آبی ذخیرہ باباڈیمب کا وجود خطرے میں | آلودہ پانی سے اُٹھنے والی بدبو سے آبادی پریشان

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//سی این آئی/شہرسرینگر کا مشہور آبی ذخیرہ ’’باباڈیمب‘‘تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ، جہاں اب اس کا پانی زہر الودہ بن گیا ہے، وہیں اس آبی زخیرہ کے ایک بڑے حصے پر خود غرض عناصر نے قبضہ کرکے اس کو زرعی اراضی میں تبدیل کردیا ہے اور اس پر سبزیاں اُگائی جارہی ہیں ۔ نہرکابیشترحصہ اب دلدل میں تبدیل ہوچکا ہے ۔یہ خوبصورت دریاء تیزی کے ساتھ کچرے کے مرکز میں تبدیل ہوتاجارہا ہے ،ایک وقت وہ تھا جب لوگ اس دریاء کا پانی پینے کیلئے استعمال میں لاتے تھے لیکن اب اس کا پانی اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ پانی چھونے سے بھی کئی طرح کی بیماریاں لگنے کا احتمال رہتا ہے ۔ اس چھوٹے سے دریاء میں شہر سرینگر کی ڈرینوں سے نکلنے والا گندہ پانی بشمول گندگی وغلاظت اس جھیل میں چلے جانے سے وہ ایک دلدل کی شکل اختیارکررہی ہے ۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ گندگی اوربدبو کی وجہ سے دریاء کے قریب ٹھہرنابھی مشکل ہورہاہے۔لوگوں کے مطابق نہر کی صفائی کیلئے حکومت غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔حالانکہ مرکزی حکومت نے براری نمبل جھیل کی تجدید اور اس کی خوبصورتی میںاضافہ اور اسکی صفائی کیلئے اب تک وقت وقت پر کروڑوں روپے فراہم کئے ہیں ،تاہم اس ضمن میں ابھی تک کوئی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے ہیں۔باباڈیمب نہر بھی براری نمبل جھیل کے تحت ہی آتی ہے۔یہ آبی ذخیرہ تیزی کے ساتھ اپنا وجود کھوتا جارہا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ باباڈیمب کا ایک بڑا حصہ اب زرعی زمین میں تبدیل کردیا گیا ہے جس پر اب باضابطہ طور پر سبزیوں کی کاشت کی جارہی ہے ۔ کچھ خودغرض عناصر نے اس کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کرکے اس کو اپنی ملکیت بنایا ہے ،تاہم اس کے تحفظ کیلئے محکمہ کی غفلت شعاری سے ایسے عناصر کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جانب خصوصی دھیان دیا جائے تاکہ اس قدرتی اثاثے کو بچایا جا سکے ۔ 
 

تازہ ترین