تازہ ترین

کانگریس کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری

کسان مخالف بلوں کو واپس لینے کا مطالبہ

تاریخ    29 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


جموں // ملک کے دیگرحصوں کی طرح جموں میں بھی کسان بلوں کے خلاف کسانوں و کانگریس کارکنوں کی احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہی ۔ اس سلسلہ میں جموں صوبہ کے کے سچت گڑھ اور آر ایس پورہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں کسانوں نے آل جموں و کشمیر کسان کانگریس کے بینر تلے فارم بلوں کے خلاف مظاہرہ کیا،جن کی سربراہی سابق وزیر اور جے اینڈ کے کسان کانگریس کے چیئرمین چودھری  گھارو رام اور نائب چیرمین پربھو سنگھ نے کی۔ مظاہرین نے مرکز میں بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔یہ احتجاجی ریلی کسان کانگریس کے ایک حصے کے طور پر منعقد کی گئی تھی جس میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کے خلاف غیر معمولی ‘ستیہ آگرہ شروع کیا گیا تھا ۔ اس احتجاج کا اہتمام ڈسٹرکٹ کسان کانگریس ، سچیت گڑھ اور آر ایس پورہ یونٹوں نے کیا۔ کسانوں ، کسان کانگریس ممبران اور رہنماؤں نے کسان مخالف بلوں کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔گھارو رام نے اس موقعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فارم بلوں کو واپس لیا جانا چاہئے کیونکہ وہ کسانوں کے مفاد میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارم بلوں کے تحت کسانوں کو نجی شعبہ کے کارپوریٹروں اور بڑے کاروباروں کے غلام بنایا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے منظور کئے گئے کسان مخالف بلوں سے جموں و کشمیر کے کسانوں کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں نے بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر اعتماد کھو دیا ہے کیونکہ اس نے  جوبل منظور کئے ،وہ کھیتی باڑی کے شعبوں اور زمین کے مالکان کے بہترین مفاد کے خلاف ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کسانوں کی آمدنی اور پیداوار کی قیمت براہ راست بڑے کارپوریٹ گھروں کے ہاتھوں میں ہوگی جن کا کسانوں سے کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کے فیصلے پر کوئی رابطہ اور کنٹرول نہیں ہوگا۔گھارو رام نے زور دے کر کہا کہ یہ ’ستیہ آگرہ 2 اکتوبر تک جاری رہے گی جس میں بی جے پی حکومت کے خلاف قوم کے کسانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے متعدد مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ستیہ آگرہ میں شامل ہونے والوں میں روییل سنگھ ، پریم چند ، جنگ بہادر ، دیسراج ، ستیہ دیوی ، رانی دیوی ، رمنیک سنگھ ، تارا چودھری ، گھارا چودھری اور یوتھ کانگریس کے کارکن نیرج چودھری، ارجن کمار ، شیو بھان اور دیگران بھی موجود تھے۔