تازہ ترین

صلاحیت کے خزانے پر کہالت کا پہرہ

معاشرہ

تاریخ    30 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


فدا حسین بالہامی
خالق ِ کائنات کے عظیم شاہکار یعنی انسان کی خلقت و ماہیت اس قدر پیچیدہ ہے کہ ترقی کے ہزار ہا منازل طے کرنے کے باوجود بھی اس خلقت کی ابتدائی گرہیں کھولنے میں انسان کا تخلیق کار دماغ اب تک قاصر ہے۔ بقولِ امام علیؑ یہ انسان عالمِ اصغر ہے اس میں عالم اکبر پوشیدہ ہے۔ اس سلسلے میں متذکرہ ’’عالمِ اکبر‘‘ کی پہچان اور شناخت ایک بنیادی مرحلہ ہے ۔ مگر اپنے باطنی دنیا کی دریافت ایک آدمی کے لئے نہایت ہی مشکل امر ہے۔ اور اس کی تخلیق کا راز ہر کس و ناکس پر آشکار نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ اس معاملے میںاکثر  اجتہادی مراحل طے کرنے والے بھی خطا  سے مبرہ و منزہ نہیں رہ پاتے ہیں۔مقام المیہ یہ ہے کہ کوزے میں سمندر رکھنے کے باوجود یہ خود سے ناآشنا انسان مارا مارا گدا گری کر رہا ہے۔ خود ناآشنائی کا لازمی نتیجہ اصل ہدف اور منزل سے انحراف ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایک غیر مرئی عالم جو نگاہِ معرفت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ بے بصیرتی کے ہاتھوں تباہ و بربادہو جاتا ہے۔ اور اس تباہی کااصل ذمہ دار وہی اشرف المخلوقات ہے کہ جس کے حوالے اس ان دیکھے عالم ِ اکبر کی حکمرانی سونپی گئی تھی۔ بسا اوقات ناآشانی کے مراحل عبور کر کے یہی شاہکارِ خالق  ایک اور عظیم مصیبت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اور وہ مصیبت ہے قدر ناشناشی۔سیدھے سادھے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ بعض دفع ایک فرد کسی شئے کی اہمیت و افادیت سے آشنا ہوسکتا ہے لیکن کسی وجہ سے اس کی واقعی قدر کرنے کے سلسلے میں کوتاہ دستی سے کام لے۔ لیکن ایک آفاقی اصول ہے کہ کوئی بھی چیز اس کی قدر شناسی اور صحیح استعمال سے ہی سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔ پرانی کہاوت ہے ’’کہ جس چیز کی تم قدر کرو وہ تمہاری قدر داں ہوگی‘‘۔ چنانچہ یہ آفاقی اصول پوری دنیا پر لاگو ہے۔یعنی کائنات کی ہر شئے طوعاً اپنے مقصد تخلیق کے عین مطابق سرگرم عمل ہے ۔دنیا کی ہر شئے اس احسنِ تخلیق یعنی انسان کی خدمت میں ہمہ تن مشغول ہے لیکن انسان کو چونکہ بے شمار نعمتوں سے نوازا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو ان نعمات کا صحیح استعمال کر کے ان کو اپنے تئیں فائدہ بخش بنا سکتا ہے اور چاہے تو ان کا غلط استعما ل کر کے ایک نعمت کو زحمت میں تبدیل کر سکتا ہے۔اس اعتبار سے دیگر تمام مخلوقات لازماً اپنے مقصدِ خلقت کے پابند ہیں۔ بجز انسان کے کہ وہ ان فطری تقاضوں کو پایہ ٔ تکمیل تک لے جانے کے لئے کسی حد تک بلکہ بہت حد تک آزاد و خود مختار ہے۔ مثلاً سورج ہر روز اپنے خالق سے تفویض شدہ ماموریت کے عین مطابق اپنی نورانی خصلت سے شبستان وجود کو نورانی خلعت سے نوازتا ہے یہ اب اسی اشرف المخلوقات پر منحصر ہے کہ وہ اس روشن نوید کو بگوشِ ہوش سنے نیز پیامِ صبح پر عملی طور لبیک کہہ کر میدان عمل میں کود پڑے یا پھر غفلت کی چادر اوڑھے بیدار ہونے کا نام نہ لے۔وعدہ ٔ فطری سے مکر جانا اکثر اسی کا شیوہ رہا ہے ورنہ خالق کے وا کردہ عنایتوں کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے ہیں۔پیاسے کے پاس خود صاف شفاف پانی آکر اسے دعوتِ نوش دے مگر وہ اپنی ہی پیاس بجھانے پر مائل نہ ہو تو خطا کس ہے پیاسے کی یا پانی کی؟
ابن آدم پر خالق ِ بنی نوع آدم کی نعمتیں اس قد ر فراوان ہیں کہ اگر تمام انسان مل کر صرف ایک انسان کو حاصل شدہ نعمتوں کا احصاء کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہی اس کائنات کا میر محفل ہے اسی کے لئے بے شمار خزانوں سے پُر فرشِ زمیں کو بچھایا گیا ہے۔ آفتاب و ماہتاب اور ان گنت ستاروں سے مزّین نیلگوں آسمان کا شامیانہ سجھایا ہے۔چنانچہ فرقان ِ حمید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اللہ وہ ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا ہے، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو انہیں سات آسمان بنایا، اور وہ ہر چیز جانتا ہے۔‘‘(سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۹)
 ہرآن نت نئی نعمتوں کاانکشاف اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ آج تک ظاہر شدہ نعمتوں کے علاوہ نہ جانے کتنی نعمتیں پس پردہ ہیں کہ جن کا ظہور وقتِ مقررہ پر ہوتا رہتا ہے۔بہت سی نعمتوں کااستعمال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر جب سے پٹرولیم اور گیس کا نفع بخش خزانہ  برآمد ہوا ہے اس کے استعمال میں آئے دن کوئی نہ کوئی نئی دریافت سامنے آتی رہتی ہے ۔لگتا ہے کہ ربِ کریم کے جود وکرم کا سرچشمہ کبھی تھمے گا نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ قدرت ایک کامل نظام کائنات اور مکمل کائنات کے باوجود بھی زینت ِکائنات یعنی انسان کی مہمان نوازی کے لئے مطمئن نہیں ہے۔ اور بزبان حال یہ آواز دی رہی ہے کہ  ؎
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید 
آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں
ربِ کائنات نے اپنے نمائندے یعنی بنی نوع آدم کی موافقت اور سہولت کے لئے اپنی فیاضی کے سمندر بہا دئیے ہیں۔ان نعمتوں کا احاطہ کرنا  ناممکن ہے البتہ خداوند کریم کی عطا کردہ نعمتِ الوان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جو انسان کے وجود میں ہی موجود ہیں دوسری وہ جو اس وجود کی خدمت گزاری پر مامور ہیں۔ قرآنی اصطلاح میں اول الذکر نعمات کو ’’انفس‘‘ اور ثانی الذکر کو ’’آفاق‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔افسوس صد افسوس انسان کو نہ ’’انفس ‘‘ یعنی اپنے وجود کی بیش قیمتی کا کوئی اندازہ ہے اور نہ ’’آفاق‘‘ میں ہزارہا عنایاتِ پروردگار کی موجودگی کا احساس ہے۔گویا یہ نہ صرف دیگر عنایتوں سے بے خبر ہے بلکہ اپنی وجود میں چھپی بے پناہ صلاحیتوں سے بھی نا آشنا ہے۔ کیونکہ انسانی حیات بہر طور صلاحیتوں اور قابلیتوں سے بھر پور ہے۔ ہائے یہ نا آشنائی کہ یہ تمام تر صلاحیتیں ایک مدت تک قفس عنصری میں مقید رہتی ہیں۔ اور آخر کار فریاد کناں بارگاہِ ایزدی میں واپس چلی جاتی ہیں نیز خداوندِ عادل سے اس فردِ ناآشنا کے خلاف اس کا فردِ جرم دائر کرتیں ہیں۔ خداوندا! تو نے ہمیں  بطورِ امانت جس شخص کے سپردکیا تھا اس نے کبھی ہماری طرف توجہ ہی نہ کی۔ وہ یا تو غافل رہا یا ہماری معرفت و پہچان کے باوجود ہم سے جی چراتا رہا ۔ اور لغویات کے کٹھور دھندے میں ایسا الجھا رہاکہ ہماری طرف نظر اٹھا دیکھنے کی اسے فرصت ہی نہ ملی۔یہاں پر یہ بات کہنا خارج از موضوع نہ ہوگا کہ یقناً وہی انسان اپنے وجود سے باہر والی عنایتوں کا قدر شناس ہو سکتاہے کہ جو اپنے وجود کے اندر پوشیدہ نعمتوں اور صلاحیتوں کا قدر دان  ہو۔کس قدر بد بختی کا مقام ہے کہ کل پیش پرودگار انسان کا اپنا وجود ہی اس کی قدر ناشناسی کا مقدمہ دائر کرے اور سورہ یاسین کی ایک آیت کے مطابق اس کے ہاتھ پیر ہی اس کے خلاف گواہی پیش کریں۔یقینا اس وقت انسان کے پاس کوئی بھی قابلِ قبول عذر نہ ہوگا۔کیونکہ وہ اس جہانِ رنگ و بو میں اپنے وجود کو کھو بیٹھا ۔ اپنے مقصدِ خلقت کو فراموش کر بیٹھا۔اور اپنی قابلیت و صلاحیت کی تلوار کو کبھی بھی اپنی کہالت ، سہل پسندی، عیش کوشی ، آرام طلبی، کی میان سے باہر نکالنے کی معمولی سی تکلیف بردشت نہیں کی ،خزانۂ صلاحیت پر مختلف قسم کے بہانوں کے پہرے بٹھا رکھے۔ آج کو کل اور کل کو پرسوں پر ٹالتا گیا۔ یہاں تک کہ زندگی کے پردے پر موت کی جیتی جاگتی اور بولتی چالتی تصویردیکھ کر چونک اٹھا ، ایک طرف خداوندکریم کی نعمتوں کا ہجوم دامن گیر ہو کر شکوہ سنج ہوا۔ کہ تم نے ہمارا صحیح استعمال کیوں نہیں کیا؟ تو دوسری جانب اپنی غفلتوں کے پھندے گلو گیر دشمن جاں بن گئے ایسی حالت میں بیچارہ انسان کرے تو کرے کیا ۔ اک آہ ِ سرد لیکر اپنے خالق کی بارگاہ میں ایک ایسی آرزو کا اظہار کچھ اندازسے کرے گا۔ جس کا پورا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ فیقول رب لو اخرتی الیٰ اجل قریب ’’اے پرودگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ خیرات کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوتا۔‘‘ 
رابطہ نمبر۔7006889184