تازہ ترین

ذہنی صحت کا خاص خیال رکھیں | ذاتِ حق پر توکل پریشانیوں سے برأت کی سبیل

فکر صحت

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


عمیر رشید
گھبراہٹ ایک عام انسانی احساس ہے۔ ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گذرتے ہیں۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میںعام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہوجائیں یا بہت عرصے تک رہیں تو یہ ہمیں ان کاموں سے روک سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔فوبیا کسی ایسی مخصوص صورتحال یا چیز کا خوف ہے جو خطرناک نہیں ہوتی اور عام طور پر لوگوں کے لیے پریشان کن نہیں ہوتی۔
اب اگر ہم آج اپنے معاشرے میں دیکھیںتو کافی لوگ ڈپریشن کا شکار ہوئے ہیں۔ جب سے یہ COVID-19 کی بیماری شروع ہوئی تو زندگی کا ہر کوئی شعبہ متاثر ہوا۔ لوگ اپنے گھروں تک ہی محدود رہے اور سارے کام کاج موبائل فون یا لیپ ٹاپ پرکرنا پڑے۔ پھر بھی اب چونکہ تعلیمی اداروں کے بغیر باقی تقریباً سبھی شعبوں میں کام کاج دوبارہ شروع ہونے لگا تو لوگ پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوئے۔ البتہ اگر ہم طالبِ علم کی نظرسے دیکھیں تو انکے لیے وہی شیڈول ہے۔ صبح اپنا موبائیل فون اٹھانا اور شام تک کلاس وغیرہ دینا جِس سے بچوں میں کافی ذہنی دباؤ/اسٹریس دیکھنے کو ملا ہے۔ کتنے ایسے بھی لوگ ہیں جو خودکشی کر بیٹھے؟ کیوں ایک انسان یہ قدم اٹھانے کے لیے اتنی آسانی سے مجبورہوتا ہے؟
اگر ہم دیکھیں تو اکثر ماہرین یا ڈاکٹروں کی طرف سے مضامین آتے رہتے ہیں کہ کیسے اپنی ذہنی صحت کو اچھارکھیں اور اپنے آپ کو ڈپریشن سے بچائیں،کیا کریں اور کیا نا کریں؟مگر یہ بھی ضروری ہے کہ اگر لوگ یہ بات بھی دماغ میں بٹھائیں کہ کیسے اچھے تعلقات اپنے پروردگار کے ساتھ رکھنے سے انسان دل کا چین اور دماغ کا سکون حاصل کرسکتا ہے۔اگر انسان کو زندگی میں کوئی بھی مشکل کیوں نہ آئے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اپنے سارے معاملات ان کے سامنے پیش کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کو تنہا یا خالی ہاتھ نہیں بھیجتا۔ یہ ہماری ہی کمی ہوتی ہے کہ ہم اللہ کی محبت کو نہیں پہچان پا تے ہیں۔ اللہ تعا لیٰ تو خود اپنی کتاب قرآنِ شریف میں فرماتے ہیں سورہ الم نشرا میںکہ "مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے اور بیشک مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے " تو بحیثیت مسلمان ہمیں ہمیشہ اس بات پر یقین اور عمل کرنی چاہئے کہ چلو کوئی نہیں، آج یہ پریشانی ہے میری زندگی میں مگر اللہ تعا لیٰ جلدی ہی اس کو دور کرے گا اور بیشک اْسکی دواسچی ہے۔ اور بھی کچھ چیز یں ہیں جن کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے جن کا ذکر قران شریف میں بھی آیا ہے۔
ہمیں ہمیشہ یاد رہنا چاہئے کہ ہم اس دنیا میں کس لیے آئے ہیں،ہمیں کس ذات نے پیدا کیا ہے؟ ہماراکیا مقصد ہے یہاں آنے کا؟ وہ یہی ہے کہ اس دنیا میں یہ مختصر زندگی جینے کے ساتھ ساتھ اپنے آخرت کی فکر کریں جوکہ اکثر لوگ آج کل بھول گئے ہیں۔ جسکو ہمیشہ یہ بات ذہن میں رہے گی چاہئے زندگی میں کوئی بھی مشکل کیوں نہ آئے،وہ کبھی بھی مایوس نہیں ہوگابلکہ ہمیشہ اللہ کو اپنے معاملات سونپے گا اور اسکی مدد کا انتظار کریگا۔ 
دوسری بات ،اسلام نے ہمیں بری نظر سے بچنے کو کہا ہے۔ بری نظر یعنی کسی کو آپکی ترقی یا کوئی اورچیزپسندنہ آئے اور حسد سے نقصان پہنچائے۔ اس چیز کا ہمیشہ دھیان رکھنا چاہیے، بری نظر کسی کو بھی لگ سکتی ہے اور یہ بھی ایک وجہ بن سکتی ہے آپکی ذہنی پریشانی کی۔ آج کے دور میں اسکی سب سے بڑی مثال سوشل میڈیا ہے۔ کسی اچھے ہوٹل میں کھانا کھانے سے لیکر زندگی میں کوئی بھی اعزازحاصل ہوئے ہوں تو ہم سب کچھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سب کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ کچھ لوگ ہونگے جن کو آپکی ترقی دیکھ کر حسد آئے گا،لہٰذا ایسے بھی آج کے زمانے میں بری نظر لگ سکتی ہے۔ ہمیں اس چیز کا بھی بے حد خیال رکھنا چاہیے۔
اس کے علاوہ مجھے لگتا ہے کہ جو آدمی پکا مسلمان ہوگا اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھتا ہوگا،اس کو کوئی ذہنی پریشانی نہیں ہوسکتی ہے، وہ زیادہ سوچ سوچ کر اپنے آپ کو ڈپریشن کا شکارنہیں بنائے گا۔ اس کو ہمیشہ یہ بات ذہن نشین ہوگی کہ یہ دنیاوی زندگی آخر کار ختم ہونے والی ہے اور اصلی ہمیشہ رہنے والی زندگی کا آنا باقی ہے تو کیوں اس مختصر زندگی میں اتنا ٹینشن لوںبلکہ ہمیشہ اپنے کاموں اور دین کے کا مو ںمیں مشغول رہے گا۔ جو لوگ مسلمان ہوکر بھی زندگی میں کسی پریشانی یا مشکلات کی وجہ سے کافی تنگ آتے ہیں اور پھر ایسا قدم خودکشی کرنے کا اٹھاتے ہیں  تو یہ انکے لیے بہت دکھ کی بات ہے۔ایسے لوگ جان لیں کہ اسلام نے خودکشی کو حرام قراردیا ہے۔ ایسے لوگ اس مختصر دنیاوی زندگی سے تنگ آکر اپنی آخرت، جو کہ ہمیشہ کی رہنے والی زندگی ہے،کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ آپ سوچیں کہ ہم کیا کررہے ہے۔ آج کل کون نہیں ہے جس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی پریشانی یا مْشکلات نہ ہوںمگر کیا اسکا مطلب کیا یہ ہے کہ ہم ہار مان جائیں اور خودکشی کریں! بالکل نہیں بلکہ زندگی سے لڑنا چاہئے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرکے اس سے مدد مانگنی چاہئے۔ ایک انسان کے لیے مسلمان ہونا ہی بہت بڑی نعمت ہے۔
(عمیررشید علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے کے طالب علم ہیں)
ای میل۔ sheikhumairrashid@gmail.com