تازہ ترین

لاک ڈائون اورتعلیم قرآن

درسگاہوں کے تعلیمی نظام میں جِدت لانے کی ضرورت

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


عرفان فیاض
بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں اور فطرتِ انسانی کے بہترین امین ثابت ہوتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، پس اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘۔ ( بخاری)
بچے اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت اورگھروں کی رونق ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کے معمار اورقوم کا وجود ہیں۔انسانیت کا مستقبل بچوں سے وابستہ ہے ، بچے ہی گھر والوں کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک کاباعث بنتے ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی گھر میں خوشیوں کا سماں بندھ جاتا ہے۔ گھر میں بچے کی آمد زندگی کی آمد کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ زندگی خوبصورت ہے لیکن اس کا خوبصورت ترین حصہ بچپن ہے ۔بچپن کی تعلیم و تربیت کے اثرات ایسے دیر پا اورمضبوط ہوتے ہیں جیسے پتھر پہ نشانات۔۔۔۔ نہ ختم ہونے والے !
 تعلیم و تربیت کے سلسلے میں ’’صباحی و مسائی درسگاہیں‘‘ دین اسلام کے سرچشمے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو ایک طرف اسلامی تعلیم سے آراستہ ، دینی کردار کے حامل اور فکری اعتبار سے صراطِ مستقیم پر کاربند ہوں اوردوسری طرف ان میں تہذیب، ایمانداری، اخلاقی و معاشرتی قدروں کی پاسداری کرنے والی شخصیت پروان چڑھے۔اگر چہ ان درسگاہوں کا وقت ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا ہے ، مگر اس قلیل وقت میں عقائد، عادات، عبادات، معاملات، معاشرت ،رویہ غرض دینی زندگی کے ہر شعبہ کی رہنمائی کے لئے تعلیم دی جاتی ہے۔ جس وجہ سے ’جنت کے پھول‘ ان درسگاہوں میں روحانی غذا کے ذریعہ نشونما پاتے ہیں ۔
امام غزالیؒ رقمطراز ہیں: ’’بچہ والدین کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس کا دل ایک عمدہ صاف اور سادہ آئینہ کی مانند ہے جو بالفعل اگرچہ ہر قسم کی نقش و صورت سے خالی ہے اس کے باوجود ہر طرح کے نقش و اثر کو فوری قبول کرنے کی استعداد رکھتاہے ۔ اُسے جس چیز کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے ۔ اگر اس میں اچھی عادات پیدا کی جائیں اور اسے علم نافع پڑھایا جائے تو وہ عمدہ نشونما پا کر دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کر لیتا ہے یہ ایک ایسا کار خیر ہے جس میں اس کے والدین ، اساتذہ وغیرہ سب حصہ دار ہوجاتے ہیں لیکن اگر اُ س کی بری عادات سے صرف ِ نظر کیا جائے اور اسے جانوروں کی طرح کھلا چھوڑا جائے تو وہ بد اخلاق ہو کر تباہ ہو جاتا ہے جس کا وبال اس کے ولی اور سرپرست کی گردن پر پڑتا ہے ‘‘۔ (بحوالہ احیا ء العلوم الدین)
’کورونا وائرس‘ کی وجہ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔ کاروبار، ٹرانسپورٹ ، اور خاص کر اسکول اور صباحی و مسائی درسگاہ بھی بند پڑے ہیں ۔ اس کے پیش نظر’ ادارہ فلاح الدارین ‘بارہمولہ نے بعدمغرب بذریعہ زوم(Zoom app ) مختلف قرآنی کلاسز شروع کئے ہیں۔ جن میںوادی کے مختلف ضلعوںجیسے بارہمولہ،بانڈی پورہ،سرینگر،اننت ناگ اوربنگلوروسے بھی طلباء وطالبات تصحیح قرآن کے لئے دلچسپی دکھارہے ہیں۔سابق امیرادارہ محترم عبد البصیر توحیدی صاحب ’بالغان‘کے لئے پچھلے تین ماہ سے زائد قرآن کا سبق مع تجویدکے پڑھا رہے ہیں ۔موصوف دن میںدوآن لائن کلاسزدیتے ہیں۔ان کے ایک کلاس میںچالیس سے پچاس تک طلباء کی تعدادرہتی ہے اوردوسرے کلاس میںتیس ۔ محترم زبیر احمد بٹ صاحب اور محترم شاہد احمد راتھر صاحب بھی آن لائن کلاس دے رہے ہیں۔جن میںبالتّرتیب بارہ اور بیس بچے قرآن کی تعلیمات سے بہرہ ورہورہے ہیں۔علاوہ ازیں ’اطفال‘ کے لئے بھی قرآن صحیح طورمع تجویدپڑھنے کے لئے ایک کلاس شروع کی گئی ہے ۔ اس کلاس کی ذمہ داری راقم پر ہی ڈالی گئی ہے ۔ کلاس میںچھوٹے بچوںکے ساتھ ساتھ ان کے والدین بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیںاورادارہ کے اس اقدام کی ستائش کررہے۔راقم کے کلاس کامنظردیدنی ہوتاہے۔سیکھنے اورسکھانے کایہ عمل دل کوسکون،فرحت اورطمانیت کاباعث بنتاہے۔
اطفال کلاس کے دوران راقم کو بے انتہا خوشی محسوس ہوتی ہے جب ان ’جنت کے پھولوں ‘ سے ملاقات کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ راقم ہی نہیں بلکہ بچے بھی اس کلاس کا انتظار بڑی بے صبری سے کر رہے ہوتے ہیں کہ کلاس کا وقت کب شروع ہو۔دورانِ کلاس ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ کب اس کانام لے کر کہاجائے کہ’ اپنا سبق سنائو۔‘زوم ایپ پراس کلاس میں ۳۵ سے ۴۰ بچے شمولیت کرتے ہیں۔ راقم کی کوشش رہی ہے کہ ہر بچہ اپنا سبق سنا سکے کیوں کہ ہر بچہ اپنی باری کا بڑی بے صبری سے انتظار کررہا ہوتا ہے۔وہ سوچتارہتاہے کہ اس کے بعد میرا نام لیا جائے گا کہ آپ سبق سنائو ۔حد تو یہ ہے ایک دفعہ وقت کی قلت ہونے کے سبب جب ایک بچہ سبق نہیں سُنا سکا تو اُس نے گھر میں رویااورگھروالوںسے شکایتََ کہا’ آج مجھے سبق نہیں سُنا یا گیا۔‘ اُس ایک بچے کے لئے کلاس دوبارہ سے شروع کرنی پڑی ۔ اور کلاس ختم ہونے کے بعد سبھی بچے جو بھی اس میں شامل ہوئے ہوتے ہیں،دئے گئے سبق کا اپنی آڈیو(Audio)، اور کئی بار وڈیوز(Videos بھیج کر مشق کاثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ان آڈیوز اور وڈیوز سے یہ بچے اس کلا س کے متعلق اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بچوں کے علاوہ ان کے والدین بھی اس میں بڑی دلچسپی دکھا رہے ہیں ، کیونکہ وہ بھی اس کلاس کے دوران وہاں پر موجود ہوتے ہیں۔چونکہ کلاس ختم ہونے کے بعد بچے گھر میں اپنی آڈیوز وٹسپ) (WhatsApp پر بھیجنے کے لئے بناتے ہیں ۔ تو وہیں پر ایک بچی کی والدہ نے اپنی بیٹی کی آڈیو چلتی ہوئی گاڑی میں تیار کر لی تاکہ وہ ان کی آڈیو وٹسپ کے ذریعے وقت پر بھیج سکیں۔ کئی والدین نے ہم سے فون پر رابطہ بھی کیا ہے کہ یہ کلاس’ کورونا وائرس ‘کے ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہنا چاہئے ۔
ایک طرف Online Quran classes کی طرف بچوںاوروالدین کی دلچسپی بڑھ رہی ہے جوکہ خوش آئند ہے ، تو دوسری طرف جب ہم اپنے صباحی و مسائی درسگاہوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیںتو ہم وہاں کی صورت حال اس کے برعکس پاتے ہیں۔درسگاہوں میں بچوں کی تعداد اگر ۳۰ کے قریب ہے ، تو ۱۵ بھی بیک وقت حاضر نہیں ہوتے ہیں اور والدین درسگاہوں میں آنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے تاکہ معلوم کرتے ان کے بچے کی کارکردگی کیسی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں والدین کی طرف سے عدم دلچسپی پائی جاتی ہے۔ ابھی بھی اکثر والدین یہی چاہتے ہیں کہ اُن کا بچہ قرآن پاک کا ناظرہ ہی مکمل کرلے تووہی کافی ہے،ایصالِ ثواب کے کام آئے گا۔قرآن ہی ذریعہ ہدایت ہے یہ تعلیم والدین بچوںکودینے سے قاصر ہیں۔جس طرح مروّجہ تعلیم کے معاملے میں والدین بڑے کوشاں رہتے ہیںاورسنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہیںکہ ان کے بچے کا وقت، صلاحیت وغیرہ ضائع نہیں ہونی چاہئے، اسی طرح انہیںدرسگاہ کے معاملے میں بھی سنجیدہ رہنے کی ضرورت ہے۔ 
 اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے صباحی و مسائی درسگاہوں میں وہی روایتی نظام، جو تیس چالیس سال قبل تھا،موجود ہے جس کی وجہ سے بچوں، اساتذہ اور والدین میں عدم دلچسپی پائی جاتی ہے اورہمارے ان درسگاہوں میں نظامِ تعلیم کا معیار بھی اتنا بُلند نہیں ہے کہ ہم بچوں اور والدین کو مائل کر سکے کہ ناظرہ کے علاوہ اور بھی کچھ پڑھنا ضروری ہے۔ تین چاردہائیوںسے درسگاہوں میں چلاآرہانظامِ تعلیم بنیادی وجہ ہے اس بات کاکہ ہم سماج میں ان درسگاہوں کی کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں پاتے ہیں ۔ ان درسگاہوں میں ہم نے کبھی بھی موجودہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ مروجہ تعلیمی نظام میں پڑھانے والوں کووقتاًفوقتًاایک مخصوص ٹریننگ دی جاتی ہے کہ بچوں کے ساتھ آپ کو کلاس میں کس طرح پیش آنا ہے اور سبق کس انداز سے ازبرکراناہے ۔ لیکن روایتی درسگاہ اورمدرسوںکے لئے ایسا کوئی نظام ہی نہیں ہے، جہاں پر ان نونہالوں کی بھی تربیت یا پڑھائی معیاری انداز میںجدیدطریقوںکوعمل میںلاکر کی جاتی۔ 
جہاں پر درسگاہوں کے منتظمین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بارے میں سوچیں کہ ان میں تعلیمی نظام کیسے بہتر سے بہتر ہو ،انفراسٹرکچرا علیٰ وجدیدضروریات سے پُرہو، وہیں پر والدین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں غیر سنجیدہ نہ ہوں۔ انہیں بھی سامنے آکر درسگاہوں کو Downfall سے بچانا چاہئے ۔ اللہ نہ کرے کہ کل ایسا ہو کہ ہمیں ان درسگاہوں کو کھونا پڑے اورہم اللہ کے کلام کی عظمت،ہدایت،رحمت وبرکت سے اپنے نونہالوںکومحروم رکھ کرعنداللہ ماخوذہوںاورروزِمحشرحاملِ کتابﷺاوراپنی ہی اولادکے سامنے شرمسار۔۔۔۔۔!
رابطہ۔باغ اسلام بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر۔9906685214