تازہ ترین

فن خطاطی کو زندہ رکھنے کی پہل

پائین شہر کا انجینئر نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے میں مصروف

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی
سرینگر// پائین شہر کے چنکرال محلہ حبہ کدل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان استاد فن خطاطی کو زندہ رکھنے کیلئے سرینگر میں قائم 'الف لرننگ اکیڈمی' میں فن خطاطی کی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ فن خطاطی کی ان خصوصی کلاسز کے ذریعے جہاں اس آرٹ کے شوقین اپنے شوق کو پورا کر رہے ہیں وہیں آرٹ کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔الف لرننگ اکیڈمی میں بحیثیت چیف ٹرینر تعینات 29 سالہ انجینئر صالح النجاری طلبا کو عربی اور فارسی پڑھانے کے علاوہ فن خطاطی سیکھنے کے شوقیق طالب علموں کو یہ ہنر بھی سکھا رہے ہیں۔ صالح النجاری، جنہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے بیلچر آف میکنیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے، کا کہنا ہے کہ میرے اس ادارے سے درجنوں طلبا خطاطی کا فن سیکھ کر فارغ ہوچکے ہیں اور اس وقت بھی چالیس طلبا جن میں پیشہ ور لوگ بھی شامل ہیں، اس فن کے سیکھنے کے شوق کو پورا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اس فن کا مستقبل روشن ہے۔موصوف نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا: 'میں بنیادی طور میکنیکل انجینئر ہوں، میں نے سال 2017 میں عربی اور فارسی زبان کی خطاطی سکھانے کے لئے الف لرننگ اکیڈمی کرن نگر میں قائم کی، تب سے سلسلہ جاری ہے اور روز بہ روز طلبا کی تعداد میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، ایک طالبہ سے شروع ہونے والے اس ادارے میں آج چالیس طلبا خطاطی سیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا کہ خطاطی سیکھنے کے لئے پیشہ ور لوگ جیسے ڈاکٹرس، انجینئرس بھی آتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس آرٹ کو سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔صالح النجاری نے کہا کہ ہم نے بچوں کو آرٹ سے دور رکھا ہے اسی جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ پہل کی اور آج تک بیس سے تیس لوگ یہ فن سیکھ کر فارغ ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے میں خطاطی سیکھنے کا دو ماہ کا کورس ہے جس میں پہلے ماہ کے دوران خط نسخ سکھایا جاتا ہے اور دوسرے ماہ میں خط سبو سکھایا جاتا ہے۔صالح النجاری نے کہا کہ اس آرٹ کا مستقبل روشن ہے اور مجھے بیرون وادی سے ہی نہیں بلکہ بیرون ملک سے بھی پذیرائی اور آرڈرس ملتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خط کی مشق کے دوران طلبا کو ذہنی دباؤ سے نجات ملتی ہے۔ادارے کی ایک طالبہ نے کہا کہ اس آرٹ کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو سیکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ آرٹ سیکھنے کے دوران ذہنی دباؤ سے بھی راحت ملتی ہے۔یو این آئی