قبر کشائی کے بعد شوپیان مبینہ فرضی معرکہ آرائی کے مہلوکین کی میتیں لواحقین کو سونپی جائیں گی

تاریخ    30 ستمبر 2020 (19 : 04 PM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//انسپکٹر جنرل آپ پولیس کشمیر رینج وجے کمار نے بدھ کو کہا کہ شوپیان امشی پورہ مبینہ فرضی جھڑپ میں جوتین افرادہلاک ہوگئے اُن کی میتیں لواحقین کو سونپی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قبر کشائی کے بعد میتوں کو لواحقین کو سونپنے کا کام ضروری قانونی کارروائی کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔
نیوز ایجنسی جی این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے آئی جی کشمیر نے کہا کہ ضروری قانونی لوازمات پوری کرنے کے بعد قبرکشائی کرکے لاشوں کو نکال کر متعلقہ گھرانوں کو سونپی جائیں گی۔
آئی جی کشمیرکا یہ بیان متعلقہ گھرانوں کے مسلسل مطالبے کے بعد سامنے آیا جس میں وہ ابرار احمد، امتیاز احمد اور محمد ابرار نامی اُن نوجوانوں کی لاشیں لوٹانے کا اصرار کررہے تھے۔ 
مذکورہ تینوں نوجوان18جولائی کے روز امشی پورہ شوپیان میں ایک مبینہ فرضی جھڑپ میں جاں بحق کئے گئے۔
مذکورہ نوجوانوں کے گھروالوں نے اُن کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ جنگجو نہیں بلکہ مزدور تھے اور مزدوری کی غرض سے ہی شوپیان گئے ہوئے تھے جہاں بقول اُنکے فوج نے اُنہیں فرضی معرکہ آرائی میں جاں بحق کیا۔
مہلوک نوجوانوں کے گھروالوں کے اس الزام کے بعد فوج اور پولیس نے اپنی اپنی سطح پر معرکہ آرائی کی تحقیقات شروع کی ۔
فوج نے پہلے ہی مذکورہ معرکہ آرائی کے دوران ”قواعد کی خلاف ورزی“ کا اعتراف کیا جبکہ پولیس نے مہلوک نوجوانوں کے والدین کے ڈی این اے نمونے حاصل کئے جو مہلوکین کے ساتھ مل گئے۔