شمالی کشمیر سے سرینگر آنے والے مسافر پریشان | بٹہ ما لو بس اڈے کو دوبار بحال کر نے کا مطا لبہ

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//شمالی کشمیر کے لاکھوں عوام بشمول ٹرانسپورٹروں نے ایک مر تبہ پھر تاریخی اورقدیم ترین بٹہ مالوبس اڈے کو دوبار بحال کر نے کا مطا لبہ کیا ہے ۔3سا ل قبل پی ڈی پی بھا جپا حکومت کی طرف سے بٹہ مالو کے جنرل بس سٹینڈ کو پارم پورہ منتقل کرنے کے منصو بہ کے خلاف شمالی کشمیر کے کپواڑہ، ہندواڑہ ، لولاب، اوڑی ، بارہمولہ سوپور اور دیگر قصبہ جات کے علاوہ وسطی ضلع بڈ گام اور گا ندربل کے لوگوں نے مخالفت کرتے ہوئے کہا تھاکہ اس اقدام سے لوگوں کو مشکلات کا ہی سامنا کرنا پڑے گا اور مسافروں پر سخت بوجھ پڑے گا ۔ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیرسے تعلق رکھنے والے اْن لاکھوں مسافسروں بشمول ملازمین ،تاجروں ،طلاب اورمریضوں وغیرہ میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے جوکم کرایہ ہونے کی وجہ سے عمومی طوربسوں اورمیٹاڈاروںمیں ہی سفرکیاکرتے تھے۔سرکاری دفاترمیں تعینات ایسے ملازموں،پرائیویٹ نوکری کرنے والوں،طلبائوطالبات اورمریضوں وغیرہ نے کہاکہ نہ صرف یہ کہ ہمیں اضافی کرایہ اداکرناپڑرہاہے بلکہ ہمیں دفتروں ،اسکولوں ،اسپتالوں اوردیگرمقامات پرپہنچنے میں بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ لوگوں نے مزید بتایا کہ بٹہ مالو میں قائم بس اڈے سے یہ فائدہ تھا کہ اس سے مسافروں کو اپنے اپنے منزل مقصود تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے اور کم وقت لگتا ہے۔مگراب پارم پورہ بس اڈے میں انہیں اترنا پڑتا ہے تو شہر کے دوسرے علاقوں میں جانے کیلئے دوسری گاڑیوں کا استعمال کرکے انہیں ذہنی پریشانیاں ہوتی ہیںجبکہ اس صورتحال سے ہر طرح کے مریضوں جن میں مرد و خواتین اور بچے شامل ہیں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنرسے پارم پورہ سے مذ کورہ بس اڈے کو بٹہ مالو منتقل کر نے کی فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔سی این ایس)
 

تازہ ترین