تازہ ترین

محرومیت اور ہم

بین الاسطور

تاریخ    1 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


شہباز رشید بہورو
ہمارے پاس دماغ ہے لیکن عقل سے محروم ،دل ہے لیکن احساس سے محروم،بدن ہے لیکن درد سے محروم،بازو ہیں لیکن قوت سے محروم،پاؤں ہیں لیکن حرکت سے محروم ،آنکھیں ہیں لیکن بصیرت سے محروم،کان ہیں لیکن سماعت سے محروم،زبان ہے لیکن الفاظ سے محروم المختصر یہ کہ ہمارایک وجود ہے لیکن باوقار پہچان سے محروم۔ہمارے پاس ملک امن سے خالی،حکمران غیرت سے عاری،معاشرہ نظم کے بغیر ،معیشت قرض کے شکنجے میں اور سیاست قیادت کی محتاج ہے۔اْجڑی بستیاں،بے رونق گلیاں،بے فرد مکان اور مجروح عوام یہی ہیں ہماری پہچان کے پیرا میٹرس۔سب سے زیادہ بیوائیں،سب سے زیادہ یتیم،سب سے زیادہ اسیران زندان اور سب سے زیادہ مظلوم و مغموم  یہی سب کچھ  ہیں ہمارے شب و روز کے نتائج۔ہم آگے ہیں نافرنانی میں،ناشکری میں ،وعدہ خلافی میں،جھوٹ میں ،دھوکے میں،سستی اور کاہلی میں، زلت اور رسوائی میں۔ہم پیچھے ہیں فرماں برداری میں،شکرگذاری میں،ایفائے عہد میں،سچ میں ،معیار میں،چستی اور تندی میں،صبر میں،درگذر میں،نیت میں خلوص میں اور ہر معروف  امورمیں۔یہ اختلافی رسہ کشی ہمیں جامد کر چکی ہے۔ہم چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں لیکن ہماری فطرت ہی اب ایسی بن چکی ہے کہ ہمیں پسنا منظور ہے ،گرنا منظور ہے،بھیک مانگنا منظور ہے،دھکے کھانا منظور ہے،کچل جانا منظور ہے،خواہ مخواہ  میں مرنا بھی منظور ہے لیکن کچھ کرنا منظور نہیں۔جب ایسی طبیت ،ایسا مزاج ہو ،ایسی عادات ہوں ،ایسی فطرت ہو اور ایسا معیار ہو تو ہمارا اس دنیا میں جینے کا انداز کس قانون کے تحت ہے۔کیا ہم غلامی کے دستور کے مطابق جینا چاہتے ہیں ؟ کیا ہم مغلوب ہو کر سانسیں لینا چاہتے ہیں؟ کیا ہم غیروں کی نقل کر کے جینا چاہتے ہیں؟ نہیں نہیں ہمیں نہ غلامی ، نہ مغلوبیت اورنہ  ہی نقل پسند ہے  بس ہمیں دین کے بدلے بے دینی پسند ہے۔سچ تو یہ ہے ہمیں اسلام ،دین ،شریعت سب ناپسند ہے۔ہم شریعت سے آزاد ہو کر باطل سے  چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں،چاہتے  تو ہم ہیں کہ نقل نہ کریں مگر شریعت سے آزاد ہو کر،غالب آنا چاہتے ہیں مگر شریعت سے آزاد ہو کر، خودمختار رہنا چاہتے ہیں مگر شریعت سے آزاد ہو کر،باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چاہتے ہیں لیکن شریعت سے آزاد ہو کریہ سب کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا وقار اور اپنی پہچان کھو کر۔جیسے شیر اپنی کھال اتار کر گیدڑوں کے جھنڈ میں جا کر اپنی گرج دار آواز کے باوجود گیدڑوں کا آسان لقمہ بنتا ہے ۔اسی طرح ہم اپنی پہچان کا لباس اتار کر گرچہ بہادری کی صفت سے متصف ہیں لیکن باطل کی صفوف پرہمارا کوئی خوف طاری نہیں ہوتاہے۔شاہین بلند پرواز ی کی سقت رکھنے کے باوجود پروازِ  بلندسے محروم ہے۔
عمل کے جذبے سے محروم رہنا غلامی کی سند ہے اور غلامی ہماری زلت و رسوائی کی سوغات۔امت کی مجموعی کاہلی نے اسے ہر منکر کے کرنے اور اس پر کاربند رہنے کا ایک بہانہ عطا کیا ہے جسے یہ امت ہر جگہ پیش کرنے میں چست ہے۔کیا خوب کسی نے کہا ہے سستی اور کاہلی ناکامی کی تمہید ہے۔عقائد میں شرک کی آمیزش،عبادات میں سستی کا حملہ اور صالح اعمال سر انجام دینے  میں مختلف بہانے  اس امت  کی  نمائندگی کر رہے ہیں۔محرومی کے اس تالاب میں ہم ڈوبتے ہی جا رہے ہیں اور اس میں تیرنے کے لئے ہم تیرنے کے ہنر سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ کشتی سے بھی محروم ہیں.
محرومیت کے دیار میں ہماری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ہم تقدیر سے مقدمہ لڑ رہے ہیں جو میرے خیال میں انسان کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔اپنی تقدیر کو مجرم اور معتوب ٹھہرانے کی وجہ سے ہمارا معیارِ حقیقی خود ہماری اس کارستانی کی وجہ سے تنگ آکر ہم سے اپنا پیچھا چھوڑانے کی کوشش میں ہے۔اپنے اہلیت ثابت کرنے لئے ہم محض امیدوں کا سہارا لے کر گامزنِ سفر ہیں۔جو قوم جذبہ عمل سے محروم ہوتی ہے وہ صرف بے بنیاد مفروضوں پر اپنا گزارا کرنے کی عادی ہو جاتی ہے ،اس کی نظریں اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کے بدلے غیروں کی  صلاحیتوں اورقوتوں پر ہوتی ہے،اس کے اپنے قیمتی علمی نظریات کو غیر اقوام سمجھتی اور اپناتی ہیں،وہ اپنی کامیابی کی مثال اسلاف کی تاریخ سے پیش کرکے خود کو بری سمجھتی ہے، اس کی نوجوان نسل خواب غفلت میں ڈوب کر ہوشیاری کا مظاہرہ کرتی ہے،اس کے معززین عزت پانے کے لئے خالص لباس پر اکتفاء کرتے ہیں ، وہ اپنی بہادری کا سکہ خالی نعروں کے ذریعے جمانا چاہتی ہے اور وہ اپنی ذہانت رکھنے کے باوجود دوسروں کی ذہانت کی داد پیش کرتی ہے۔
ہماری محرومیت کی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیاجائے تو ایک خاص نقطہ نظر کی تبدیلی کے نمایاں آثار ملتے ہیں وہ یہ کہ ہم نے محبت کے اسلامی مفہوم کو جان بوجھ کر بدل ڈالا ، محبت کا مرکز ومحور تبدیل کردیا اور محبت کا حتمی نشانہ دنیا،مال اور اولاد کو بنا ڈالا۔اس جرمِ عظیم کے ارتکاب کے بعد ہم نے اپنا  معیاری رنگ اور ڈھنگ بدل کے رکھ دیا۔اس تبدیلی کے بعدایسے ایسے کردار ہماری سیاسی سطح پر نمودار ہوئے جنہوں اسلام کی ایسی غلط نمائندگی کی کہ پورے عالم کو اسلام کے فوائدسے محروم رکھنے کے جرم میں شامل ہوئے۔ان لوگوں نے خباثت کی وہ بدترین مثالیں قائم کیں کہ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود کی عملی تعبیر پیش کرنے میں اول مقام حاصل کر لیا۔ان کم بختوں نے جس طرح اس امت کا سودا کیا ہے اس کا حساب کتاب تو اللہ کے حضور انھیں جلد از جلد دینا ہو گا۔مجھے یہ سطور لکھنے میں یہ شرم آتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بے غیرتی ،دھوکہ دہی،مکاری،حرص وطمع ،ضمیر فروشی،ایمان فروشی اور ملت فروشی کی ایک مفصل تاریخ رقم کی ہے۔
رابطہ۔ 7780910136

تازہ ترین