تازہ ترین

بیک ٹو ولیج کا تیسرا مرحلہ

وقاری پروگرام میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے

تاریخ    2 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


حکومت کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے اور عوام و سرکار کے درمیان موجود خلیج پاٹنے کی غرض سے بیک ٹو ولیج مہم کا تیسرا مرحلہ آج یعنی2اکتوبر سے شروع ہورہا ہے ۔پہلے دو مرحلوں کے برعکس اس بار 5ہزار سے زیادہ گزیٹیڈ افسران 2راتیں اور3دن فی پنچایت میں قیام کریں گے جس دوران وہ گرام سبھائوں کے ذریعے براہ راست لوگوں سے روبرو ہونگے اور اُن کے مسائل سن کر ان کا موقعہ پر ہی نپٹارا یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔
بیک ٹو ولیج کے تیسرے مرحلہ کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کیلئے ایک وسیع عوامی مہم21رو ز تک چلی، جس دوران نہ صرف خود لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کشمیر میں کھنموہ اور جموں میں اکھنو ر میں عوامی پروگراموں میں شرکت کرکے اُن کے مسائل سنے بلکہ اُن کے مشیروں سے لیکر چیف سیکریٹری ، انتظامی سیکریٹریوں ،صوبائی کمشنروں اور تمام ضلعی ترقیاتی کمشنروں نے پروگراموں میں شرکت کی جبکہ اس دوران ان تین ہفتوں میںہر بدھ کو یوم ِ بلاک بھی منایاگیا جس میں ڈپٹی کمشنروں سے لیکر سب ڈویژنل مجسٹریٹوں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کرکے عوامی مسائل سنے اور جن مسائل کا موقعہ پر ہی نپٹارا ممکن تھا ،وہ حل کئے گئے اور باقی مسائل کو منصوبوںمیں شامل کیاگیا۔اتنا ہی نہیں،اس اکیس روزہ عوامی مہم کے دوران ڈومیسائل اسناد سے لیکر آمدن اسناد،ریزرویشن اسناد،پنشن معاملات کے کاغذات کے علاوہ حکومتی امداد سے متعلق موقعہ پر ہی عوام میں تقسیم بھی کئے گئے ۔
اس اکیس روزہ مہم کے دوران عوام اور سرکار کے درمیان ٹوٹے تعلق کو جوڑنے کی کوشش ہوئی اوراب آج سے بیک ٹو ولیج مہم شروع ہونے والی ہے جس میں ایک بار پھر سرکار کے اعلیٰ عہدیدار ہر پنچایت میں قیام کریں گے اور اس دوران مقامی ضروریات کا آڈٹ کیاجائے گا اور مقامی لوگوں کی مشاورت سے گائوں دیہات کی ضروریات کو دھیان میں رکھتے ہوئے پنچایتوں کے منصوبے بنائے جائیں گے تاکہ عوام کی جانب سے نشاندہی شدہ کاموں کو ہی ترجیحی بنیادوںپر دردست لیکر اُنہیں پایہ تکمیل تک پہنچایاجاسکے۔قابل ذکر ہے کہ بنیادی سطح پر حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے پہلے 5کروڑ روپے فی ضلع کو دئے گئے تھے تاکہ پنچایتی سطح پر بیک ٹو ولیج کے پہلے دو مرحلوں کے تحت نشاندہی شدہ کاموں کو مکمل کیاجاسکے ۔اس کے بعد ایک دوہفتہ قبل ہر پنچایت کو دس لاکھ روپے دئے گئے تاکہ بیک ٹو ولیج مرحلہ دوم کے کام مکمل کئے جاسکیں اور اس میں سے 20ہزار روپے دیہی سطح پر کھیل کود کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی غرض سے مختص رکھے گئے تھے جن سے دیہی سطح پر مقامی نوجوانوں میں کھیل کود کے سامان کے کٹس تقسیم کئے گئے۔
اب جبکہ بیک ٹو ولیج کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے تو یہ امید کی جارہی ہے کہ اس مہم کو سنجیدگی سے لیاجائے گا اور پہلے دو مرحلوں کے برعکس اس دفعہ اس پروگرام کو اصل روح کے ساتھ عملایا جائے گا۔اس مہم کا مقصد ہی جمہوری نظام کو بنیادی سطح پر مضبوط بنا نے کے علاوہ ایک جوابدہ اور متحرک انتظامیہ لوگوں کی دہلیز تک پہنچانا ہے اور اگر یہ مقصد فوت ہوا تو پروگرام بے سود ہی رہے گا ۔گزشتہ دو مرحلوں کی خامیوں سے مفر نہیں تاہم اتنا وثوق کے ساتھ کہاجاسکتا ہے کہ بیک ٹو ولیج مہم نے جموںوکشمیر میں حکمرانی کا تصور ہی تبدیل کردیا۔ایک زمانہ ایسا تھا جب سیکریٹریٹ کے بند کمروں سے لیکر ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر میں گائوں دیہات کے ترقیاتی منصوبے بنتے تھے اورلوگ اس عمل سے باکل بے خبر رہتے تھے ۔یہاں تک کہ سرکاری عہدیدار گائوں دیہات کا دورہ کرنے کی زحمت تک نہیں کرتے تھے تاہم اب یہ دور ہے کہ ضلعی یا بلاک سطح پر نہیں بلکہ پنچایت اور دیہات کی سطح پر عوام کی مکمل شراکت کے ساتھ ان کی ضروریات کے مطابق دیہی منصوبے بنائے جارہے ہیں اور سرکار کو اوپر سے نیچے تک ان کے گھروں تک پہنچایا گیا ہے ۔
 وقت آچکا ہے جب عوام کو اس انقلابی پروگرام کے ثمرات اٹھانے میں پیش پیش رہنا چاہئے ۔اب جبکہ آج سے ہر پنچایت میں ایک گزیٹیڈ افسر کی سربراہی میں ایک بڑی سرکاری ٹیم تین دن تک قیام کریں گے تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس تین روزہ قیام کا فائدہ اٹھائیںاور سرکاری افسران سے سوال و جواب کریں تاکہ ان کے خدشات کا ازالہ بھی ہوجائے اور جوابدہی کا عنصر بھی قائم ہو ۔عوامی شرکت سے سرکاری مشینری پر یہ تاثرُ پڑے گا کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور وہ ان کے مالک نہیںبلکہ خدمتگار ہیں ۔عوام جتنا زیادہ سرکاری مشینری کو جوابدہ بنانے کے عمل میں شامل ہوجائیں گے ،اُتنا ہی یہ پروگرام کامیاب رہے گا اور جتنا عوام اس انقلابی پروگرام سے دوری بنائیںگے،اُتنا ہی ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔