بجبہاڑہ میں خندق سے زہریلی گیس کا اخراج

۔ 2سگے بھائی اور باپ بیٹا لقمہ ٔ اجل

تاریخ    29 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
اننت ناگ//بجہباڑہ اننت ناگ میں پیر کی شام اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب ایک پر اسرار حادثہ میں باپ بیٹا اور دو بھائی سمیت 4افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ واقعہ ٹائون سے دو کلو میٹر دور تلہ کھن میں پیش آیا۔ اس دلدوز حادثہ کے بارے میں بتایا گیا کہ کنویں کی کھدائی کے دوران زہریلی گیس کا اخراج ہوا جس سے یہ ہلاکتیں ہوئیں۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ مزدور نہیں تھے بلکہ ان میں سے دو بھائی کروڑ پتی تھے۔سوشل میڈیا اور بجبہاڑہ ایس ڈی ایم کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ تلہ کھن بجہباڑہ میں پیش آئے واقعہ کے 4متاثرین کو سب ڈسڑکٹ اسپتال بجہباڑہ لایا گیا تاہم وہ دم توڑ چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ غالباً دم گھٹنے یا زہریلی گیس کے اخراج سے انکی موت ہوئی ہے۔مہلوکین کی شناخت عبدالرشید ڈار عرف رشید ژوٹ اور اسکا بھائی نذیر احمد ڈار پسران غلام حسن ڈار ساکنان تلہ کھن اور 45 سالہ ارشد حسین وانی ولد عبدالرشید وانی اور اسکا بیٹا سجاد احمد وانی ساکنان لوکٹی پورہ آرونی کے بطور ہوئی ہے۔ارشد حسین اور اسکا بیٹا سجاد احمد پیشے کے لحاظ سے ترکھان ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ عبدالرشید ڈار علاقے کا امیر ترین آدمی ہے اور سرینگر جموں شاہراہ پر اسکا ایک ڈھابہ بھی ہے۔ دونوں بھائی تاجر ہیں۔ایس ڈی ایم بجہباڑہ جہانگیر احمد نے کہا ہے کہ غالباً مہلوکین کی موت زہریلی گیس کے اخراج سے ہوئی ہے۔تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیر کو دن بھر تلہ کھن میں محکمہ ایکسائز کی ٹیمیں موجود رہیں جو یہاں سینکڑوں کنال اراضی پر پھیلی بھنگ کی کاشت تباہ کررہی تھیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرنچ کی کھدائی کے بارے میں انہیں کچھ معلوم نہیں۔