تازہ ترین

چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فُغاں میری

یومِ دختران

تاریخ    1 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


عاصف اقبال
پورے ملک میں 27ستمبر کو یومِ دختران کے طور منا یاگیا۔اس حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مقررین لچھے دار تقریریں کرتے ہیں اور پھر نشستند،گفتند اور برخواستند۔یومِ دختران کے نام پر معصوم کلیوں کی اہمیت اور عظمت پر زور دیا جاتا ہے،لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے حوالے سے بہتر ماحول فراہم کرانے کی وکالت کی جاتی ہے،جنسی زیادتوں کا قلع قمع کرانے کی سفارش کی جاتی ہے اور جنسی تفاوت کی روک تھام کے لئے لوگوں میں بیداری مہم شروع کرانے کی اپیلیں بھی کی جاتی ہے۔ گویا یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسو ںسے ایسے ہی چلتا آرہا ہے جسکے نتیجے میں چند خو بصورت عنوانات تر تیب دے کر لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے لئے چند خوبصورت اصطلا حات معرض وجود میں لاکر یوم دختران کا بستر گول کیا جاتا ہے۔کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود بھی بیچاری یہ دختر مظلومیت کے قید خانے میں سسک رہی ہے۔ ملکی حالات پر نظر دوڑائیں تومعلوم ہوتا ہے کہ لڑکیوں کی حالت کس قدر نا گفتہ بہہ ہیں۔ ہزاروں لڑکیاں خود کشی پر مجبور ہیں۔ لیبار ٹریوں میں لاکھوں حاملہ عورتیں اسقاطِ حمل اسلئے کراتی ہیںکہ کہیں وہ لڑکی کو جنم نہ دیں جسکے نتیجے اسکا شوہر اس سے قتل کر ڈالے۔روزانہ بنیادوں پر لڑکیوں سے پیش آنے والے کربناک حالات کا گراف بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دختر جائے تو جائے کہاں۔ در و دیوار پر درندوں نے اپنا پہرہ بٹھا یا ہوا ہے ۔بس دیکھتے ہی ان معصوم کلیوں پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ گلی گلی قریہ قریہ،بستی بستی ،شہر شہر،کیا سکول،کیا ہسپتال،کیا دفتر کیا کھیت کھلیان،کیا میدان،کیا گھر۔ غرض چپے چپے پر دختر کی عصمت کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے ۔ننھی کلیوں کو بخشا نہیں جا تا ہے۔ آصفہ کتنی بڑھی تھی۔کیا گناہ کیا تھا۔کس بے دردی سے پہلے عصمت ریزی اور پھر خون ریزی ہوئی۔غرض دختر کے نام پر کسی خاص دن کو منا نا اور اسکے تحفظ کے لئے اقدامات نہیں اٹھا نا کسی مذاق سے کم نہیں۔کل کی بات ہے کہ ملک کے ایک شہر میں شوہر نے اپنی حاملہ بیو کے سینے میں چاقو سے وار کیا تاکہ اْسے معلوم پڑے کہ بیٹا ہے کہ بیٹی۔ان حالات میں قوم کی بیٹی کے ساتھ ساتھ محد سے لے کر لحد تک سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا جا تا ہے۔گھر میں جنسی تفاوت کی تیز تلوار سے لڑکیوں پر حملے کیے جاتے ہیں اور زندگی کے ہر مرحلے پر حملوں کی بارش اپنا ساتھ نہیں چھوڑ دیتی ہے۔ ان حالات کے علی الرغم اسلام نے لڑکیوں کی عظمت،حفاظت اور اہمیت پر کافی زور دیا ہے۔ لڑکیوں کو پالنا پوسنا عبادت ہے۔انکی تعلیم و تر بیت سے جنت حاصل ہوتی ہے اور بے شمار انعامات حاصل ہونے کے وعدے  کئے گئے ہیں لیکن ہم ہیں کہ  ؎
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جا تا رہا
والدین، عام لوگ اورسرکار اجتماعی طور دختران کو وہ وقار اور تربیت فراہم کرنے میں یکسر نام ہوچکے ہیں جسکے نتیجے میں لڑکیاں منشیات کی عادی بن رہی ہیں اورفحاشیت کی دلدادہ ۔ آخر یہ سب کیوں اور کیسے ہوتا ہے ،اس کے لئے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ بیٹی پڑھائو اوربیٹی بچائوکے بینر تلے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی انکی تعلیمی شرح میں اضافہ نہ ہو سکا اور نہ ہی انہیں وہ مراعات اور سہولیات میسر ہوسکیں جنکے بلند دعوے تو کئے جاتے ہیں۔سرکار اور عوام کو اس دن کی منا سبت سے اپنا احتساب کرنا ہوگا اور دختران کو بھی اپنی عزت و عفت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ حیا ء اور پا ک دامنی سے جینے کا آغاز کرنا ہوگا۔
رابطہ۔aasifiqballolab@gmail.com