تازہ ترین

ریاستی درجہ کی بحالی احساس محرومیت دور کرنیکی کنجی

حقوقِ اراضی سے متعلق جامع ڈومیسائل قانون لایا جائے:الطاف بخاری

تاریخ    1 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے حکومت پرزور دیا ہے کہ بلا کسی تاخیر جموں وکشمیر کے مستقل باشندگان کو اراضی حقوق تحفظ فراہم کرنے کے لئے جامع اقامتی قانون لایاجائے۔ لال چوک سرینگر میں پارٹی لیڈران کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ اگرچہ نئی ترامیم قابل تعریف ہیں لیکن پھر بھی نوکریوں کیلئے اقامتی قانون کے ترمیم شدہ وژن میں کوالیفائڈ مدت کے سلسلے میں کچھ تفاوت دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کو عدالتی جائزہ سے محفو ظ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی مستقل باشندگان کے لئے اراضی پراقامتی قانون کے لئے بھر پور کوشش کریگی۔ انہوں نے کہا’’ اپنی پارٹی سبھی مستقل شہریوں کو جامع ڈومیسائل قانون کی صورت میں ہر قسم کی اراضی اور غیر منقولہ جائیداد پر مکمل حقوق یقینی دلانے کی وعدہ بند ہے‘‘۔  اجلاس کے دوران ریاستی درجہ کی بحالی، اراضی اور نوکریوں پر ڈومیسائل حقوق، سیاسی نظر بندوں کی رہائی، یومیہ اجرت ملازمین کی ریگولر آئزیشن، جیالوجی اور مائننگ حقوق کے لئے جامع پالیسی،سیاحت اور اِس سے منسلک شعبہ جات کی احیاء نو، جموں وکشمیر میں بہتر علاقائی رابطے،انسانی حقوق کے خلاف صفر فیصد عدم برداشت، کویڈ19کی بد انتظامی، کشمیری پنڈت برادری کی فلاح وبہبود،پہاڑی طبقہ کو دی جارہی چار فیصد ریزرویشن پر لگائے گئے انکم سلیب کوہٹانے، سرحدی علاقہ جات میں بنکروں کی تعمیرکے لئے قرار دادیں بھی پاس کی گئیں۔ بخاری نے کہاکہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان بہت زیادہ دوری ہے، عوامی حکومت کتنی بھی بُری ہو، وہ گورنر راج سے حد درجہ بہتر ہوتی ہے۔ بخاری نے جموں وکشمیر میں ساز گار ماحول تیار کرنے کے لئے ریاستی درجہ کی بحالی اور سبھی سیاسی نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا’’لوگوں کی مایوسی دور کرنے کیلئے ریاستی درجہ کی بحالی ناگزیر ہے ۔ حکومت ِ ہند کو نہ صرف ریاستی درجہ بحال کرنا چاہئے بلکہ لوگوں میں بڑھتی مایوسی دور کرنے کے لئے جمہوری عمل کا بھی آغاز کرنا چاہئے۔ بخاری نے حالیہ اعلان کردہ 1350کروڑ روپے کے مالی پیکیج کو اچھی شروعات قرار دیاتاہم جموں وکشمیر میں تباہ حال معیشت کی بحالی کے لئے فراخدلانہ رقومات دینے کی مانگ کی ۔ انہوں نے سابقہ حکومتوں کی طرف سے مختلف سرکاری محکمہ جات میں بھرتی کئے گئے ڈیلی ویجرز، عارضی ملازمین، کنسالیڈیٹیڈ، سی پی ورکرز، آئی ٹی آئی تربیت یافتہ، این ایچ یم، این وائی سی، ایچ ڈی ایف اور اڈہاک ملازم کی مستقلی کے لئے حکومتی پالیسی کی فوری عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ اپنی پارٹی صدر نے شوپیان انکاؤنٹر میں مارے گئے راجوری کے تین نوجوانوں کے اہل خانہ کو نوکری اور معقول معاوضہ دینے، قصور واروں کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ سوپور واقعہ کی غیر جانبدارانہ طریقہ سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ۔ اجلاس میں سنیئر نائب صدر غلام حسن میر، نائب صدر ظفر اقبال منہاس، جنرل سیکریٹری رفیع احمد میر، صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر، ترجمان جاوید بیگ، صوبائی نائب صدر جگموہن سنگھ رینہ، ضلع صدر سرینگر نور محمد شیخ، ضلع صدر اننت ناگ عبدالرحیم راتھر اور ضلع صدر بارہمولہ شعیب احمد لون کے علاوہ سنیئرلیڈر محمد دلاور میر، عبدالمجید پڈر، راجہ منظور، غلام محمد باون، جاوید مرچال، منتظرمحی الدین، سید فاروق اندرابی، محمد اشرف ڈار، مدثر احمد خان، عرفان نقیب، نذیر احمد وانی (دیلگامی)، مشتاق احمد گنائی ، ڈاکٹر میر سمیع اللہ، شوکت غیور، غلام محمد میر، عماد رفیع میر، جاوید احمد میر، اعجاز احمد راتھر، جیلانی کمار، عبدالرشید ہارون، میر تجمل اشفاق، مظفر حسین ریشی، امتیاز احمد راتھر، خورشید احمد ملک، عبدالرشیدبٹ، محسن ظفر شاہ، محمد یٰسین اور محمد شفیع میر نے شرکت کی۔