شوپیان فرضی جھڑپ معاملہ

کورٹ مارشل سے قبل شواہدجمع کرنیکا آغاز

تاریخ    29 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//جولائی کے مہینے میں جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے امشی پورہ گائوںمیں مبینہ فرضی انکاؤنٹر میںمارے جانے والے راجوری کے 3عام نوجوانوں کے معاملے پراپنے ہی اہلکاروں پر فرد جرم عائد کرنے کے بعدفوج نے ممکنہ کورٹ مارشل سے پہلے شواہد جمع کرنے کاآغاز کیا ہے۔کورٹ آف انکوائری ،جس نے اس مہینے کے شروع میں اپنی تحقیقات مکمل کی، کو’ابتدائی حقائق‘ کے شواہد ملے تھے کہ 18 جولائی کو ہونے والے انکاؤنٹر کے دوران فوجیوں نے آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کے تحت اختیارات کو ’عبور کیا‘ جس میں راجوری کے تین مزدور پیشہ نوجوان ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس کے بعدفوج نے تادیبی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔عہدیداروں نے بتایا کہ کچھ شہری گواہوں کو بھی طلب کیا جائے گا جس میں وہ لوگ شامل ہیں جو مقامی فوج کیلئے ’مخبر‘ کے طور پر کام کرتے ہیں جنہوں نے ممکنہ طور پر فوج کو غلط اطلاعات فراہم کیں۔عہدیداروں نے بتایا’’آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے ہر پہلو کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے، فوج انکوائری کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے لیکن ہر زاویے پر تحقیقات کی ضرورت ہے‘‘۔قواعد کے مطابق غلط اقدام کرنے والے فوجی اہلکاروں کے خلاف شواہد کے خلاصے کے دوران قانون کی مختلف دفعات کے تحت کیس کی تفصیلات کی جانچ کی جائے گی جس کے بعد کورٹ مارشل کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔حکام نے بتایا کہ جب بھی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو فوج شفافیت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتی ہے اور اہلکاروں کو سزا دیتی ہے۔18 جولائی کوفوج نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے امشی پورہ گاؤں میں تین عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔فوج نے سوشل میڈیا رپورٹس کے بعد انکوائری کورٹ کا آغاز کیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ یہ تینوں افراد جموں کے ضلع راجوری سے ہیں اور امشی پورہ میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ تحقیقاتی عمل چار ہفتوں میں مکمل ہوا۔راجوری کے تینوں افراد کے اہل خانہ نے بھی پولیس شکایت درج کی تھی۔انکوائری میں کچھ ابتدائی ثبوت سامنے آئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپریشن کے دوران افسپا کے تحت حاصل کردہ اختیارات حد سے تجاوز کئے گئے اور سپریم کورٹ کے منظور کردہ احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ۔بیان میں کہا گیا ہے’’اس کے نتیجے میں، مجاز انضباطی اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت تادیبی کارروائی شروع کرے ‘‘۔جمع کئے گئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ امشی پورہ میں مارے گئے تین افراد امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار تھے جو راجوری سے تعلق رکھتے تھے جس کی تصدیق بعد میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعہ کی گئی۔اس واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوج نے مقامی اخبارات میں ایک عام اشتہار شائع کیا تھا، جس میں لوگوں سے اس معاملے کے بارے میں ’قابل اعتماد معلومات‘ پیش کرنے کے لئے کہا گیا تھا اور اسے فوج کے ذریعہ قائم کردہ تفتیشی عدالت میں شیئر کرنے کو کہا گیا تھا۔ راجوری کے علاقے کوٹرنکہ کے دھار ساکری گاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے رشتہ داروں نے 17 جولائی کو ان سے رابطہ ختم ہونے کے بعد مقامی تھانے میں تحریری طور پررپورٹ درج کروائی تھی۔ یہ تینوں مزدوری کرنے کیلئے شوپیاں آئے تھے۔دریں اثناء، پولیس ان تینوں نوجوانوں کی کال کی تفصیلات کی تفتیش کر رہی ہے۔