تازہ ترین

تربیت میں کوتاہی اجتماعی نقصان

بچوں کواخلاقِ حسنہ سے آراستہ کریں

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


امتیاز خان
بلا شبہ اولاد والدین کیلئے ایک عظیم نعمت، قیمتی سرمایہ اور مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ اگر ان کی حفاظت کی جائے، خیر وبھلائی اور اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا جائے، اچھی تعلیم وتربیت سے ہمکنار کیا جا ئے تو وہ فرشتہ صفت انسان بن سکتے ہیںکیونکہ بچپن کی تربیت پتھر کی لکیرکی طرح ہوتی ہے۔ اگر انہیں نظر انداز کیا جائے اور جانوروں کی طرح صرف ان کی جسما نی ساخت وپرداخت کی فکر کی جائے تو وہ  والدین کیلئے دردِ سر،سماج کے لئے ایک ناسور اورقوم کیلئے خسارہ بن سکتے ہیں۔
والدین پر اولاد کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں سب سے اہم اور مقدم حق اْن کی تعلیم وتربیت ہے۔یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی آخرت میں مواخذہ کاسبب بن سکتی ہے ۔ ’’ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ‘‘القرآن ۔ جہنم سے بچنے کی فکر جس طرح خود کو کرنی ہے اسی طرح والدین کی یہ اہم ذمہ داری ہے کے وہ اپنی والاد کی بچپن سے ایسی تربیت کریںکہ ان میں دینی شعور پختہ ہو اور بڑے ہوکر وہ زندگی کے جس میدان میں بھی رہیں ایمان وعمل صالح سے ان کا رشتہ نہ صرف قائم بلکہ مضبوط رہے۔اسلام عصری تعلیم کا ہرگز مخالف نہیں لیکن دین کی بنیادی تعلیم کا حصول اور اسلام کے مبادیات وارکان کا جاننا تو ہر مسلمان پر فرض ہے اور اسی پر اخروی فلاح وکامیابی کا دار و مدار ہے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق بچپن میں اولاد کی تربیت جوانی کے بالمقابل بہت آسان ہے ، جس طرح زمین سے اْگنے والے نرم ونازک پودوں کو سہولت  کے ساتھ کہیں بھی موڑا جاسکتاہے اسی طرح بچوں کے خیالات،افکار اور طرز زندگی کو جس رخ پر چاہیں بہ آسانی لایاجاسکتا ہے۔اورجب وہ بڑے ہوجائیں اور اْن کی عقل پختہ ہوجائے تو ان میں تبدیلی ناممکن نہ سہی مگر مشکل ضرور ہوتی ہے اسلئے ابتدائی عمر میں بچوں کی نگرانی اور ان کی صحیح تربیت والدین اور سرپرستوں کی اہم ذمہ داری ہے۔کسی دانشور کا قول ہے کہ بچے کا ذہن ایک ایسی خوبصورت سلیٹ کی مانند ہے جسے دنیا کی ہر شے خوبصورت دکھائی دیتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی سب رنگینیاں اسی پر لکھ دی جائیں۔ 
بچپن میں لاڈ پیار اور غفلت و لاپرواہی کے سبب اولاد کی تربیت میں کچھ کمی رہ جائے تو بڑے ہونے کے بعدبھی اس کمی کا ازالہ ممکن ہے مگر مثبت نتائج کیلئے عجلت کا مظاہرہ نہ کیاجائے اور تربیت میں تدریجی انداز اختیار کیاجائے۔ چنانچہ بچوں کے بڑے ہوجانے کے بعد غلطی پر حکمت عملی کے ساتھ تربیت کا اہتمام کیا جائے ، اگر پہلی مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اْسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے ، صراحتاًبرائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگربچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو نصیحت کے مختلف انداز اختیارکئے جائیں اورساتھ ہی اس کے دل میں یہ بات بٹھائی جائے کہ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی، اس وقت بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہیں ہے ، نصیحت اور پیار سے اْسے غلطی کا احساس دلایاجائے اور سب سے بڑھ کر گھر کے ماحول کو دینی بنانے کی ہرممکن کوشش کی جائے تاکہ وہ رفتہ رفتہ اسلامیات سے قریب ہونے کا عادی ہوجائے۔ مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں کہ وقت کا تجدیدی کام یہ ہے کہ امت کے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقہ میں اسلام کے اساسیات اور اس کے نظام و حقائق اور نظام محمدی کا وہ اعتماد واپس لایا جائے جس کا رشتہ اس طبقہ کے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔ آج کی سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ اس فکری اضطراب اور نفسیاتی الجھنوں کا علاج بہم پہنچایا جائے جس میں آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بری طرح گرفتار ہے اور اس کی عقل و ذہن کو اسلام پر پوری مطمئن کر دیا جائے۔
بچے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے، جہاں اس کی تربیت ہوتی ہے۔ یہاں معلمہ خود اس کی ماں ہوتی ہے ، اس مدرسہ میں جیسی تربیت ہوگی اسی طرح کے اثرات بعد کی زندگی میں مرتب ہوتے چلے جاتے ہیں اور دوسرا مدرسہ درودیوار کا مروجہ مدرسہ ہے، جہاں اس کا مربی معلم اور استاد ہوتا ہے۔ مرد کی تعلیم ایک فرد واحد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کو تعلیم دینا حقیقت میں ایک خاندان کو تعلیم دینا ہے۔ جب عورت یعنی ماں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوگی تو پورا خاندان تعلیم پائے گا، پھر پورا معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا اور جب پورا معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا تو پوری قوم تعلیم یافتہ ہوگی۔ اسی لئے نپولین بونا پارٹ نے کہا ہے ’’تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں بہترین قوم دوں گا‘‘۔اگر عورت ہی میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو پوری قوم میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ ہماری بہنیں جو آنے والی ہماری نئی نسل کی معمار ہیں، ہماری تہذیب کی جڑ ہیں۔ اگر وہی تعلیم وتربیت سے دور ہو جائیں تو آنے والی نئی نسل کی وہ کس طرح تربیت کرسکیں گی۔
معاشرہ میں پھیلی بے شمار برائیوں کے پیش نظر اپنی اولاد پر خاص نگرانی رکھیں تاکہ وہ آخرت میں آپ کی ناکامی کا سبب نہ بنیں کیونکہ ہم سے ہمارے ماتحت لوگوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا ۔بچوں کو بڑوں کا ادب کرنے، چھوٹوں پر شفقت کرنے، سب سے اچھے لہجے میں گفتگو کرنے، پڑوسی ، یتیم، رشتہ داروں اور بیواؤں کا خیال رکھنے اور عام لوگوں کی خدمت کرنے کی ترغیب دیتے رہیں۔ کھانے پینے اور سونے وغیرہ میں نبی اکرمؐ کی سنتوں پر عمل کرنے ترغیب دیتے رہیں۔گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، چوری، رشوت اور سگریٹ نوشی سے دور رہنے کی ان کو تعلیم دیتے رہیں۔خود بھی پوری زندگی صرف حلال روزی پر اکتفاء کریں اور بچوں کو بھی صرف حلال روزی کھانے کی ترغیب دیتے رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کو موت یاد دلاکر اخروی زندگی کی تیاری کے لئے ان کی ذہن سازی کرتے رہیں۔
 آج کل کتنے والدین ایسے ہیں جن کو اپنی اولاد سے شکایت ہے کہ وہ کچھ سنتے نہیںہیں یا مانتے نہیںہیں۔جناب یہ بھی تو دیکھو کہ آپ نے اسی طرح تربیت کی تھی، یا نہیں؟ کتنے ماں باپ اولاد کی وجہ سے پریشان ہیں؟ اس کی وجہ صحیح تربیت نہ ہونا ہے جبکہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہے لیکن سب سے بڑاالمیہ صحیح تربیت کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے صالح معاشرہ وجود میں نہیں آرہا ہے اور جب صالح معاشرہ وجود میں نہیں آئے گا تو جرائم کی کثرت ہوگی۔ علامہ اقبالؒ نے بھی ایسے ہی حالات کا ادراک کرتے ہوئے مہمیز دی ہے ؛
نوجواناں را چہ بینم بے ادب
روزِ من تاریک گردہمچو شب
تاب و تب درسینہ افزایدمرا
 یاد عہد مصطفی آید مرا
جب میں نوجوانوں کو بے ادب دیکھتا ہوں تو میرا دل کڑھتا ہے اورمیری آنکھوں کے سامنے رات کی طرح اندھیرا چھا جاتا ہے ،میرے دل میں ہوک پیدا ہوجاتی ہے اور مجھے پھر عہد مصطفیؐ کے تربیت یافتہ نوجوانوں کی یاد آنے لگتی ہے۔
بچپن کی مثال ہمیشہ کمہار کی کچی مٹی سے دی جاتی ہے، بچوں کے کمہار اساتذہ اور والدین ہوتے ہیں، ان کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ یہ بچے بڑے ہوکر مستقبل میں ملک وملت کا نام روشن کریں، والدین کبھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے ناکام ہوں۔ بچوں کی صحیح تربیت کریں اوراس کیلئے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں بلکہ صحیح اور منظم طریقہ سے ہم ایسی عادات کا بچوں کو خوگر بنائیں ،جس کے وہ عادی ہوجائیں، مثلاً معمولی غلطیوں کو بھی نظر انداز نہ کریں، بیجا لاڈ پیار کی وجہ سے بچپن کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگذر نہ کریں۔اگر مائیں نظم وضبط کا خیال رکھتے ہوئے بچوں کو اچھی اچھی عادات و اطوار کا عادی بنائیں گی تو جلد ہی اس کا اثر بچوں میں دیکھنے کو ملے گا۔بچے کی اچھی تربیت جہاں ان کے کامیاب مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے، وہیں یہ معاشرے اور ملک و قوم کی ترقی میں بھی اہم رول ادا کرتی ہے۔ بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار اہم ترین ہوتا ہے ، کم عمری میں بچہ اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتا ہے اس سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے والدین کو اپنے طرز عمل میں بہت محتاط رہنا چاہئے، ناپسندیدہ کاموں سے گریز کرنا چاہئے، بچوں کو جھوٹ بولنے سے منع کرنا ہو تو نصیحتوں کے ساتھ ساتھ خود بھی اس سے پرہیز کرنا چاہئے، خودبخودسچ بولنے کے عادی ہوجائیں گے۔
بچہ جو کچھ بنتا ہے اس میں وراثت سے زیادہ اس کے ماحول اور ماں باپ کی تعلیم و تربیت کاعمل دخل ہوتاہے۔یہاں لفظ تعلیم سے مراد مختلف قسم کے علوم کا حصول ہے اورتربیت سے مراد تزکیہ اخلاق و ادب اور فعل ہے۔ لیکن یہ ذہن میں رہے کہ اسلامی انداز سے تعلیم و تربیت کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ تمام مسلمان اپنے بچوں کوحافظ، عالم اورمفتی ہی بنائیں بلکہ اچھی تربیت کریں اور خلوص دل سے انہیں اچھا انسان اورمسلمان بننے میں مدد کریں۔ انہیں ان کی دلچسپیوں ،صلاحیتوں اور انفرادی اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی شعبہ میں جانے دیں تاکہ وہ اس ملک و قوم کے کارآمد شہری بنیں۔ 
 بچے نہ صرف والدین کی زندگی کا چراغ ہیں بلکہ مستقبل کے معمارِ ملت وقوم بھی ہیں۔اگر ایک طرف والدین کی زندگی میں ستاروں کی تابناکی،چاند کا حسن ،چراغوں کی روشنی ،پھولوں کی خوشبو،پھلوں کی مٹھاس،پیار کی چاشنی،دنیا کی رنگینی ،چہرے کی شادابی، اورشہدکی مٹھاس ان ہی کے دم سے ہے تو دوسری طرف پوری قوم کے مستقبل کا سوال اور ان کی بقا ان ہی معماروں کے ہاتھوں میں ہے۔یقیناً کوئی بھی زیرک،دانشمند اورفہم وفراست کا حامل شخص اپنی یا اپنی قوم کی باگ ڈور اناڑی،کمزور،ناتواں،فہم وفراست سے عاری ،جلدباز،مشتعل کے ہاتھ میں دینا پسند نہ کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔