تازہ ترین

شفقتِ پدری اب بھی باقی

آدابِ فرزندی سمٹ رہے ہیں !

تاریخ    29 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
برق رفتاری سے اس بدلتی دنیا میں اخلاقی اقدار نا قابل یقین حد تک روبزوال ہیں اور انسانیت تباہی و بربادی کی دہلیز پے سسکتی بلکتی چراغ سحر کی مانند ٹمٹماتی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ہر طرف حزن و ملال کی آندھیاں چل رہی ہیں اور ہر بستی ہر قریہ اور ہر گھر کے اندر نفاق کا سم قاتل ,گھر کی رونقوں کو اجاڑ رہا ہے اور انا و لا غیری کے مرض مہلک نے ہماری لوح مغز کی وسعتوں پے قبضہ جما لیا ہے۔اس ساری مصیبت کی متعدد وجوہات ذمہ دار ہیں مگر سب سے بڑی وجہ والدین کے تئیں دور حاضر کی نء نسل کا وہ ناروا برتاؤ اور غیر انسانی سلوک ہے جسے خالق حقیقی نے حرام قرار دیا ہے۔یادے رہے کہ مجموعی طور بنی نوع انسان تین طرح کے حقوق کی پاسداری کے لئے فطری طور پابند ہے مگر عصری تہذیب کے تیزاب میں جھلسے ہوئے دور حاضر کے نوخیز اور جوان سال طبقے کی اکثریت کے دل و دماغ میں مادہ پرستی اور بہیمانہ خواہشات کا اسقدر غلبہ ہے کہ اب ان اخلاقی اقدار کو فرسودہ قرار دیا جا رہا ہے جو صحتمند انسانی معاشرے کی ضامن ہیں۔حقوق اللہ،حقوق النفس اور حقوق العباد کا تصور بھی باقی نہیں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاشرے مین انتشار،خلفشار،اضطراب و بے چینی اور بد امنی ،انسانی وجود کو تنزل اور تذبذب کے قعر ذلت کی طرف دھکیل رہی ہے اور کاروان زندگی بے مقصد ایک نا معلوم منزل کی طرف رواں دواں۔خود فریبی کی یہ روش بہر صورت ایک نا قابل معافی اور نا قابل تلافی زیاں ہے۔یوں دامن میں حسرتیں سمیٹے زندگی کی شام ہو رہی ہے مگر وا حسرتا احساس زیاں وقت گزرنے کے بعد کسی کام کا نہیں!۔
عرصہ گزر گیا,انگنت لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقعہ ملا۔کچھ اپنی سناتا گیا کچھ انکی سنتا گیا۔لگا لوگ زمانے کے ستا? ہو? اور غم روزگا کی صعوبتوں سے نڈھال و لاغر ,ہزاروں تمناؤں میں ایک بڑی تمنا کے لئے تڑپتے ملے اور وہ بھی ماہی بے آب کی طرح۔اللہ کیا گزرتی ہو گی جب حالت ایسی ہو۔آتش شفقت پدری سے ہر ماں باپ کا لحم و شحم برف کی طرح پگھلتا ہے اور اولاد کی کامیابی اور فرمانبرداری کی آرزؤں کا ایک سیلاب سا سینے کی وسعتوں میں درد جگا تا ہے مگر یہی اولاد جب بلوغت کی سرحدوں میں قدم رکھتی ہے تو بغاوت کا جنون انکی حیرانی اور والدین کی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔
آیئے دیکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت اپنے حقوق کے ساتھ سب سے اول کس کے حقوق کی تاکید کرتے ہیں:"میری ہی عبادت کرو۔کسی کو میرا شریک نہ مانو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔" (سورہ النساء )
"کہہ دو اے نبی آؤ میں تم کو پڑھ کے سناتا ہوں کہ اللہ نے تم پے کیا حرام کیا ہے۔خبردار کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔" ( سورہ الانعام)
"اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ کسی کی عبادت نہ کرو مگر اللہ کی اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔اگر ان میں سے کوء ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائو تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ ہی انکو جھڑکو اور انکے ساتھ احترام سے بات کرو اور ان پر رحم کرتے ہوئیے انکساری سے انکے سامنے جھک کر رہو اور انکے حق میں دعا کیا کرو کہ اے میرے رب !ان بر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے رحمت اور شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔" ( سورہ الاسرا)
اللہ رب العزت نے اپنے حق کے فوری بعد والدین کے حق کا ذکر فرمایا اسکی وجہ یہی ہے کہ جس طرح سب کا معبود ایک ہے اسی طرح ہر فرد کا ماں باپ ایک ہی ہوتا ہے۔ایک شخص نے جب رسول اللہؐ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول !لوگوں میں حسن صحبت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟
جواب ملا" امک" یعنی تمہاری ماں۔اسی طرح سائل نے تین بار سوال کیا تو ہر بار جواب ملا ' امک'تمہاری ماں اور جب چوتھی بار سوال کیا تو جواب ملا "تمہارا باپ"
حضرت عبد اللہ ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "وقت پے نماز ادا کرنا۔ "میں نے پوچھا : پھر کونسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"ثم بر الوالدین" یعنی "والدین سے نیکی کرنا"
میں نے کہا :-پھر کونسا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "الجھاد فی سبیل الل " یعنی "اللہ کی راہ میں جہاد کرنا"
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ خدمت والدین اللہ کو جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہے۔ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اذن جہاد کے لئے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا کیا" کیا آپکے والدین زندہ ہیں؟" جواب ملا جی والدین ابھی زندہ ہیں۔حکم صادر ہوا "جاؤ اپنے والدین کی خدمت کرو"
والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اور بھی کء آیات قرانی اور احادیث موجود ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے۔والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیک برتاؤ کبیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور اللہ کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے۔اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ اسکی عمر لمبی کر دی جائے اور رزق میں وسعت پیدا ہو جائے تو وہ والدین سے نیک برتاؤ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔والدین کی خدمت کرنے والے خوش نصیب کی دعا  بارگاہ الٰہی میں رد نہیں ہوتی۔
والدین کی نا فرمانی گناہ کبیرہ ہے۔اللہ کے نبی نے فرمایا" کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ بارے میں نہ بتاؤں؟" ۔صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ۔تین بار یہ سوال کرنے کے بعد فرمایا: " اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا"
والدین سے بدسلوکی جنت سے محرومی اور اللہ کی نظر رحمت سے محرومی کا باعث ہے اور والدین کے نا فرمانوں پے اللہ کے نبی کی بد دعا ! والدین کے نا فرمان کا کوء عمل خیر قبول نہیں ہوتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کو زندگی کا شعار بنایا جائے چونکہ یہی وہ خدمت ہے جسے اللہ نے نفل عبادت پے مقدم کیا ہے اس لئے کہ والدین نے اولاد کی پرورش اور دیکھ ریکھ میں جو تکالیف اٹھائیں ہوتیں ہیں وہ تکالیف کسی بھی جانور یا طیور یا حشرات الارض کو اپنی اولاد کی پرورش میں سہنی نہیں پڑتیں ہیں۔اولاد اگر کبر سنی کی حد کو بھی پہنچ جا والدین انکی خیریت کے فکرمند ہوتے ہیں۔
قصہ مختصر والدین کی طرز حیات،تخیلات،تفکرات،رتبہ اور عادات اور عقائد کچھ بھی ہوں انکی پرورش اور خدمت واجب ہے اور مباح امور میں اطاعت بھی ضروری ہے۔جس انسان کے والدین اس سے نالاں ہوں, اسکی انسانیت کا اعتبار کیا نہیں جا سکتا اور اسکا وجود پورے معاشر ے کیلئے ایک رستا ہوا ناسور ہے۔
موجودہ دورمیں والدین کے تئیں ناروا روش کی داستان جہاں طویل بھی ہے تو وہیں باعث عار اور حسرت بھی ہے۔ اور اسکی سزا کا خمیازہ مختلف النوع مصائب کی شکل میں اقوام عالم بھگت رہی ہیں۔تخلیق کے اس شاہکار کا یہ رویہ فطرت کے مزاج کے خلاف ہے اور اسکی نحوست کے نتائج نے آج ہمیں دولت سکون سے محروم کر دیا۔ مسلم معاشرہ اپنے اسلاف کی تاریخ سے یکسر نا بلد ہے اور حقوق العباد کا تصور تک بھی نہیں پایا جاتا ہے اسی لئے شاعر مشرق علامہ اقبال نے دل برداشتہ ہو کر فر مایا تھا:-
تجھے آباء سے اپنی کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا
گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
تنزل کی اس ذلت سے نجات پانے کے لئے اور انسانیت کا ثبوت پیش کرنے کے لئے دنیا بھر کے والدین کی قدر اسی انداز سے کی جائے جسکے لئے اللہ نے اولاد کو پابند کیا ہے۔
رابطہ۔نیل چدوس،تحصیل بانہال،ضلع رام بن۔
فون نمبر ۔8493990216 
 

تازہ ترین