رابطہ کی زبان اور بولنے والے محض0.16فیصد

مشترکہ اور میٹھی اُردو زبان سے خدا واسطے کا بیر کیوں؟

تاریخ    29 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


الطاف حسین جنجوعہ
قواعد وضوابط کی پاسداری اور اداروں پر عوام کی اعتمادسازی قائم ودائم رکھنا ہی ایک مضبوط ریاست کی پہچان ہوتی ہے لیکن اگر آپ طاقت کے نشے میں چور اِس حد سے تجاوز کر جائیں کہ آئینی ، جمہوری اور انتظامی اداروں کی آپ کے کوئی اہمیت وافادیت نہ رہے تو پھر نظام سے عوام کا اعتماد اُٹھ جانا یقینی ہے۔آپ نے کئی سرکردہ سیاسی لیڈران، دانشوروں اور عالمی سیاسی منظر نامہ پر گہر ی نظر رکھنے والوں کو آئے روز ٹیلی ویژن مباحثوں ، اخبارات میں مضامین اور کالم وغیرہ کے ذریعے اِس بات کا اظہار کرتے سُنا ہوگا کہ انڈیا کی بین الاقوامی میڈیا پر پکڑ نہیں اور نہ ہی اِس ملک کے بیانیہ کو عالمی سطح پر اچھے انداز سے پروجیکٹ کیاجاتاہے۔اِس کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آئین وقانون سازی کے سب سے بڑے ادارہ ’پارلیمنٹ‘کے مقدس ایوانوں کے اندر بھی ہم مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا جب بھی اجلاس ہوتا ہے تو اُس پر ملکی وغیر ملکی میڈیا کی گہری نظریں رہتی ہیں، پھر وہاں سے ہونے والے فیصلے، بیانات اور کارروائی پر عوامی رد عمل اور اِس کے پس منظر حالات واقعات کو بھی انٹرنیشنل میڈیا کھنگالتی ہے ۔افسوس کہ ہم نے مخصوص نظریہ کی آبیاری کے لئے اِس ایوان ِ مقدس کی عظمت پر بھی سوالیہ نشان لگانے کی بجائے اصل تصویر پیش کی ہوتی۔
 قومی سلامتی، یکجہتی سے جڑے معاملات پر تو کچھ بھی کہاجائے سمجھ میں آتا ہے لیکن تعمیر وترقی اور خالص انتظامی امور سے متعلق بھی غلط اعدادوشمار پیش کرکے وسیع پیمانے پر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر سوال اُٹھیں گے ہی۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آج کی تیز رفتار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دُنیا میں عام لوگوں سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں اورا نہیں معلوم ہے کہ کیا ہورہا ہے۔عام آدمی تو سچ جانتا ہے وہ تو صرف اِن اداروں سے بھی وہ سننا چاہتا ہے ۔گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں مرکزی ِ زیر انتظام جموں وکشمیر میں اُردو ، انگریزی کے علاوہ ہندی، کشمیری اور ڈوگری کو سرکاری زبانیں قرار دینے سے متعلق بل منظور کیاگیا۔لوک سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ جی کرشن ریڈی نے کہا ’’ جموں و کشمیر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ وہ جس زبان میںبات کرتے ہیں اسے سرکاری زبان ہونا چاہئے حالانکہ ایسا کوئی مطالبہ عوام کی طرف سے آج تک نہیں کیاگیا، ہاں کچھ حلقوں سے ہندی کو سرکاری زبان قرار دینے کی باتیں کی جارہی تھیں اور اس ضمن میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں مفاد عامہ عرضی دائر کی گئی لیکن جس طرح جموں وکشمیر ریاست کا درجہ گھٹا کر اِس کو یونین ٹریٹری بنا دیاگیا، اسی طرح ہندی کے ساتھ ساتھ کشمیری اور ڈوگری کو بھی آفیشل بنایاگیا ۔ وزیر موصوف نے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا’’جموں و کشمیر میں53.26 فیصد لوگ کشمیری اور 26.64 فیصد ڈوگری بولتے ہیں ۔ اُردو جوسرکاری زبان ہے کو بولنے والوں کی تعداد موصوف کے مطابق صرف 0.16 فیصد ہے اور ہندی بولنے والے 2.36 فیصد ہیں۔
 حیران ہیں کہ کون سا میکانزم اور ٹیکنالوجی استعمال کر کے یہ سروے کیاگیاکہ اُردو جس کو سال 1989میں ڈوگرہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے فارسی کو ترک کر کے سرکاری زبان کا درجہ دیاتھا اور آج تک سرکار کا سارا کام کاج اسی ز بان میں انجام دیا جاتا ہے، کو بولنے والے محض0.16فیصد ہیں۔ ماتحت عدالتوں میں زیادہ تر کام کاج اُردو میں ہوتا ہے، محکمہ پولیس کی ساری کاررروائی اُردو میں ہے، فوجداری مقدمات کی تفتیش، چالان وغیرہ سب اُردو زبان میں ہیں۔ محکمہ مال کا سارا ریکارڈ اُردو زبان میں ہے۔ جموں وکشمیر میں ڈیڑھ سو سے زائد اُردو زبان میں روزنامہ، ہفتہ روزہ اخبارات اور جرائد شائع ہوتے ہیں،پرائمری سے یونیورسٹی تک اُردو زبان نصاب کا اہم حصہ ہے، یونیورسٹوں میں باقاعدہ علیحدہ شعبہ جات ہیں۔ جموں وکشمیر اسمبلی کی کارروائی اُردو زبان میں لائبریری کے اندر محفوظ ہے۔ 
 جموں وکشمیر تین صوبوں (1) جموں (2) لدّاخ (3) کشمیر پر مشتمل ہے۔ تینوں صوبوں  کے درمیان وسیع و عریض پہاڑی علاقے ہیں جن کی وجہ سے تینوں صوبوں کی زبانیں ایکدوسرے سے مختلف ہیں ۔لکھن پور سے بانہال تک کا علاقہ جموں صوبہ کہلاتاہے، جس میں جموں ،اودھم پور ، را م نگر، کٹھوعہ، بسوہلی میں ڈوگری بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، وادی چناب میں کشمیری، کشتواڑی، بھدرواہی اور دیگر مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں، سرحدی اضلاع پونچھ اور راجوری میں پہاڑی اور گوجری علاقائی زبانیں ہیں۔لداخ میں لداخی، شینا، بلتی کے علاوہ کئی علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں۔پہاڑی ،پنجابی ڈوگری جوزبانیں رائج ہیں وہ اردوکی ہمزادہیں،ان میں صرف لفظی سرمایے کااشتراک ہی نہیں بلکہ لسانی قالب اور جملوں کی ساخت پرداخت کی مشابہت بھی موجودہے، اس لئے اْردو ان علاقوں میں پہنچتے ہی ابتدائی جان پہچان کے بعد ان کی ہمجولی بننے لگی۔لداخی، کشمیری ، ڈوگرہ، گوجر اور پہاڑی زبانیں بولنے والے جب آپس میں ایکدوسرے سے ملتے ہیں تو اُردو زبان ہی استعمال کرتے ہیں۔ طلبا ہوں، ملازمین ہوں، تاجرہوں ، سیاستدان ہوں سبھی آپسی رابطہ میں اُردو زبان میں بات کرتے ہیں۔ پھر اِس کے بولنے والوں کی تعداد0.16فیصد کیسے ہے۔ زمینی حقائق جان کر عقل یہ ماننے کو تیار نہیں، اگر نہ مانیں تو ’پارلیمنٹ‘کی توہین کا ہمیں مرتکب سمجھا جائیگا کیونکہ وہاں پر یہ بیان دیاگیا، اب آپ فیصلہ کریں کہ سچ کیا ہے۔ جموں وکشمیر تنظیم نوقانون کی سیکشن47میں یہ واضح کیاگیاہے کہ سرکاری زبان کا تعین نو منتخب قانون ساز اسمبلی کرے گی لیکن اسمبلی کی عدم موجودگی میں یہ فیصلہ لیاگیا، کیا یہ گذشتہ سال بنائے گئے اِسی پارلیمنٹ سے تنظیم نوقانون کی خلاف ورزی نہیں۔ حکومت کے اِس فیصلے کے بعد سے سوشل میڈیا پر سیاسی، سماجی وعوامی حلقوں سے افسوس ناک جو رد عمل سامنے آیا ہے، اور ہر ایک نے سوال اُٹھائے۔ اُس میں تو اِس کو اُردو کی مرکزی حیثیت کمزور کرنے کا منصوبہ قرار دیاجارہاہے۔ کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغامات بھی جاری کئے، جن کا کہنا ہے کہ حکومت ِ ہند کو کشمیری زبان سے پریم ہے، نہ ڈوگری سے محبت، پہاڑی سے بیر نہ گوجری سے عداوت بلکہ یہ اُردو زبان کے تئیں اُن کے بغض، کینہ ، حسد اور تنگ نظری کا عکاس ہے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ اُردو زبان کی انفرادیت کو ختم کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے، پانچ زبانوں میں کام کاج تو ممکن نہیں ہوپائے گا، بالآخر دو زبانوں پر ہی اکتفا کیاجائے گا جس میں انگریزی اور پھر ہندی کو قومی زبان ہونے کی وجہ سے ہی ترجیح دی جائے گی ۔
 ڈوگرہ راجہ نے اُردو پر مہرثبت کرنے سے پہلے ڈوگری زبان کو ریاست کی سرکاری زبان کا درجہ دینے کی کافی کوششیں کی تھیں لیکن ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں،اس لئے کہ اس میں وہ اہلیت ہی نہیں تھی جو سرکاری زبان کے لئے ضروری ہے۔ ڈوگری زبان بول چال کی زبان سے زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کر پائی کیونکہ ڈوگری زبان کا رسم الخط مہاجنی سے ملتا جلتا ہے اور کافی مشکل بھی ہے۔ڈوگری زبان مشکل اس لئے ہے کہ ایک کا لکھا ہوا دوسرے کے لئے وہی پڑھنا جو لکھا گیا ہے مشکل ہے۔اگرچہ اسے آسان بنانے کی بھی کوشش کی گئی لیکن یہ تعلیمی اور سرکاری زبان نہیں بن سکی۔ڈوگری زبان کے ایک شاعر کے گیت سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے لیکن لکھے کبھی نہیں گئے۔یہی وجہ ہے کہ نہ تو یہ تعلیمی اور ادبی زبان بن سکی اور نہ ہی اس میں ڈوگری کا سرمایہ ادب محفوظ ہو سکا۔اس لئے ڈوگرہ مہاراجہ نے اُردو کو ترجیح دی لیکن اب پانچ زبانوں کوسرکاری قرار دیکر کھچڑی سی بنا دی گئی ہے جس کو سرکاری کام کاج میں عملی جامہ پہنانا بہت مشکل ثابت ہوگا۔ آپ تصور کریں کہ پانچ سرکاری زبانیں قر ار دینے سے کیا صورتحال بنے گی، آپ اُردو میں درخواست دیں تو اُس پر کوئی ڈوگری والا رپورٹ کرے، اُس پر سنیئرکشمیری میں لکھے، چیف سیکریٹری انگریزی میں اور پھر لیفٹیننٹ گورنر سے ہندی یا سنسکرت میں آرڈر بن کر آئے تو آپ کی سمجھ میں کیاآئے گا۔ سابقہ کلچرل اکیڈمی کے سیکریٹری ظفر اقبال منہاس نے اِس حوالہ کہا’’کیا خوب جمے گی جب جموں کا کلرک فائل پرڈوگری میں،اس کا سینئرکشمیری میں، اُس کاسینئراُردو میں، اُس کا سینئربہاری بابو ہندی میں اور چیف سکریٹری انگریزی میں نوٹ لکھیں گے بہتر ہو گا کہ گورنر کو سنسکرت میں لکھنے کے لیے کہا جائے تاکہ’ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘ کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑے‘‘۔
 اُردو پورے میں برصغیر میں ہی نہیں بلکہ بین الاقومی سطح پر رابطے کی زبان ہے۔یہ زبان سمجھنے اور پڑھنے میں بالکل آسان اور سہل ہے۔اس کے علاوہ اس زبان میں مذہبی رواداری اور آپسی ہم آہنگی ملتی ہے۔ کسی خاص مذہب، ذات یا علاقہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ اُردو ایک تہذیب ، ثقافت کا نام ہے ۔پانچ زبانوں کو سرکاری قرار دینا کسی المیہ سے کم نہیں۔ اگرحکومت واقعی علاقائی زبانوں کی ترقی وترویج کے لئے مخلص تھی تو اِس کے لئے دیگر کئی اقدامات بھی اُٹھائے جاسکتے تھے۔ سرکاری زبان تو اس لئے کسی ایک مشترک زبان کو رکھاجاتاہے جس میں سب کے لئے آسانی ہو اور دفتری کام کاج اچھے ڈھنگ سے چل سکے ، اس فیصلے سے تو انتظامی سطح پر الجھن بڑھے گی اور عوامی مسائل کا ازالہ مشکل ہوگا۔ ویسے جموں وکشمیر تو دہائیوں سے تجربہ گا ہ رہی ہے، جہاں حقائق کو جھٹلا کر کئی تجربے کئے گئے، اسی طرح اب لسانی بنیاد پرتقسیم نیا تجربہ ہے ۔سبھی زبانوں کی ترقی اپنی جگہ لیکن یہ اُردو زبان کی قیمت پر ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔
موبائل نمبر۔7006541602
ای میل:altafhussainjanjua120@gmail.com

تازہ ترین