حیدپورہ اور بمنہ بائی پاس پر کراسنگ بند | ٹرانسپورٹر اورمسافرپریشان ، حکام سے مداخلت کی اپیل

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


نمائندہ عظمیٰ
سرینگر //حیدرپورہ سمیت شہر کے متعدد روٹوں پر ٹریفک کیلئے کراسنگ بند ہونے کے نتیجے میں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ گاڑیوں کی آمد ورفت میں سخت دقتیں پیش آرہی ہیں۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ حید پورہ بائی پاس کراسنگ کو بند رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میںمسافروں کو کراسنگ کیلئے پیر باغ جانا پڑھ رہا ہے جس سے نہ صرف ان کا وقت ضایع ہوتا ہے بلکہ ٹریفک جامنگ کا سلسلہ بھی رہتا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بائی پاس پر سگنل لائٹ نصب ہیں اور وہاں پر محکمہ کے اہلکار بھی تعینات رہتے ہیں ،تو اس کے باوجود بھی وہاں کراسنگ کو بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ  5اگست 2019 کے بعد شہر میں بندشیں ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمہ کے بعد حکام نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر کو سیل کر دیا تھا اور لوگ اس سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ کورونا وائیرس نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جگہ جگہ ناکے لگا کر لوگوں کی نقل حرکت مسدود بنائی گئی۔لاک ڈائون کے دوران ہی محکمہ ٹریفک نے کئی ایک جگہوں پر کراسنگ کو بند کر دیا ہے، ان میں حیدپورہ کراسنگ بھی شامل ہے جہاں سب سے زیادہ مسافروں کو دقتیں پیش آتی ہیں اسی طرح بمنہ بائی پاس چوک، ٹینگہ پورہ بھی شامل ہیں جہاں پر کراسنگ کی جگہوں کو بند کر کے کراسنگ سے تھوڑی ہی دوری پرڈیوائڈر کو بیچ میں سے ہی کھود کر گاڑیوں کی کراسنگ کیلئے راستہ بنایا ہے۔گاڑی چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس کراسنگ پر کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے جبکہ کئی ایک گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں بھی انہیں نقصان پہنچ سکتاہے۔مسافروں نے محکمہ ٹریفک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کراسنگ کو کھول دیا جائے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ 
 

تازہ ترین