تازہ ترین

مصنوعی ذہانت(آرٹیفیشل انٹیلی جنس

جدید دور میں سائنس کا عظیم شاہکار

تاریخ    30 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سیدہ قنوت زہراء
خود کاری(Automation) بنی نوع انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے ۔دنیا کی زیادہ تر ایجادات(Inventions) اسی خواہش کا نتیجہ ہیں ۔ مصنوعی ذہانت(Artificial Intelligence) جس سے مراد کہ ہم کمپیوٹر یا مشینوں کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کریں کہ وہ انسانوں کی طرح سوچ کر خود عمل کرنے کی اہل ہوں ۔ایک اور تعریف کے مطابق کمپیوٹر میں ایسی ہدایات(Instructions) داخل کر دی جائیں کہ وہ منطقی(Logical) طریقے سے سوچ سکے اور کام کر سکے ۔اس فن(Technology) کی بدولت ہم اپنے روز مرہ کے بہت سے ٹاسک کمپیوٹر کی مدد سے آٹومیٹک انجام دے سکتے ہیں ۔مصنوعی ذہانت کی تاریخ بہت پرانی ہے اس کے آثار ہم کو ارسطو کے فلسفہ ،خوار زمی کے الجبرا ،چومسکی کے لسانیات ،معاشیات اور علم نفسیات میں بھی ملتے ہیں۔جدید دور میں اس کی بنیاد اُس وقت پڑی جب منسکی(Minsky) اور ایڈمن(Edmon) نے پہلا نیورل کمپیوٹر بنایا ۔1956میں اس فلیڈ کو باقاعدہ آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا نام دیا گیا ۔اُس وقت سے لے کر اب تک یہ شعبہ کئی ایک عروج و زوال کے مراحل سے گذر چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا مقصد فیصلہ سازی میں انسانی مداخلت کو کم کرنا ہے ،مصنوعی ذہانت ہر صورتحال میں انسانی دماغ کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔لیکن بہت سارے کام ایسے بھی ہیں جن کا سر انجام دینا انسانی دماغ کے بس کی بات نہیں جیسا کہ جہاز کی پرواز کے لئے کمپیوٹر کی مدد درکار ہوتی ہے ۔یہ عمومی نقطہ نظر ہے کہ مصنوعی ذہانت نے بہت سے روزگار ہڑپ کر لئے ہیں۔ لیکن جب بھی ایک قسم کا روزگار ختم ہوتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے جیسا کے ’’کافی مشین‘‘(Coffee Machine)کی ایجاد کے بعد کافی(Coffee) تیار کرنے کے لئے انسان کی ضرورت نہیں لیکن کافی تیار کرنے والی مشین سے فیکٹری میں روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہو گئے ۔اس کام پہ مزید تحقیق جاری ہے کہ انسان نما روبوٹ تیار کئے جائیں۔یہ روبوٹ کسی حد تک تو کام کر سکتے ہیں جیسا کہ چہرہ شناسی لیکن اعلی سطح کی ذہانت ممکن نہیں جیسا کہ حالات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ۔
مصنوعی ذہانت مختلف علاقوں جیسے طب کے شعبوں میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔جہاں طبی سہولیات پہنچانا ممکن نہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ افریقہ میں ہر منٹ کے بعد ایک بچہ ملیریا اور دیگر مہلک امراض جیسا کہ ذیکا وائرس کی وجہ سے موت کاشکار ہو جاتا ہے ۔اس ٹیکنا لوجی کے ذریعہ ہم دیہی اور دور دراز کے علاقوں کے باشندوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کے قابل بنا سکتے ہیں ۔اس مقصد کے لئے ہم بڑے ہی سادہ قسم کے صحتی حفاظت کے طریقہ کار استعمال کر سکتے ہیں ۔ زیادہ تر بیماریاں آلودہ پانی اور جانوروں کی وجہ سے پھیلتی ہیں بلکہ بعض پیدائشی بھی ہوتی ہیں۔ یہ بیماریاں دیہی علاقوں میں بڑی تیزی سے پھیلتی ہیں اور بعض اوقات ان پر بڑی آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے ۔جس کی معلومات لوگوں میں نہیں ہوتی اور اس کے ضمن میں موبائل طبی سہولیات بھی مہیا کرائی جاسکتی ہیں ۔جس کو ایک عام آدمی بھی کام میں لا سکتا ہے ۔دیہی علاقے کے لوگوں کو یہ تربیت بھی دی جا سکتی ہے کہ وہ خود اپنی صحت کا خیال رکھیں ۔سادہ مصنوعی ذہانت کے طریقہ کار سے مختلف آبادیوں کی صحت کے ریکارڈ کی چھان بین ممکن ہے جیسا کہ بڑے ہسپتالوں میں یہ سہولت مووجود ہوتی ہے ۔تشخیص کے مختلف طریقہ کاروں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت سی بیماریوں کا علاج ممکن ہے ۔سادہ مصنوعی ذہانت کے تشخیصی طریقہ کار سے وہ سادہ اصول جن کے ذریعے ڈاکٹر تشخیص کرتے ہیں ،کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے ۔جدید مصنوعی ذہانت کے تشخیصی طریقہ کار میں خون کے نمونوں کا ٹیسٹ بھی ممکن ہے ۔مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی صحت کی حفاظت کا ذمہ خود لیں جس سے ایک صحت مند اور خوشگوار معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔
انڈسٹری میں استعمال ہونے والی مشینری نہایت قیمتی ہوتی ہیں اور اس کی مناسب دیکھ بھال بہت ضروی ہے ۔صنعتی مشینوں کے دیو ہیکل وجود مسلسل معائنہ کے متقاضی ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ ان کی تنصیب دور دراز ہوتی ہے ۔اس لئے ان تک رسائی بھی مشکل ہوتی ہے اس کے علاوہ یہ بہت حساس ہوتے ہیں اور معمولی نقصان بھی بہت بڑے حادثہ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔ان صنعتوں میں تیل ، گیس ،نیو کلیائی پلانٹس ،ہوائی چکیاں ،ذرائع آمد و رفت اور ریلویز شامل ہیں جو کہ اپنی اہمیت کے پیش نظر مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت رکھتی ہیں ۔انسان زیادہ درجہ حرارت اور نا قابل رساجگہ کے باعث چلتی مشینوں کا معائنہ نہیں کر سکتا اور روبوٹس اس کام کا بہتر آپشن یا متبادل ہیں ۔
غیر تخریبی جانچ میں ماہر ،انتہائی قابل معائنہ کاروں اور روبوٹس کا تعاون کسی بھی ڈیٹا کے تجزیہ کو آسان اور فیصلہ سازی کی قوت کو تیز بناسکتا ہے ۔ایسے روبوٹس ظاہری معائنہ اور سرولینس میں نہایت معاون ثابت ہوتے ہیں ۔روبوٹک مشینری آئل اور گیس ٹینک کی لکیج ،زنگ خوردگی اور جمع شدہ فاضل مادوں کی تشخیص میں بہت معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔روبوٹس نیو کلیئر پلانٹس سے لے کر کثیر المنزلہ عمارت کی ساخت میں موجود نقائص کی بآسانی نشاندہی کر سکتے ہیں ۔ایسے متحرک روبوٹس بنائے جا رہے ہیں جو کسی بھی نازک اور اہم انفرا سٹرکچر کی سلامتی کو جانچ سکیں اور اس کی حفاظت کو یقینی بناسکیں۔اس کے معائنہ اور مرمت کی قیمت کو کم کریں اور ممکن ہو تو مشینری کو بند کئے بغیر اس کی جانچ پڑتال کر سکیں ۔بلاشبہ اصل مقصد ان کا رکنان کی حفاظت ہے جو ایسے خطرناک ماحول میں اپنا کام سر انجام دیتے ہیں ۔ بہت سے غوطہ خوروں کی اموات واقع ہو چکی ہیں جو سمندر اور دوسری تہوں میں ایسے اسٹرکچرز کی مرمت و معائنہ کرتے ہیں ۔
تاہم روبوٹس کی تخلیق بہت سے مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے ۔اس ضمن میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ مشینی سسٹم شفاف اور تعصب سے پاک ہوں ۔اس کے علاوہ روبوٹک مشین کے کامیاب استعمال کے لئے مناسب ٹریننگ چاہئے ہوتی ہے جو کہ وقت طلب بھی ہے ۔بسا اوقات یہ مشینیں ایسے نتائج بھی اخذ کر سکتی ہیں جو کہ غلط اور تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں ۔اس کے علاوہ ان سے غیر مستقل ،جانبدار اور بے تکے نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں ۔مصنوعی ذہانت پر یو۔کے کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈیٹا کا بہت زیادہ حجم ،اس کا ذریعہ حصول اور اس کا نامناسب استعمال غیر حقیقی نتائج کی طرف لے جا سکتا ہے ۔روبوٹ،کمپیوٹر اور دوسری ٹیکنا لوجی کے اشتراک سے ایسی مخلوق تشکیل دی جا رہی ہیں جو کئی گنا زیادہ ذہین ہونے کے باعث انسان پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہیں ۔لوگوں میں یہ ڈر ہے کہ مشینیں مصنوعی نظام تنفس  تک کو کنٹرول کر رہی ہیں اور اگر ان کا کنٹرول انسان کے ہاتھ سے نکل گیا تو ناقابل تلافی نتائج کا سامنا کرناپڑسکتاہے ۔ان مسائل کا تدارک مصنوعی ذہانت کے الگورژم تشکیل دے کر ان میں جانبداری تلاش کرنے کے لئے ان کی چھان بین میں ہے ۔اس کے علاوہ حکومت کو ایسے نظام اپنے کنٹرول میں رکھنے چاہئیں جن کی رسائی حساس معلومات تک ہے ۔یورپی یونین نے ڈیٹا معلومات کے استعمال سے متعلق ایک قانو ن بھی متعارف کرایا ہے جس کے مطابق کوئی بھی یورپی شہری اپنے متعلق معلومات کو تلف کروانے کا حق رکھتا ہے ۔
آج سے کچھ سال قبل جب ہم کسی بینک میں جاتے تھے تو انسانی عملہ ہمارے روبرو ہوتا تھا لیکن اب انسانوں کی جگہ روبوٹس اور مشینوں نے لے لی ہے ۔اگر مشین ہماری کمانڈ ماننے سے انکار کر دے تو ہمارے پاس کوئی راستہ نہیںبچتا۔اس صورتحال سے بیروزگاری میںاضافہ ہوا ہے۔چند سال پہلے جہاں دس لوگ کام کرتے تھے آج وہاں بمشکل دو یا تین لوگ ہمیں دیکھنے کو ملیں گے ۔باقی تما م کی جگہ روبوٹس نے لے لی ہے اور ایسے سسٹمز اس لئے بنائے گئے ہیں کہ مشینیں ایسے پیچیدہ عوامل سیکھ سکتی ہیں جو انسانوں کی دسترس سے باہر ہیں ۔اگر ہم ایسا سسٹم بنائیں جس میں بہت سے ڈاکٹرز کا مجموعی تجربہ درج ہو تو ایسا سسٹم بہتر انداز میں کام کر سکتا ہے ۔ایسا سسٹم بہت پیچیدہ اور زیادہ حجم والے ڈیٹا کے تجزیہ سے اہم فیصلے آسانی سے لے سکتا ہے ۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب ایسے سسٹمز اور ڈاکٹر مل کر کام کرتے ہیں تو بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ابھی ہم مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ابتدائی مراحل پر ہیں ۔جب یہ ٹیکنا لوجی مکمل طور پر قابل عمل ہو جائے گی تو انسانوں کے لیے ممدو معاون ثابت ہو گی ۔انسانوں کی طرح بازو ،آنکھیں اور دماغ رکھنے والے روبوٹس شدید اور مشکل ماحول جیسا کہ گولڈ مائننگ میں مفید ثابت ہوں گے جہاں انسان کام نہیں کر سکتا ۔انسانوں جیسی قابلیت اور تحریک سے لیس روبوٹس اہم نتائج پیدا کریں گے ۔مشینوں کو بنانے کا مقصد ان سے ایسے مشکل کام لینا ہے جو انسان کی قوت سے باہر ہیں ۔جب ہم روبوٹس کو فیصلہ سازی کی قوت سے لیس کرنا چاہتے ہیں تو اس کا مقصد ان کو ناقابل رسائی مقامات پر کام کے قابل بنانا ہے۔
آج لگ بھگ ہر شعبہ میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا استعمال ہو رہا ہے اور مزید نئے تجربات بھی کئے جا رہے ہیں ۔اس کے علاوہ شطرنج کھیلنا ،فوٹو نکالنا ، کینسر کا علاج کرنا جیسی چیزوں کے لئے بھی آرٹیفیشیل انٹلیجنس کو جب پوری طرح تیار کر لیا جائے گا تو شاید کام کرنے کے لئے انسانوں کی ضرورت نہ کے برابر رہے گی۔آرٹیفیشیل انٹلیجنس کی پہلی تحقیق 1956 میں ہوئی تھی جس کومزیدبہتر بنانے کا سلسلہ ہنوز ر جاری ہے ۔آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا استعمال تقریباً سبھی انڈسٹریز میں کیا جا رہا ہے جس میں ہوٹل ،فائنانس ،کھیتی،آن لائن شاپنگ وغیرہ شامل ہیں۔انٹرنیٹ پر کئی ایسے ویڈیوز موجود ہیں جس میں ہم روبوٹ کی مددسے لوگوں کو کھاناپروستے ہوئے بآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔
رابطہ۔بی۔ٹیک(مولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی،حیدرآباد)
ای میل۔zqunut@gmail.com

تازہ ترین