تازہ ترین

بابری مسجد انہدام کا معاملہ| ایڈوانی، جوشی، اوما بھارتی سمیت سبھی 32ملزمان بری

سی بی آئی خصوصی عدالت نے28سال بعد فیصلہ سنایا

تاریخ    1 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی
 لکھنؤ//بابری مسجد انہدام معاملے میں 28سال کے بعد سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بدھ کو اپنے فیصلے میں سبھی 32ملزمین کو بری قرار دیتے ہوئے کہا کہ6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام میں شرپسند عناصر کا ہاتھ تھا۔ عدالت نے سبھی ملزمین کو انہدامی کاروائی یا کسی بھی قسم کی سازش سے بری قرار دیتے ہوئے آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کو بھی بری الذمہ گردانا ہے ۔خصوصی جج ایس کے یادو نے بابری مسجد مسماری کے ملزم سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سمیت سبھی 32ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی اس معاملے میں کوئی پختہ ثبوت پیش نہیں کرسکی ۔اسپیشل جج نے کہا'سی بی آئی ملزمین کے خلاف جرم ثابت نہیں کرپائی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مانا کہ ملزمین نے بھیڑ کو خاموش کرنے کی پوری کوشش کی تھی اور ان کا بابری مسجد گرانے میں کوئی کردار نہیں تھا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بابری مسجد کی مسماری منصوبہ بند سازش کا حصہ نہیں تھی۔ ملزمین نے ڈھانچے کو منہدم کرنے پر آمادہ بھیڑ کو خاموش کرنے کی کوشش کی۔وشو ہندو پریشد کے سابق صدر اشوک سنگھل نے لوگوں کو سمجھانے کی پوری کوشش کی لیکن شرپسند عناصر نے مسجد کو مسمار کردیا۔ لیڈر بھیڑ کو خاموش کررہے تھے نہ کہ انہیں اکسا رہے تھے ۔ مسجد کے عقب سے پتھر بازی بھی کی گئی۔
سی بی آئی کے خصوصی جج نے کہا کہ یہ آخری فیصلہ تھا ۔ایک سال کی توسیع کے بعد ان کا میعاد کار آج ختم ہوجائے گا۔ فیصلے کے وقت 32ملزمین میں سے 26عدالت میں موجود تھے ۔ جج نے کہا کہ ملزمین کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہیں ہیں لہٰذاسبھی کو بری کیا جاتا ہے ۔جج نے کہا کہ کار سیوکوں کا مسجد منہدم کرنے میں کوئی کردار نہیں ملا ہے ۔ کارسیوک ایک ہاتھ میں بوتل اور ایک ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ لئے ہوئے تھے ۔عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے پیش کئے گئے ویڈیو کو بھی قبول نہیں کیا۔اس بارے میں دفاعی وکیل منیش ترپاٹھی نے بحث کے دوران دلیل دی تھی کہ ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔جج نے سی بی آئی کی جانب سے پیش کئے گئے فوٹو گرافس کو بھی ناکار دیا کیونکہ جانچ ایجنسی ان فوٹیز کے نیگیٹیو عدالت کے سامنے نہیں پیش کرسکی۔جج دفاعی وکیل کے اس دلیل سے متفق تھے کہ سی بی آئی نے دفاعی ایکٹ کے میعارات پر عمل نہیں کیا ہے ۔دفاعی وکیل ترپاٹھی نے فیصلے کے بعد میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ عدالت نے مانا ہے کہ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کا بابری مسجد منہدم کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے ۔مسجد کو شرپسند عناصر نے منہدم کیا تھا۔خصوصی جج نے کہا کہ ایک بھی ملزم کے خلاف بھیڑ کو مشتعل کرنے کے سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ سی بی آئی نے معاملے میں کل 49ملزمین کے خلاف 350گواہ پیش کئے تھے جسے سی بی آئی کی دفعہ 351 کے تحت سرے سے خارج کردیا گیا۔ فیصلے کے دن 32ملزمین میں سے 26نے عدالت کے سامنے اپنی موجودگی درج کرائی جبکہ لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی،اوما بھارتی، کلیان سنگھ،مہنت نرتیہ داس اور ستیش پردھان عدالت میں موجود نہ تھے ۔
عدالت میں پیش ہونے والوں میں موجودہ رکن پارلیمان برج بھوشن سنگھ،ساکشی مہاراج، للو سنگھ کے علاوہ پون پانڈے ،آر این شریواستو، رام ولاس ویدانتی، چنپت رائے ،دھرم داس،ونئے کٹیار،سادھوی رتمبھرا، پرکاش شرما،وجے بہارد سنگھ، سنتوش دوبے ، گاندھی یادو، رام جی گپتا، کملیش ترپاٹھی، رام چرن کھتری،جئے بھگوان گوئل،اوم پرکاش پانڈے ،امرناتھ گوئل،جئے بھان پاوائیا،وجے کمار رائے ،نوین بھائی شکلا،اچاریہ دیو ،سدھیر کمار ککڑ اور دھرمیندر سنگھ گرجر شامل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ لمبی سماعت کے دوران ملزمین میں سے گری راج کشور، اشوک سنگھل، وشنو ہری ڈالمیا،بیکنڈھ لال شرما، بال ٹھاکرے ،، ونود کمار باس، رام نارائن داس، ہرگوند سنگھ،لکشمی داس، رامیش پرتاپ سنگھ،دیویندر بہادر رائے ،موریشور دوبے ،جگدیش منی،رام چندر پرم ہنس داس،اور ستیش ناگر کی موت ہوگئی۔گذشتہ 28سالوں کے دوران کئی بار معاملے کی سماعت اور جانچ پٹری سے اترتی دکھائی دی لیکن گذشتہ مہینے سماعت پوری ہونے کے بعد وقت پر فیصلہ سنائے جانے کی امید بندھی رہی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد سی بی آئی کی خصوصی عدالت سال 2017 سے معاملے کی یومیہ سماعت کررہی ہے ۔ اس دوران سبھی ملزمین کے بیان درج کئے گئے ۔