تازہ ترین

افسانچے

تاریخ    27 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


خالد بشیر تلگامی

سبق

 اچانک احمد کی بچی کی طبیت خراب ہو گئی اور وہ اسے لے کر فوراً ہسپتال پہنچا۔ ہسپتال میں وہ سیدھے بچوں کے ڈاکٹر کے کیبن میں گیا۔ کیبن خالی تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ پریشان ہو گیا۔ اِدھر اُدھر معلوم کرنے پر جب ڈاکٹر کے بارے میں کسی سے کچھ پتہ نہیں چلا تو وہ سیدھا میڈیکل آفیسر کے پاس پہنچا ۔
 " سر بچوں کا ڈاکٹر کہاں ہے میری بچی کی طبیت  بہت خراب ہے؟
"  ڈاکٹر ابھی ابھی گھر گیا ہے آپ کو ایک گھنٹہ پہلے آجانا چاہیے تھا"
"سر میری بچی کی طبیت ابھی خراب ہوئی ہے اور ویسے بھی  ابھی  بارہ ہی بجے ہے " 
"مطلب کیا ہے تمہارا وہ آپ کے لئے یہاں بیٹھتا  رہتا" میڈکل آفسیر کے چہرے پر غصے کی لہر دوڈ گئ۔
"سر کیا ان کی ڈیوٹی  بارہ بجے تک ہی تھی۔؟ اب میری بچی کا علاج کون کرے گا ‘‘کہتے ہوئے احمد کی آواز اونچی ہو گئی
"شور مت مچاو، چلو نکلو یہاں سے۔ اس کے پرائیویٹ کلینک پر جاؤ "
 یہ سن کر کمرے میں ایک ’تڑاخ‘ کی آواز گونج گئی اور میڈکل آفسیر کا گال سرخ ہو گیا ۔ آخر وہ غریب کرتا بھی کیا۔
 

ماسک

وہ متوسط طبقے کا فرد ہے اسلئے Coid 95 ماسک خریدنا اسکے لئے ناممکن ہے. اس نے اپنی آرزو پوری کرنے کے لئے ایک دکان سے ماسک چُرالیا ۔
چوری کرنے کے بعد وہ کسی سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا۔لیکن اب وہی چوری کا ماسک پہن کر وہ اطمینان سے سب کے درمیان گھومتا رہتا ہے.!!!!
 

بلیدان

وہ ایک غریب کسان ہےدو کنال زمین کا مالک دن رات محنت مزدوری کرتا کیونکہ وہ بیٹے کو خوب پڑھانا چاہتا تھا، اسلئے اس نے دو کنال زمین بیچ دی  اور بیٹے کو پڑھایا لکھایا ۔آج ای پی ایس کا نتیجہ آیا اور اسکے بیٹے نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہ بہت خوش تھا! 
 محلے بھر میں مٹھائیاں بانٹتا پھر رہا تھا۔ ہمسائے رشتہ دار مبارکباد دینے پہنچ رہئے تھے۔ میڈیا کو پتہ چلا تو وہ بھی آدھمکے۔ انٹریو لیتے لیتے ایک میڈیا والے نے  بیٹے سے پوچھ لیا۔
"آپ اپنی کامیابی کا سہرا کس کے سر باندھنا چا ہیں گے"
بیٹنے نے فخر سے جواب دیا 
"اپنے استادوں کے سر!! "
 

مجبورسوچ

وہ ایک سکالر تھا مگر بےروزگار تھا۔ گھر والے اس کی شادی کسی اچھے گھرانے میں کرنا چاہتے تھے مگر وہ بضد تھاکہ اپنے بچپن کی دوست سے شادی کرنے کیلئے۔ 
اسکے کہنے پر گھر والوں نے اپنی طرف سے لاکھ کوششیں کی مگر صرف مایوسی ہاتھ لگی ۔
آج جب اس لڑکی کی شادی ایک چپراسی سے ہوئی تو اسکی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور وہ دل ہی دل میں یہ سوچنے لگا۔
اے کاش پی ایچ ڈی کر کے میں  چپراسی ہی بن گیا ہوتا۔!!!!
 

عقیدت 

یو پی ایس سی  کا رزلٹ آیا تھا۔ راہل نے چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی ۔ اخبار میں خبر پڑھ کر میں مبارک با د دینے اسکے گھر کی جانب چل دیا۔ وہ مجھے راستے میں ہی مل گیا۔بغل گیر ہوکر مبارک باد دے کر تعجب سے پوچھا۔ 
"اتنی عجلت میں کہاں جارہے ہو!؟"
" ماتھا ٹیکنے!! "
"لیکن گردوارہ تو اُدھر ہے!! "
"میں ماسٹر جی کے گھر جارہا ہوں "
 

دوغلا

"دوست تم نے یہ کیسا ویڈیو بھیجا ہے دیکھ کردل دہل گیا ہے" ۔۔۔۔۔۔لوگ لاک ڈاون میں بھوک سے مر رہے ہیں، دیکھ کر آنکھوں سے آنسو کیا نکل پڑے تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہئے ہیں ۔
" اےکاش اس مصیبت کی گھڑی میں ہم بھی کسی غریب کے کام آسکتے!! 
"بیٹا ! میں نے کھڑکی سے دیکھا ایک بھکاری دروازے پر کھڑا  صدا  لگا رہا  ہے۔" 
ابھی ماں نے اپنی بات مکمل بھی نہیں کی تھی کہ بیٹے نے عجلت سے کھڑکی بند کر دی..!!!
 
 

 اعتماد

مٹینگ شروع ہوتے ہی وہ اپنے پارٹی ورکروں سے اگلا الیکشن جیتنے کیلئے تبادلہ خیال کرنے لگا۔اچانک اشرف کھڑے ہو کر بولا"سر ! اب آپ وقتا فوقتا اپنے علاقے کا بھی  دورہ کریں تاکہ لوگوں کے مسائل کا ادراک ہو جبھی آنے والا الیکشن جیتنا ہمارے لئے ممکن ہوسکے گا۔ علاقے کے  لوگ آپ سے بہت ناراض ہیں سب آپ کی پیٹھ پیچھے کہتے ہیں کہ صاحب نے الیکشن جیتنے کے بعد پھر کبھی بھی ہمارے علاقے کی طرف دھیان ہی نہیں دیا ۔ "
یہ سن کر صاحب نے ایک اُچٹتی سی نگاہ اشرف پہ ڈالی اور لاپروائی سے بولے 
"ارے! میں ابھی آکے کیا کروں گا،الیکشن سے دو مہینے پہلے ضرور آوں گا۔"
" سر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم اسطرح جیت جائیں گے۔"
" کیوں نہیں تم دیکھ لینا میں ہی جیتوں گا"
" سر اس کی کوئی خاص وجہ؟؟"  
"تمہیں معلوم نہیں کے لوگوں کی یاداشت بہت کمزور ہوتی ہے"
 
 

راہِ عروج

تمہیں شرم نہیں آتی اپنے استاد کے سامنے اناپ شناپ بول رہے ہو۔
"ارے انکل یہ فائیو جی کا زمانہ ہے اور آپ پرانے خیالات کے ہو، ویسے آپ کو سمجھانا۔۔۔؟؟؟"
یہ سن کر اس نے چپ ہونے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اور سرد آہ بھرتے ہوئے سوچنے لگا۔
"کتنا حسین وہ زمانہ تھا جب شاگرد اپنے استاد کو دیکھ کر راستہ بدل دیتے تھے۔ اس ماڈرن دور نے ہمیں اتنا ماڈرن بنا دیا ہے کے اب شاگرد کو دیکھ کر اُستاد اپنا راستہ بدل دیتا ہے۔