تازہ ترین

کشمیری پنڈت سنگھرش سمتی کی بھوک ہڑتال کا 9واں دن

سنجے کمار ٹکو کی حالت نازک ،مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے کا عہد

تاریخ    29 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر//کشمیری پنڈت سنگھرش سمتی کی مطالبات منوانے کے حق میں بھوک ہڑتال کل بھی جاری رہی۔بتادیں کہ کے سمتی کے اراکین 20ستمبر سے گنیش مندر گنپت یار حبہ کدل میں اپنے کئی مطالبات کو لے کر بھوک ہڑتال پر ہیں۔بھوک ہڑتال پر بیٹھے سنگھرش سمتی کے صدر سنجے کمار ٹکو کی حالت کل متغیر ہوئی ،ان کا بلڈ پریشر کم ہوگیا ہے جبکہ وہ جسمانی طور کافی کمزور ہوئے ہیں ۔اس دوران سمتی کے باقی ممبران کے ساتھ سندیپ کول نے بھی بھوک ہڑتال شروع کی ہے ۔ سنگھرش سمتی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ192گھنٹوں سے ہڑتال پر بیٹھے ارکین کے پاس انتظامیہ کا کوئی اہلکار نہیں آیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہونگے ،بھوک ہڑتال جاری رہے گی ۔سنجے کمار ٹکو نے کہا کہ ان کے مطالبات جائز ہیں تاہم انتظامیہ سوئی ہوئی ہے اور کشمیری پنڈتوں کی زندگی کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی کئی ہدایات اور مرکزی وزارت امور داخلہ کی سفارشوں پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ سنگھرش سمتی کے مطالبات میں تعلیم یافتہ کشمیری پنڈت بے روزگار نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنے کے بارے میں ہائی کورٹ اور وزارت امور داخلہ کے احکامات کی عمل آوری، کشمیر میں ہی رہائش پذیر 808 پنڈت گھرانوں کو ماہانہ مالی امداد کی فراہمی اور ہجرت نہ کرنے والے مستحق کشمیری پنڈتوں کو رہائشی سہولیات کی فراہمی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
 

 اپنی پارٹی کی طرف سے اظہار یکجہتی

ایس آر او425کی عمل آور ی میں تاخیر کی تحقیقات کا مطالبہ 

 
 
سرینگر//اپنی پارٹی کے جنرل سیکریٹری رفیع احمد میر نے حکومت پرزور دیا ہے کہ نان مائیگرنٹ کشمیری پنڈتوں کے لئے حکومت ِ ہند کی طرف سے منظور یکمشت روزگار اسکیم کی بلاتاخیر عمل آوری یقینی بنائی جائے۔بھوک ہڑتال پر بیٹھے افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے میر نے  نان مائیگرنٹ کشمیری پنڈت کنبوں کے اِس قد م کی تعریف کی کہ انہوں نے 1990کے پر آشوب ماحول میں بھی وادی میں اپنے گھروں کو نہیں چھوڑا۔انہوں نے کہاکہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو چاہئے کہ ایس آر او425کی عمل آوری میں تاخیر کی معیاد بند انکوائری کرائی جائے جس کے تحت نان مائیگرنٹ کشمیری پنڈت برادری کے پانچ سو تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا تھا، یہ کنبہ جات سخت مشکلات میں جی رہے ہیں اور انہیں اِس روزگار پیکیج سے کافی اُمیدیں وابستہ ہیں۔میر نے لیفٹیننٹ گورنر پرزور دیاکہ کشمیری پنڈت برادری بشمول 800کنبہ جات جنہوں نے وادی سے نقل مکانی نہیں کی تھی، کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ نان مائیگرنٹ کشمیری پنڈت کنبوں کی طرف سے فراہم معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے میر نے کہاکہ اِس سال کے آخر تک ایک تخمینہ کے مطابق اِن کنبہ جات سے تعلق رکھنے والے ایک سو تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت پانے کی عمر کی حد پار کر جائیں گے، اب تک 70نوجوان عمر کی حدکو پارکرگئے ہیں، لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ اِ ن تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اِس یکمشت پیکیج کا فائدہ دیاجائے۔