تازہ ترین

تاریخی پتھر مسجد کی خستہ حالی پر لوگ برہم | محکمہ آثار قدیمہ پر لاپرواہی برتنے کا الزام

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی
سری نگر//پائین شہر کے زینہ کدل علاقے میں دریائے جہلم کے کناروں پر واقع تاریخی اور اپنی منفرد طرز تعمیر کے باعث وادی بھر میں مشہور پتھر مسجد کی خستہ حالت سے مقامی لوگوں میں ناراضگی بھی پائی جا رہی ہے اور وہ محکمہ آثار قدیمہ کے خلاف سراپا احتجاج بھی ہیں۔تاریخی خانقاہ معلیٰ اور مجاہد منزل، جو وادی کی سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کا کئی دہائیوں تک ہیڈ کوارٹر رہا ہے، کے روبرو واقع قریب چھ سو سال قدیم پتھر مسجد محکمہ آثار قدیمہ کے تاریخی یادگاروں میں شامل ہے۔مسجد کی شان اور تاریخی و دلکش طرز تعمیر کی بحالی کے لئے مقامی لوگوں نے محکمہ آثار قدیمہ کے خلاف احتجاج درج کیا۔احتجاجی 'بچاؤ بچاؤ پتھر مسجد بچاؤ' کے نعرے بلند کر رہے تھے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخی مسجد کو محکمہ آثار قدیمہ نے خدا کے ہی رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اورگذشتہ8برسوں سے اس کی مرمت و بحالی کی طرف سے کوئی توجہ مبذول نہیں کی جا رہی ہے۔محمد صدیق نامی ایک معمر شہری نے بتایا کہ یہ مسجد محکمہ آثار قدیمہ کی تاریخی یادگاروں میں شامل ہے لیکن متعلقہ محکمہ اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہا ہے۔ یہ ایک ایکٹیو یادگار ہے کیونکہ یہاں روزانہ نماز پنجگانہ ادا کی جاتی ہے'۔موصوف نے کہا کہ گذشتہ آٹھ برسوں سے اس مسجد پر ایک پیسہ بھی صرف نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس مسجد کا محراب اور چھت خراب ہونے لگے ہیں۔لوگوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمہ اس مسجد کی بحالی کی طرف خصوصی طور پر متوجہ ہو کر اس تاریخی ورثہ کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کوئی لیت ولعل نہ کرے۔قابل ذکر ہے کہ پائین شہر کے زینہ کدل میں واقع تاریخی پتھر مسجد کو مغل بادشاہ جہانگیر کی شریک حیات نور جہاں نے سال 1623 میں تعمیر کروایا تھا۔ اس مسجد کی تعمیر وادی کی دیگر مساجد کی تعمیر سے بالکل منفرد ہے۔ روایتی چھت کے برعکس اس کا چھت ڈھلوان ہے۔ اس مسجد کے نو محراب ہیں جن میں مرکزی محراب سب سے بڑا ہے۔یو این آئی