زلزلوں کے جھٹکے اور خوابیدہ حکومت !

تاریخ    30 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 جموںوکشمیر میں گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلسل زلزلوں کے جھٹکے محسوس کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے انسانی آبادی میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔گوکہ حکام نے کہاکہ لوگوںکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تاہم ماہرین ارضیات ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جموںوکشمیر زلزلوں کے اعتبار سے حساس زون میں آتا ہے اور یہاں بڑے زلزلوں کو خارج ازمکان قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔
8اکتوبر 2005کے تباہ کن زلزلہ کے بعد دسمبر2005میں حکومت ہند نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ منظور کیا اور 23دسمبر2005کو اس کو صدر ہند کی منظوری مل گئی جبکہ26دسمبر2005کوسرکاری گیزٹ میں اعلامیہ جاری کرکے اس قانون کا نفاذ عمل میں لایاگیا۔اس قانون کی رو سے جہاں ملکی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میںلایا گیا وہیں ریاستی و ضلعی سطحی پر بھی بھارت بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاڑتیوں کا قیام لازمی قرار پایااور وہ کمیٹیاں بن بھی گئیں ۔
2005کے تباہ کن زلزلہ کے بعد ہی زلزلاتی تحقیقات میں سرعت آئی اور نہ صرف مقامی و ملکی ماہرین ارضیات بلکہ مغربی ماہرین نے بھی زلزلاتی زونوں کے حوالے سے جو انکشافات کئے ،وہ نیندیں اچٹ دینے والے تھے ۔ابھی حال میں ہی حکومت ہند نے ان خطوں کی نشاندہی کی ہے جہاں زلزلوں کا خطرہ ہے اور پوراجموں وکشمیر ان خطوںمیں آتا ہے تاہم پریشان کن امر یہ ہے کہ سوا ارب کی آبادی والے جموں وکشمیرمیں 50فیصد سے زائد نفوس عملی طور پر ایک آتش فشاں پر کھڑے ہیں۔تازہ ترین تحقیق کے مطابق وادی کشمیر کے سبھی اضلاع بشمول خطہ چناب زلزلہ زون 5میں آتا ہے جہاں زلزلہ آنے کی صورت میں حرکات شاکولی کی شدت ریکٹر سکیل پر8یا اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔زلزلہ زون 5میں آنے والے اضلاع میں سرینگر کے علاوہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع ،شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،کپوارہ اور بانڈی پورہ اضلاع ،جنو بی کشمیر کے پلوامہ ،اننت ناگ ،شوپیاں اور کولگام جبکہ صوبہ جموں کے چناب خطہ کے تینوں اضلاع رام بن ،ڈوڈہ اور کشتواڑ آتے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ان اضلاع میں60لاکھ سے زائد نفوس رہتے ہیں جبکہ دو اضلاع کرگل اور لیہہ پر مشتمل لداخ کا پورا خطہ اور جموںصوبہ کے میدانی اضلاع جموں،کٹھوعہ ،سانبہ ،ادھم پور ،ریاسی اور پیر پنچال خطہ کے دونوں اضلاع راجوری اور پونچھ زلزلہ زون 4میں آتے ہیں جہاں مزید 60لاکھ آبادی رہائش پذیر ہے اور اس خطہ میں زلزلوں کی شدت ریکٹر سکیل پر 6سے زیادہ ہوسکتی ہے ۔ مقامی سطح پر کی گئی تحقیق کے مطابق وادی کا شاید ہی کوئی علاقہ ہوگا جہاں تباہ کن زلزلہ آنے کا اندیشہ نہ ہو ۔تحقیق کے مطابق جنوبی کشمیرکے شوپیاں علاقہ سے لیکر وسطی کشمیر کا سرینگر علاقہ زلزلوں کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے جہاں زلزلے کی شدت 8سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے ۔ پرانی تحقیق میں اگرچہ بتایا گیا تھا کہ مشرقی سرینگر اور ہندوارہ کا علاقہ اس لحاظ سے کسی حد تک محفوظ ہے تاہم اب نئی تحقیق کہتی ہے کہ کشمیر کاشمال مشرقی حصہ زیادہ حساس ہے جو زانسکار پہاڑی سلسلہ سے شروع ہوکر کشمیر کے سارے شمال مشرقی علاقہ کو اپنی لپیٹ میںلیتا ہے اور اس کو عظیم ہمالیائی سلسلہ بھی کہتے ہیں۔تحقیق کے مطابق اگر اس خطہ میں زلزلہ آیا تو وہ انتہائی تباہ کن ہوگا۔
یہ مجموعی صورتحال ہے تاہم عملی طور پر دیکھا جائے تو کام نہ ہونے کے برابر ہورہا ہے۔موجودہ کورونابحران میں بھی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کا نفاذ عمل میںلایاگیا تاہم اس ایکٹ کی رو سے جو کام کرنے تھے ،وہ تاحال بھی نہیں ہوپارہے ہیں۔یوٹی ،صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیوں کا زمینی سطح پرعملی طور کوئی وجود نہیں ہے اور چند عوامی بیداری پروگرام اور آزمائشی قوائد(Mock Drill) منعقد کر نے کے علاوہ ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا ہے۔
پالیسی و پلان میں واضح ہدایت ہے کہ تعمیری سرگرمیوں کو ناگہانی آفات کو دھیان میں رکھتے ہوئے زلزلوں سے محفوظ بنایا جائے اور دھجی دیواری کا استعمال کرنے کے علاوہ عمارت کا بوجھ سنبھالنے کے لئے ریٹرو فٹنگ (RETRO-FITTING) یعنی اضافی پشتی ستونوں کی تعمیر بھی کی جائے تاہم نجی عمارات کُجا ،یہاں ابھی بھی سرکاری عمارات پرانے طرز تعمیر کے تحت ہی بن رہی ہیں۔تعمیراتی قوانین کاکوئی پاس و لحاظ نہیں ہے اور شہر و قصبوں سے لیکر دیہات تک دھرلے سے قوانین کی دھجیاں اُڑاکر بے ہنگم تعمیرات ہورہی ہیں۔جانکار حلقوں کے مطابق ان اداروں میں ماہرین کی عدم دستیابی کی وجہ زلزلوں کے حوالے سے مائیکرو زوننگ MICRO ZOONING اور خاکہ سازی کر نا باقی ہے۔ ۔غور طلب ہے کہ جموں اور کشمیرمیں صرف دو زلزلاتی تجربہ گاہیں موجود ہیںجبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں ایسی تجربہ گاہوں کی تعداد درجنوں میں ہے ۔اسی طرح ہمالیائی سلسلے میں اگرچہACCELEROGRAPH STATIONSکافی تعداد میں موجود ہیں تاہم جموں وکشمیر میں ایک بھی ایسا سٹیشن نہیں ہے ۔9کے قریب جی پی ایس سٹیشن تو قائم کئے گئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر تحقیق کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔واقف کار حلقوںکا مزید کہنا ہے کہ کشمیرچونکہ زلزلوں کے لحاظ سے رہنے کیلئے ایک خطر ناک جگہ ہے لہٰذا حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اس سلسلے میں تمام احتیاطی اقدامات اٹھاتی تاہم آج تک نہ ہی اس سلسلے میں کوئی تحقیق کی گئی ہے اور نہ ہی ابھی تک یہاں ایسے آلات میسررکھے گئے ہیں جو زلزلوں کے مطالعے میں کار آمدثابت ہو سکتے تھے ۔ اگر چہ ملک کی دیگر ریاستوں میں حکومتی سطح پر اس حوالے سے کافی کام کیا گیا ہے تاہم یہاں ابھی تک اس کی شروعات بھی نہیں ہو پا رہی ہے ۔اتنا ہی نہیں، وادی میں ان علاقوں کی نشاندہی کرنا ابھی باقی ہے جہاں بھونچال کے وقت بھاری تباہی مچ جانے کا اندیشہ ہے ۔
  کشمیر میں زلزلہ خارج المعیاد ہوچکا ہے اور کبھی بھی شدت کا زلزلہ آسکتا ہے ۔ تاریخ میں درج درمیانی درجے کا زلزلہ سرینگر اور بارہمولہ کے درمیان1885میں آیا ہے اور اس کے بعد اگر چہ ہلکے پیمانے کے زلزلے آئے تاہم کوئی بڑا زلزلہ نہیں آیا ہے اور یوں اب135سال کا وقفہ ہوا ہے جس کو دیکھ کر ہم کہتے ہیں کہ اب زلزلہ خارج المعیاد ہوچکا ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے اور جب آئے گا تو زلزلہ زون 5میں اُس وقت کیسی تباہی مچے گی ،سمجھ سے بالاتر نہیںہے ، لیکن سیاسی تنازعہ اس قدر حاوی ہے کہ حکام اپنے اُوپر لٹک رہی بربادی کی تلوار کو دیکھ نہیں پارہے ہیں۔