تازہ ترین

ترال میںروز گار سے محروم 52 دکانداروں کا احتجاج

۔ 7ماہ سے باز آباد کاری کے منتظر،سرکار کے وعدے سراب ثابت

تاریخ    26 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سید اعجاز
ترال//بس اسٹینڈ ترال میںسرکار کی انہدامی کارروائی سے متاثر ہوئے 52 دکانداروں نے 7ماہ سے ان کی باز آباد کاری کے لئے کوئی بھی قدم نہ اٹھانے کے خلاف زوردار احتجاج کیا ۔احتجاجی دکانداروں نے بتایا کہ وہ بنک کے علاوہ دیگر قسم کے قرضہ جات تلے دب گئے ہیں جس کے نتیجے میں وہ سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔جمعہ کی صبح بس اسٹینڈ ترال کے اِن 52دکانداروں نے اپنی باز آباد کاری کے حق میں ترال چوک میں زور دار احتجاج کیا۔متاثرہ دکانداروں نے بتایا کہ مارچ 2020ء میں سرکار نے بس اسٹینڈ ترال میں قائم52دکانوں کوگرانے کے لئے بلڈوزر استعمال کر کے انہیں مکمل طور زمین بوس کیا ۔انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے اس وقت ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ان کی باز آباد کاری کے لئے ایک بہتر منصوبہ بنایا جائے گا۔احتجاجی دکانداروں نے بتایا کہ7ماہ گزر جانے کے باجوود تاحال اُن کی بحالی کا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ مشکلات سے دوچار ہیں ۔جاوید احمد نامی ایک دکاندار نے بتایا کہ یہاں تقریباً ہر ایک دکاندار نے بنک سے قرضہ حاصل کر کے کار وبارشروع کیاہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ سات ماہ سے نہ تو بنک کا قرضہ چکا سکے ،نہ ہی بیو پاریوں کو کچھ دے سکے ہیں۔انہوں نے بتایا ہمارے دکان بند ہونے سے ان کا لاکھوں روپے کا مال بھی خراب ہونے کے علاوہ مارکیٹ میں لوگوں کے پاس ان کی رقم بھی واپس نہیں آتی، جس کے نتیجے میں 52دکانداروں کے کنبے فاقہ کشی کا شکار ہوئے ہیں ۔غلام رسول نامی ایک دکاندار نے بتایا سرکار نے بس اسٹینڈ میں موجود چند دکانوں کی دوسری منزل تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے جو کئی لحاظ سے ناکام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سبزی فروش،یا گاڑی کا ٹایر سنبھالنے والا دوسری منزل میں کیا کرے گا۔اس دوران ٹریڈ یونین ترال کے چیر مین اشفاق احمد کار نے بتایاکہ ہم نے انتظامیہ کو بتایا تھا کہ اگر سرکار کے پاس اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے رقومات نہیں ہیں ،تو ہم از خود دکان تعمیر کریں گے اور ان دکانوں کا کرایہ وہ مقامی میونسپل کمیٹی کو دیں گے تاکہ ہمارے دکانداروں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔صدر اوردیگر دکانداروں نے اس سلسلے میں ایل جی سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ 52دکاندارفاقہ کشی سے بچ جائیں ۔