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اور اس سے آلودگی دن بہ دن بڑھ جائے گی ۔

تازہ ترین