لداخ میں ڈومیسائل قانون نافذ نہ کرنیکی یقین دہانی | چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات فراہم ہونگے

ہل کونسل الیکشن کی بائیکاٹ کال واپس

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی/ لیہہ// مرکزی حکومت نے لداخ کی زبان، ڈیموگرافی، قومیت، زمین اور نوکریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کے بعد ضلع لیہہ کی مذہبی، سیاسی، سماجی اور طلبہ تنظیموں پر مشتمل اپیکس باڈی نے لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے اعلان شدہ انتخابات کے بائیکاٹ کی کال واپس لے لی ۔اپیکس باڈی نے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کے طرز پر ڈومیسائل قانون کو لداخ میں لاگو کرنے کی مخالفت کی ہے جس پر انہیں وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین دلایا ہے کہ لداخ میں یہ (ڈومیسائل قانون) لاگو نہیں کیا جائے گا۔ لداخ کو چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کی فراہمی کیلئے تشکیل شدہ اپیکس باڈی اور مرکزی حکومت نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں کہا: 'مذہبی رہنما ٹی رنپوچے (سابق رکن راجیہ سبھا)، تھپستن چیوانگ (سابق رکن لوک سبھا) اور چیرنگ ڈورجے (سابق رکن لوک سبھا) پر مشتمل ایک وفد نے لیہہ لداخ کے لوگوں کی طرف سے 26 ستمبر کو وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی اور وزیر مملکت برائے یوتھ افیئرس اینڈ سپورٹس کرن رجیجو بھی موجود تھے '۔بیان کے مطابق وفد کو یقین دلایا گیا کہ لداخ کی زبان، ڈیموگرافی، قومیت، زمین اور نوکریوں کو تحفظ فراہم کرنے پر مثبت طریقے سے غور کیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے انتخابات کے پندرہ دن بعد لداخ یونین ٹریٹری کے لیہہ اور کرگل اضلاع سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کی وزارت امور داخلہ کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے جن کے ذریعے کسی فیصلے پر پہنچا جائے گا۔بیان کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے وفد کو یقین دلایا ہے کہ لداخ یونین ٹریٹری کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کی فراہمی پر بات کرنے کے لئے تیار ہے ۔بیان کے مطابق وفد انتخابات کے بائیکاٹ کی کال واپس لینے پر راضی ہوگیا ہے اور ان انتخابات کے انعقاد میں اپنا بھرپور سپورٹ فراہم کرنے کا وعدہ دیا ہے ۔دریں اثنا وفد میں شامل لیہہ کے لیڈران اور مرکزی وزرا جی کشن ریڈی و کرن رجیجو نے نئی دہلی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔پریس کانفرنس کے دوران جب ایک نامہ نگار نے لداخی لیڈران سے پوچھا کہ کیا وہ بھی ڈومیسائل قانون چاہتے ہیں تو تھپستن چیوانگ کا جواب تھا: 'ہم ڈومیسائل قانون کے مخالف ہیں، ہم اس قانون کو بالکل قبول نہیں کریں گے ۔ ہمیں وزیر داخلہ نے بھی بتا دیا ہے کہ لداخ کو جموں و کشمیر کے طرز پر ڈومیسائل قانون کے تحت آئینی تحفظات فراہم نہیں کئے جائیں گے '۔ان کا مزید کہنا تھا: 'مرکزی حکومت نے جزوی طور پر ہمارے مطالبات کو مان لیا ہے ۔ ہم چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات مانگ رہے ہیں۔ لداخ کی 97 فیصد آبادی قبائلی لوگوں پر مشتمل ہے ۔ چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کی فراہمی کا بھارتی آئین میں التزام ہے '۔جب ایک نامہ نگار نے لداخی لیڈران سے پوچھا کہ وہ وہی تحفظات کیوں چاہتے ہیں جو انہیں دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل تھے، تو چیرنگ ڈورجے نے کہا: 'لداخ کی آبادی تین لاکھ ہے ۔ ہمارے پاس بہت زمین ہے، وہاں باہر سے بہت سارے لوگ آکر رہائش اختیار کریں گے تو دس سال بعد ہم اقلیت میں ہوں گے ، ہمیں اعتراض کا حق حاصل ہے '۔ان کا مزید کہنا تھا: 'ہم کہتے ہیں کہ ہم ٹرائبل ہیں، یہ ایک کمزور طبقہ ہے ، نارتھ ایسٹ میں نان ٹرائبل، ٹرائبل لوگوں کی زمین نہیں خرید سکتے، چاہنے پر بھی ٹرائبل طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک نان ٹرائبل شخص کو زمین بیچ نہیں سکتا  '۔ایک سوال کے جواب میں کرن رجیجو نے کہا: 'لداخی وفد کا کہنا ہے کہ چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کی فراہمی سے ان کو تحفظ فراہم ہوگا، لداخ کے لوگوں کے تحفظ کے لئے جو بھی ممکن ہوگا اس پر غور کیا جائے گا'۔