تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال :(۱)  عُشرکے ضروری مسائل کیا ہیں؟(۲) باغ فروخت ہوا ،اب عُشر فروخت کرنے والے کے ذمہ ہے یا خریدار کے ذمہ؟ (۳) باغ پر دوا پاشی وغیرہ پر جو خرچہ آتا ہے وہ منہا کیا جائے یا نہیں؟
(۴) کوئی عُشر کا مستحق نہ ہو تو وہ عُشر لے سکتا ہے یا نہیں؟(۵) کیا عُشر مسجد میں ،مدرسہ کی کسی تعمیر میں، مکتب میں خرچ کرسکتے ہیں؟
نذیر احمد لون ۔رفیع آباد

عُشر کی حقیقت اور اس کے مسائل

جواب :اسلام نے جیسے اہل ایمان مالداروں پر زکواۃ لازم کی ہے اسی طرح زمین اور باغوں کی پیداوار پر عُشر بھی لازم کیا ہے ۔عُشر کی ادائیگی کا حکم قرآن پاک میں بھی ہے اور احادیث میں بھی۔عُشر کی ادائیگی اُسی طرح فرض ہے جیسے زکواۃ فرض ہے البتہ عُشر چونکہ زمین کی پیداوار اناج ،سبزیاں وغیرہ اور باغوں کی پیداوار پھلوں پر لازم ہوتا ہے ،اس لئے اس کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ زمین عُشری ہونی چاہئے۔
زمینوں میںعُشری زمین کون کون سی ہیں ،اس کی تفصیل فقہ و فتاویٰ کی کتابوں میں ہے ۔یہاں مختصراًاس پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ کشمیر میں زمینوں کی پیداوار اور باغوں کے میوہ جات پر اکثر علماء کی رائے کے مطابق عُشر لازم ہے گویاوہ تسلیم کرتے ہیںکہ یہاں کی زمین عُشری ہے۔عُشر ہر قسم کی پیداوار پر لازم ہوتا ہے ۔مثلاً دھان، جس کو یہاں شالی کہتے ہیں ،مکی ،دالیں ،سبزیاں اور باغوں سے پیداہونے والے ہر قسم کے میوے چاہے وہ سیب،ناشپاتی ،اخروٹ ،بادام ،خوبانی ، انار ،سنگترے ،کیلے ،پپیتا وغیرہ ہوں۔وہ درخت جو اسی غرض کے لئے لگائے جاتے ہیں کہ بڑے ہوکر کاٹ کر فروخت کریں گے ،اُن پر عُشر لازم ہے، مثلاً سفیدے وغیرہ۔عُشر کے لفظی معنیٰ دسواں ہے یعنی دس میں سے ایک ۔یہی عُشر ہے ،یہی اس کی مقدارہے۔
زمین کی سینچائی میں اگر بارش کا پانی یا ندی نالوں کا پانی کا استعمال ہوتا ہو اور اُسی پانی سے زمین کی ضرورت پوری ہوتی ہو،تو عُشر یعنی دسواں لازم ہوگا اور اگر ٹیوب ویل سے پانی نکال کر سینچائی کرنی پڑے تو اس صورت میں نصف عُشر لازم ہوتا۔عُشر کے معنیٰ دس میں سے ایک اور نصف عشر کے معنیٰ بیس میں سے ایک ہے۔
جن زمینوں کے لئے سینچائی کی ضرورت نہیں ہوتی مثلاً مکی ،گندم ،جَو ،راجماش اُگانے والی زمین ،تو اُن میں بہر حال عُشر دس میں سے ایک لازم ہے اور جن زمینوں میں پانی سے سیرابی ضروری ہوتی ہے ۔اگر وہ پانی کنویں سے نکالنا پڑے یا بجلی کا موٹر لگاکر زمین سے نکالنا پڑے تو اس صورت میں نصف عُشر لازم ہے۔
زمینوں اور باغوں میں جو دوا پاشی کی جاتی ہے تاکہ فصل اور پھل خطرات و آفات سے محفوظ رہیں ،اُس کی دوا پاشی پر آنے والا خرچہ عُشر میں وضع نہیں کیا جائے گا البتہ پھل اُتارنے کے بعد جو خرچے ہوں۔مثلاً پھلوں کی اُترائی ،چھٹائی،بھرائی ،کاغذ،پیٹی کا خرچہ اور پھر منڈی تک پہنچانے کا خرچہ یہ سب عُشر میں وضع کرنا درست ہے۔بہتر طریقہ یہ ہے کہ باغ میں ہی دس سیبوں میں سے ایک سیب ،دس ناشپاتیوں میں سے ایک ناشپاتی الگ کرلی جائے ،پھر جتنا جمع ہوجائے وہ جوں کا توں کسی مستحق فرد یا قابل اعتماد ادارے کو دے دیا جائے۔خلاصہ یہ ہے کہ پھل کی اُترائی سے پہلے جو خرچے ہوئے ہیں وہ وضع نہ کئے جائیں اور اُترائی کے بعد جو خرچے ہوتے ہیں وہ منہا کرنا درست ہیں۔
فصلوں میں مکی،شالی ،راجماش کاعُشر بھی لازم ہوتا ہے اور اس کے گھاس پر بھی عُشر ادا کرنا ضروری ہے ۔بہتر ہے کہ کھیت میں شالی کی کٹائی پر دس میں سے ایک جتھہ الگ دیا جائے۔جو باغ فروخت کئے جاتے ہیں اُن باغوں کی پیداوار پر بھی عُشر لازم ہے۔اگر باغ کا میوہ آنے سے پہلے اُس کو فروخت کیا گیا تو اس صورت میں عُشر باغ خریدنے والے پر لازم ہوگا اور اگر پھل آنے کے بعد اور پھل پکنا شروع ہوجائے پھر فروخت کیا گیا، اُس کاعُشر خریدنے والے پر لازم ہوگا اور باغ فروخت کرنے والے کو اُس کی رقم پر زکواۃ ادا کرنا لازم ہوگا جو اُس نے باغ کی قیمت کے طور پر لی ہے۔زکواۃ لازم ہونے اور ادا کرنے کے مسائل عُشر سے الگ ہیں۔جس شخص کو زکواۃ لینا جائز نہ ہو اُس کو عُشر لینا بھی جائز نہیں ۔غیر مستحق فردا کاعُشر لینا حرام ہے اور عُشر ادا کرنے والے کو اگر اس بات کا علم ہو کہ یہ غیر مستحق ہے تو اُسے عُشردینا بھی جائز نہیں۔
عُشر کی رقوم مسجد کی تعمیر میں یا اماموں کی تنخواہوں میں دینا جائز نہیں۔وہ دینی مدارس جہاں غریب بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام ہوتا ہے اور زکواۃ ،صدقات عُشر اُن بچوں کے کھانے پینے اور اس طرح کی دوسری ضروریات پر خرچ ہوتے ہوں ،اُن مدارس کو عُشر دینا جائز بلکہ بہت بہتر ہے اور اس میں وہ فوائد ہیں جو کسی دوسری جگہ عُشر ادا کرنے کے نہیں ہیں ۔اُن میں اہم فائدہ دینی تعلیم کا فروغ اور مستند علماء پیدا کرنا جو اُمت کے لئے اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے بلکہ دین کا بقاء اِسی پر منحصر ہے کہ دینی تعلیمی ادارے مضبوط ہوں ۔لہٰذاعُشر میں انہیں مستند اداروں کو ترجیح دی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:(۱) آنحضرت اما م الانبیا ء شافع روزِ جزا صلی اللہ علیہ وسلم مقروض کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے تا وقتیکہ ورثاء سے قرض ادا کروادیتے ۔ان کو اگر استطاعت نہ ہوتی تو اپنی طرف سے قرض ادا کردیتے ۔اگر دونوں صورتیں نہ ہوتیں تو کسی دوسرے کو نماز جنازہ پڑھانے کا حکم فرماتے ،خود نہ پڑھتے ۔کیوں؟
(۲)حج فرض ہونے پر کوئی اس فرض کو معرضِ التوا میں ڈال کر عمرہ کرتا ہے ،خدا نخواستہ موت آجاتی ہے اور حج کا فرض ادا نہ کرسکا ۔اس صورت میں عمرہ کی افادیت کیا ہوگی؟ اس صورت میں یہ ارشاد کہ جس نے باوجود استطاعت کے حج نہ کیا وہ یہودی مرا یا نصرانی؟
دونوں صورتوں میںمسئلہ کا حل فرمائیں ۔حج سے قبل عمرہ کا کیا مسئلہ ہے : جائز ہے ،مندوب ہے ،مباح ہے یا کیا ہے؟
دین محمد چودھری ۔گوجر نگر جموں

مقروض کی نمازِ جنازہ کا مسئلہ

جواب:(۱)کسی بھی فوت ہوے والے شخص کی وراثت میں سب سے پہلے اُس کا قرضہ ادا کرناضروری ہے۔دراصل دین اسلام میں یہ قرضہ اتنا اہم ہے کہ حضرت ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ اگر میں اللہ کے راستے شہید ہوجائوں تو کیا میرے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے ۔آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہاںتمام گناہ معاف ہوجائیں گے ۔اُس شخص نے تین مرتبہ یہ سوال پوچھا ،تینوں مرتبہ یہی جواب ارشاد فرمایا ۔اُس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اگر اُس پر قرضہ ہوگا تو وہ معاف نہ ہوگا۔
اسی لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مقروض شخص کا جنازہ خود نہیں پڑھتے تھے جب تک اُس کے قرضے کی ادائیگی کا انتظام نہ ہوجائے۔اگر انتظام نہ ہوتو دوسرے سے جنازہ پڑھواتے تھے۔جناب نبی کریم ؐ کے اس طرز عمل سے یہ سمجھنا چاہئے کہ قرضہ کی ادائیگی کتنی اہم اور لازم ذمہ داری ہے۔
اگر کسی شخص نے قرض خود ادا نہ کیا مگر اُس کا مکان یا زمین یا رقوم ہیں تو اُس کی وراثت وارثوں کو اُس وقت تک ہرگز نہیں مل سکتی جب تک قرض ادا نہ ہوجائے۔

فریضۂ حج اور عمرہ کی ادائیگی ۔چند اہم پہلو

جواب:(۲) جس شخص پر حج فرض ہوچکا ہو ،اگر اُس کا حج ادا کرنے کا پختہ ارادہ ہے اور حج سے پہلے وہ عمرہ کرنا چاہے تو درست ہے۔عمرے کے بعد وہ فی الفور حج ادا کرے جوکہ اُس پر فرض ہے اور اگر کسی شخص پر حج فرض ہے اور وہ اس فرض کو ادا کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا اور صرف عمرہ کرکے اپنے آپ کو بری کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص حج کا فرض ترک کرنے کا گنہگار ہوگا ۔حضرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس شخص پر حج فرض ہواور کوئی رکاوٹ نہ ہو تو پھر اُس نے حج نہ کیا تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی مرے گا یا نصرانی۔
جس شخص پر حج فرض ہو اُس کو اُسی وقت حج کی تیاری کرنا لازم ہے اور تیاری کے باوجود اگر وہ حج نہ کرسکا تو وارثوں کو اُس کا حج ِ بدل کی وصیت کرنا لازم ہے اور وارثوں پر لازم ہوگا کہ وہ اس وصیت پر عمل کریں۔
سوال:وادی کشمیر ،جسے عرف عام میں ’’پیرواری‘‘ کہاجاتاہے ، میں روز بروز حیاء ،شرم ، ایمان اور باقی اچھائیاں سب اوجھل ہورہی ہیں ،بے راہ روی کا دور دورہ ہے ۔مہربانی کرکے بے راہ روی کی وضاحت کریں ، اس کے بُرے نتائج اور حل بھی تجویز کریں ۔
ارشدحسین …پلوامہ

بے راہ روی : اسباب وتدارک 

جواب:- کشمیریقیناً سرزمین اولیا رہی ہے ۔انہی اولیاء کی دعوت اور ہجرت ومحنت سے یہاں اسلام کی دولت آئی ، انہی کی مہاجرت اور پھر یہاں سکونت سے اسلامی تہذیب پروان چڑھی اور انہی کی مساعی سے یہاں علم ، عمل ،صلاح تقویٰ ، تمدن ، صنعت اور معیشت کے چراغ روشن ہوئے لیکن اس وقت یہاں کے لوگ اپنی اس روشن تاریخ اور اُسکے تقاضوں سے مسلسل دورہوتے جارہے ہیں ۔ ایک زمانے میں یہاں کے غیر شادی شدہ نوجوان بھی عمامہ باندھا کرتے تھے اور غیر شادی شدہ خواتین کے سرپر قصابہ ہواکرتا تھا ۔لیکن آج عریانیت ، فیشن ، برہنگی کی دوڑ ہے اور روز افزوں ہے ۔ اسکے متعدد اسباب ہیں ۔ ایک تو مغرب پرستی ، دوسرے نظامِ تعلیم میں اخلاقیات کا فقدان ، تیسرے مخلوط نظام تعلیم ، چوتھے بازاروں میں مصنوعی اور ریڈی میٹ کپڑوں کی بھرمار ، پانچویں اسلامی اور غیر اسلامی تہذیب کی جنگ کی حقیقت اور اُس کے اثرات کا ادراک نہ ہونا۔چھٹے اسلامی تہذیب اور اس کے روشن نقوش حیاء ، عفت ، پردہ،احترام ،حرام سے پرہیز ، ادائیگی فرض وغیرہ کے تحفظ سے بے پروا ہونا، ساتویں اسلام مٹانے والی سرگرمیوں کا بے شعوری کی وجہ سے آلہ کار بننا۔ یہ اور اس جیسے دوسرے متنوع اسباب ہیں جس کے تلخ نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔ اس کا علا ج اولاً نظامِ تعلیم کی درستگی ہے ۔ اس میں اسلامی اخلاقیات کی ترجیح ، مغربی تہذیب کی یلغار سے پوری طرح دامن جھاڑ دینا ،نوجوانوںکا جلد سے جلد نکاح کردینا،میڈیا میں بے حیائی وجنسی بے راہ روی کے سارے مواد پر قدغن لگانا اور سنت نبویؐ کا احیاء ہے ۔ غیر اسلامی حرکات سے اجتناب ، نوجوان نسل کے اختلاط کو ختم کرنا او راسلام کی تہذیب (لباس زبان عادات میں )اپنا کر تعلیم ، ملازمت ،تجارت اور شادی بیاہ کرنا ، یہ سب اساسی امور ہیں۔