تازہ ترین

پرائیویٹ سکولوں کی ماہانہ فیس میں 30فیصد رعایت | احکامات عنقریب جار ی ہونگے،عدالت عالیہ حکم کے پابند:سامون

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//حکومت نے کہا ہے جموں کشمیر کے پرائیوٹ اسکولوں کی جانب سے اگر کورونا لاک ڈائون کے آغازیعنی مارچ 2020 سے  طلاب کے فیس میں30فیصد رعایت نہیں دی گئی،تو سکولوں کو اگست 2019 سے یہ رعایت دینا پڑے گی،کیونکہ پچھلے ایک سال سے اسکول بند ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے تحت ایسا کرنا لازمی ہے اور فیس میں 30 فیصد رعایت دینے کے سلسلے میں با ضابطہ طور پر احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔پرنسپل سیکریٹری ایجوکیشن و فروغ ہنر ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے مزیدکہا کہ جو نجی اسکول داخلہ فیس لیتے ہیں،ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اردو کونسل کی جانب سے آن لائن اردو مضمون نگاری میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹرسامون نے کہا کہ اگر کوئی نجی اسکول داخلہ فیس لیتا ہے تو والدین کو شکایت کرنی چاہیے،تاکہ ان اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کچھ بڑے اسکول حکومت کے احکامات کو خاطر میں نہیں لاتے تو انہوں نے کہا’’ اگر کوئی بگڑ گیا ہے تو اس کو راہ راست پر لایا جائے گا اور قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا‘‘۔ ڈاکٹر سامون نے30فیصد ٹیوشن فیس میں رعایت دینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مارچ سے پرائیوٹ اسکول فیس میں30فیصد کی رعایت دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مدراس اور راجستھان ہائی کورٹ نے بھی احکامات جاری کئے ہیں، جبکہ جموں کشمیر ہائی کورٹ نے بھی اس کا اختیار دیا ہے۔ ڈاکٹر سامون نے متنبہ کرتے ہوئے کہا’’ اگر اسکول فیس میں مارچ سے30فیصد کی رعایت نہیں دی گئی،تو انہیں اگست2019سے یہ رعایت دینی پڑے گی،کیونکہ گزشتہ ایک برس سے اسکول بند ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اسکول بند ہونے کی وجہ سے اسکولوں کے بہت سے خرچے بچ گئے ہیں،جبکہ حکومت بھی انہیں بجلی اور پانی میں رعایت دے رہی ہے۔ پرنسپل سیکریٹری تعلیم نے کہا کہ نجی اسکولوں نے اگر10برسوں میں کمایا ہے تو ایک سال سے کچھ نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا’’ اس سلسلے میںبا ضابطہ طور پر احکامات بھی جاری کئے جائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا نجی اسکولوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اسکولوں کھاتے(اکاونٹ) بھی شفافانہ طور پر منظر عام پر لائے تاکہ والدین کو بھی تشفی ہو۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں میں اساتذہ اور عملے کی تنخواہ کم ہے اور شکایات آرہی ہیں کہ انکی تنخواہوں میں کمی کی گئی اور سرکار چاہتی ہے کہ ان ملازمین کو بھی تنخواہیں ملے۔