تازہ ترین

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کشمیر کے تناظر میں

تحقیق

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


شہباز رشید بہورو
مکرم پروفیسر منظور احمد شاہ کے بقول "کشمیر یونیورسٹی میں بڑے بڑے ذہین دماغ کام کر رہے ہیں لیکن تحقیق کے معاملے میں دلچسپی، لگن اور جذبہ کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ان خصوصیات سے عاری بڑی بڑی نابغہ شخصیات بیکار ہو جاتے ہیں۔وہ زندگی کی دوڑ میں باوجود اپنی صلاحیتوں کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہی کچھ معاملہ ہماری یونیورسٹی کا ہے۔اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں پورے بھارت میں سائنسی تحقیق کے حوالے ایک مایہ ناز مقام حاصل کر رہی ہے۔لیکن جو صلاحیتیں قدرت کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو حاصل ہیں اس کے مقابلے میں کام لاغر محسوس ہوتا ہے".پروفیسر موصوف کی وساطت سے مجھے کشمیر یونیورسٹی میں جاری سائنسی تحقیقاتی کام کے متعلق کافی جانکاری حاصل ہوئی۔پروفیسر صاحب چونکہ ماحولیات کے محقق ہیں اس لئے ان کے زیادہ تر توجہ کشمیر میں سکڑتی ہوئی جھیلوں (Lakes)اور کشمیر میں اینویزیو پلانٹ سپیشس ( species  plant  Invasive) کی طرف ہوتا ہے۔انہوں نے حال ہی میں کینڈا اور امریکہ کے محققین سے مل کر کشمیر میں ایک اینویزیو سپیشیس ( Species  Invasive) کا ڈی این اے نکال کر جینیٹک واریبلیٹی ( Variability  Genetic) پر کامیاب تجربہ کیا۔خیر اس طرح کے اور بھی کئی کام یونیورسٹی میں جاری ہیں لیکن مجموعی طور پر تحقیق کی دنیا میں وہ نام بھارت کی دیگر جامعات کی طرح کشمیر یونیورسٹی بھی حاصل نہیں کر پائی ہے جو کہ مغرب میں بے شمار جامعات کر پاتی ہیں.اس کی وجوہات میں اکثر و بیشتر کشمیر کی سیاسی و فوجی افراتفری قرار دی جاتی ہے جوکہ اگرچہ ایک پہلو سے درست ہے لیکن باقی کئی پہلوؤں سے کشمیر میں مجموعی سائنسی پسماندگی کے پیچھے گزشتہ مضامین میں مذکور عوامل کارفرما ہیں۔کشمیر یونیورسٹی کا تحقیقی معیار جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں بھارت کے تحقیقی معیار کی نسبت سے ایک خاص مقام تو ضرور رکھتی ہے لیکن عالمی سطح پر بودی تحقیق کے زمرے میں شامل ہوتی ہے۔میں نے کئی محققین سے اس حوالے سے بات چیت کی کہ کیوں یہاں کی تحقیق غیر معیاری اور بودی ہوتی ہے۔ان کے جوابات کا خلاصہ کچھ اسطرح سے ہے:"تحقیق کے حقیقی مقاصد سے آغاز ہی پر آگاہ نہیں کیا جاتا، ریسرچ کے حوالے سے ایک اخلاقی معیار( Ethics  Research)مفقود ہے،ریسرچ کے ساتھ پیسے کو جوڑ کر ریسرچ کا مقصد فوت ہوگیا ہے، اکثروبیشتر گائڈ حضرات میں خود تحقیقی مقصدیت نہیں پائی جاتی اور ان سے ملاقات کرتے وقت ریسرچ کا مقصد صرف پیسہ محسوس ہوتا ہے، گائڈ حضرات کا زیادہ تر مقصد تحقیق کے بدلے بیرونی ممالک کے اسفار ہوتے ہیں ،اکثر محققین کا مقصد نمود کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ہے اور جس کو پانے کے لئے وہ ہر نوع کی غیر معیاری حرکات کا ارتکاب کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں، حکومتی سطح پر بھی تحقیق پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا ہے"۔ان وجوہات کے علاوہ کشمیر میں تحقیق کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا، تحقیقی پیپرس کی تعداد بڑھانا اور فیلوشپ حاصل کرنا ہوتا ہے۔دوران ملاقات ان پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرنے والے دوستوں نے بڑے ہی افسوناک لہجے میں یہ کہا کہ کشمیر کے کئی تحقیقی اداروں میں تحقیق کی روح پرواز کر چکی ہے۔آلات کی کمی،فنڈنگ کی کمی، سہولیات کی عدم دستیابی، گائڈ کا لالچ اور جذبے کی کمی نے کشمیر میں تحقیق کا مقصد دفن کردیا ہے۔اب پی ایچ ڈی کا مقصد صرف پیسہ حاصل کرنا یا یہاں کے اداروں میں معلم کی پوسٹ حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔
تحقیق کے معاملے میں سب سے پہلی چیز جو درکار ہوتی ہے وہ ہے ٹھوس نظریہ (Hypothesis)۔نظریہ جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی اس پر کامیاب تجربات کرنے کے مواقع ہوتے ہیں۔اگر نظریہ ہی کمزور ہو تو تجربہ کرنے کی کوئی بنیاد دستیاب نہیں رہتی ہے۔ہمارے یہاں سے جب کوئی خاص نظریہ پیش ہی نہیں کیا جاتا ہے تو اس پر عملی تحقیق کہاں سے کی جاسکتی ہے۔یہاں اکثر جس نظریے پر کام ہوتا ہے  وہ مغرب میں پہلے ہی سے زیر تحقیق ہوتا ہے۔اکثر و بیشتر یہاں کے محققین تحقیق کرنے کے باوجود اصلی نظریے سے غیرواقف ہوتے ہیں۔اس بات کا تجربہ مجھے ذاتی طور حاصل ہوا ہے۔ان محققین سے بات کرتے ہوئے تخیل کی پست پرواز کا اندازہ مجھے بآسانی حاصل ہوا۔مستثنات سے مجھے انکار قطعاً نہیں۔ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ترقی کی بنیاد انسانی ذہن ہی ہے۔ جو ذہن جتنا غوروفکر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اتنا ہی تحقیق وتدقیق کے دروازے کھلتے ہیں۔کسی بھی قوم میں غوروفکر کی عادت اسے بلندیوں تک لے جاتی ہے اور غوروفکر کی صلاحیت سے محرومی اسے غلامی کے قلادے اور پسماندگی کا لباس پہناتی ہے۔قرآن کریم نے مومنین کو غوروفکر کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ روحانی اور مادی دونوں سطحوں پر یہ ترقی کی منزلیں طے کرتے جائیں۔لیکن ہماری قوم غوروفکر کے حوالے سے عاری معلوم ہوتی ہے۔بغیر سوچے سمجھے کام کرنا تو اب ہماری فطرت بن چکی ہے جس کا مظاہرہ سائنسی تحقیق میں بھی ہونے لگا ہے۔اگرچہ تحقیق اپنے نام کے اعتبار سے یہاں کی جاتی ہے لیکن تحقیق صرف نام پر نہیں ہوتی بلکہ تحقیق کائنات کی تسخیر کا نام ہے۔جو کائنات اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مسخر کی ہے اس کو سدھانے اور استعمال میں لانے کا نام ہے۔ہماری قوم جن آزمائشوں سے دوچار ہے اس تناظر میں ہمارے نوجوان محققین کو دین کادامن تھامے ہوئے، صبح گاہی کا پیکر بن کر تحقیق کی دنیا میں قدم ڈالنا چاہئے کیونکہ ہماری کامیابی کی شرائط میں دین بنیاد پر ہے۔ہمارے اسلاف کی حیرت انگیز ترقی دین پر چلنے کی وجہ سے تھی۔یہ امام ابو حنیفہ تھے جنہوں نے سب سے پہلے زمین کے گول ہونے کا تصور دیا تھا، یہ امام شافعی تھے جنہوں نے Jurisprudence کاتصور دیا تھا، یہ جابرابن حیان تھے جنہوں نے کیمسٹری کی بنیاد رکھی، یہ ابن سینا تھے جنہوں نے فن طب میں  علم النفس (Psychology )کو داخل کیا فہرست بہت لمبی ہوگی اگر لکھتے جائیں۔الغرض یہ سب دین سے والہانہ محبت رکھنے والی شخصیات تھیں تو مجموعی طور پر امت باقی علوم کی طرح تحقیق میں بھی سرفہرست تھے۔
برصغیر میں تحقیق کے سلسلے میں پیسے کی طلب کا جو بڑھتا ہوا رجحان ہے اس سے تحقیق کرنے والے طلبہ میں صرف اپنا معیار زندگی تبدیل کرنے کی چاہت پیدا ہورہی ہے۔وہ ایک مخصوص وقت تک بودی تحقیق کا کام کرتے ہیں اور پھر ڈگری حاصل کرنے کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں۔اس قسم کے طلبہ کی تعداد ہمارے جموں وکشمیر میں خاصی ہے۔یہ حضرات پہلے ہی تحقیق کی اصلی وجود کو محسوس نہیں کرچکے ہوتے ہیں اور اب ملازمت حاصل کرنے کے بعد تو ان کی تحقیق محض تالیف و ترتیب ہوتی ہے۔لیکن ہمارے یہاں بڑے بڑے اداروں کا معیار بھی ایسا ہے کہ مشکل سے سائنسی تصنیف، تالیف اور ترتیب میں فرق کر پاتے ہیں۔اگر ہمارے محققین لگن سے، محنت سے، دعا کی مدد سے غوروفکر کارویہ اپنا کر دنیا کو نیا نظریہ دینے کا ہنر پیدا کریں گیں تو وہ دن دور نہیں کہ یہاں کے محققین کا حوالہ باہر کی دنیا میں مستند مانا جانے لگے.جموں وکشمیر میں تحقیق کا غیر معیاری نظام نوجوان نسل میں کچھ نیا کرنے کے جذبے سے خالی کررہا ہے۔نوجوان ریسرچر بس کاپی اور پیسٹ کے فن میں مہارت حاصل کر کے زخیم مطبوعات شائع کرتے ہیں۔لیکن یہ پبلیکیشنز ریفرنس کے طور پر شاذ و نادر ہی استعمال ہوتے ہیں۔آرام طلبی تحقیق کے لئے زہر ہے۔تحقیق شب وروز کی محنت شاقہ کی متقاضی ہے۔ذہنی مشقت کے ساتھ ساتھ عملی مشقت (Field and lab work) تحقیق میں اپنا ایک وزن پیدا کرتی ہے جو اسے مغربی دنیا میں مطلوب بنانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ نوجوان محققین میں محنت و مشقت کا جذبہ ماند پڑتا جارہا ہے۔
مضبوط نظریے کے حوالے سے یہ بات پروفیسر منظور احمد شاہ نے دوران سوتی ملاقات میں مجھ سے کہی کہ "جب تک نوجوان ریسرچرز میں نئے نظریات پیش کرنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو تب تک ریسرچ کا انفراسٹرکچر بھی درست نہیں ہو سکتا ہے۔اگر کشمیر سے مضبوط نظریہ یا ہائپاتھسیز پیش کیا جائے اور وہ نظریہ عالمی سائنٹفک برادری کی توجہ مبذول کرے تو جوائنٹ تحقیقی کام کا آغاز ہو سکتا ہے جس میں مغرب سے یہاں کے ریسرچرز کو ہر نوع کی استعانت حاصل ہوسکتی ہے".نظریاتی سطح پر ہماری سائنسی تحقیق اتنی صحت مند نہیں جتنا کہ موجودہ دور کا تقاضا ہے۔یہ بات بھی درست ہے ہمارے یہاں سے نوجوان محققین کو مغرب میں کام کرنے کا موقعہ مل رہا ہے لیکن یہ موقعہ انہیں ان کے کسی نظریے کی بنیاد پر نہیں ملتا بلکہ کسی مشترک پروجیکٹ میں صرف ایک معاون کی حیثیت سے ملتا ہے۔میری کئی ان جیسے حضرات سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کا اپنا نظریہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے بلکہ ان کا کام دوسروں کے نظریات یا کام پر مزید اضافہ کرنے کا ہوتا ہے۔
 (مضمون جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کو شائع ہوگی )
 رابطہ۔7780910136
*****************************