گوشہ اطفال|26 ستمبر 2020

تاریخ    26 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


طلبہ کی صحت کیلئے عمدہ مشورے

 
فکرِ اطفال
 
فاروق احمد انصاری
 
ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے اور دماغ صحت مند ہوتو کوئی بھی امتحان مشکل نہیں ہوتا اور کامیابی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بچے جب تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو اپنی غذا اور کھانے پینے کی روٹین کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ امتحان کی تیاری، اسائنمنٹس جمع کروانے کی ٹینشن اور دیگر روزمرہ معمولات مستقل طورپر طلباکے ذہنوں پر سوار رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے طلبا اس قدر توانائی نہیں رکھتے کہ وہ تعلیم اور زندگی میں توازن لا سکیں۔ اسکو ل، کالج، گھریلو اور سماجی سرگرمیوں  میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار کیلئے طلبا کو فٹ اور صحت مند رہنا بہت ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کی غذا کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ کم عمری سے ہی متوازن غذا مستقبل کیلئے ایک عمدہ بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ نکات کو ذہن میںرکھنا ضروری ہے۔
غذا کی مقدار کا خیال رکھنا
بہت زیادہ کھانے کا مطلب صحت مند ہونا نہیں ہوتا۔ اس لیے غذا کے تناسب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے خاص طورپر سبزیوں ، دالوں اور گوشت کاتناسب عمر اور ضرورت کے مطابق ہونا چاہئے۔
ناشتہ ضرور کریں
چاہے آپ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، آپ کو غذائیت سے بھرپور ناشتے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ اپنے دن کا آغاز عمدہ ناشتے کے ساتھ کیجئے۔ 
پانی پیتے رہیں 
پڑھائی کے دوران آپ پانی پینا بھول جاتے ہیں یا ٹالتے رہتے ہیں، جوکہ نقصان دہ ہوسکتاہے۔ وہ طلبا جو گھنٹوں مطالعہ کرتے ہیں یااپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں ، ان کیلئے زائد مقدار میں پانی پینا بہت اہم ہے۔ اپنے ساتھ ہمیشہ پانی کی ایک بوتل ضرور رکھیں۔
میٹھا اور جنک فوڈکم کھائیں
بہت زیادہ کھانا کھانا پریشان کن نہیں ہوتا البتہ آپ میٹھی اشیا، کولڈڈرنک یا جنک فوڈ زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کھانے والی غذا لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش بھی ہو۔
کھیلوں میں حصہ لیں
جو طلبہ ہر وقت پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں ان کے لیے ورزش کو وقت دینا مشکل ہوتا ہے۔ کاہلی یا پڑھائی کی ذمہ داری کی وجہ سے بہت سے طلبا جِم نہیں جا پاتے۔ اگر وہ کسی کھیل میں حصہ لیں تو ان کا جسم متحرک رہ سکتا ہے۔ بیڈ منٹن، ٹیبل ٹینس یا اسکواش جیسے کھیل عمدہ فٹنس دیتے ہیں اور فٹبال اور کرکٹ جیسے آئوٹ ڈور گیمز کھیلنے سے بھی صحت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔
پیدل چلیں
بے شک آپ کے پاس موٹر بائیک یا کا رہے لیکن پیدل چلنے کی عادت آپ کی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ پیدل چلنے کے علاوہ جاگنگ یا رننگ بھی کی جاسکتی ہے۔ گاڑی یا بائیک ہو تو اسے دور کھڑا کرکے پیدل اپنی کلاس یا کسی بھی دکان پر جانے کی عادت ڈالیں۔
جِم جوائن کریں
اگر آپ کسی جِم جائیں تو آپ کو اس میں داخلہ لینے کی ترغیب ملے گی۔ جِم میں سائیکلنگ ، رننگ وغیرہ کی سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں۔ اس بات کا خیال رکھیے کہ اگر آپ جم میں ایکسرسائز کررہے ہیں تو یہ مستقل بنیادوں پر ہونی چاہئے، ایسا نہ ہو کہ جوش و خروش میں چند دن گئے اور پھر جانا چھوڑ دیا۔ اس سے فائدے کے بجائے نقصان ہونے کا احتمال رہتاہے۔
نیند
صرف طلبا کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر انسا ن کیلئے بھرپور نیند بہت ضروری ہے کیونکہ جو کچھ آپ پڑھتے یا ذہن نشین کرتے ہیں، وہ نیند کیدوران آپ کے دماغ میں جگہ بنا رہا ہوتا ہے۔ کوشش کریں کہ دوپہر میں تھوڑی دیر سونے (نیپ لینے) کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کی کھوئی ہوئی توانائی لوٹ آئے گی، اسی لئے اسے پاور نیپ کہتے ہیں۔
پوری رات نہ پڑھیں
بہت سے طلبا ساری ساری رات پڑھتے ہیں، جس سے فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہو سکتاہے۔ موزوں نیند نہیں لیں گے تو آپ اپنی بہتر کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہے ہوںگے اور آپ کی صحت بھی متاثر ہونے لگے گی۔
بیماریوں سے بچنے کیلئے
تحقیق و تجزیے بتاتے ہیں کہ کلاس روم، تعلیمی اداروں میں ساتھ وقت گزارنا اور ہاسٹل میں ساتھ رہنے سے ایک دوسرے کو نزلہ زکام لگنے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ اس ضمن میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سے بچنے کیلئے جب بھی آپ کسی بیمار فرد سے ملیںیا گندی جگہ سے آئیں تو ہاتھ ضرور دھوئیں کیونکہ آپ کے ہاتھ پر جراثیم لگ چکے ہوتے ہیں اور اگر وہ جراثیم والے ہاتھ آپ اپنی آنکھوں ، ناک یا کانوں میں لگائیں گے تو جراثیم وہاں منتقل ہو جائیں گیاور آپ کو بیمار کردیں گے۔اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کولڈ ڈرنک یا پانی کی بوتل شیئر کرنے سیگریز کریں، اس سے بھی جراثیم منتقل ہونے کا خدشہ ہوتاہے۔ اگر آپ بیمار ہیں تو اسکول یا کالج جانے کے بجائے ڈاکٹر کے پاس جائیں تاکہ آپ دوسروں کو بیمار کرنے کا باعث نہ بنیں۔
 

موت کے لمبے ہاتھ!

 
کہانی
 
 رئیس صدیقی
 
ایک دن کا ذکر ہے کہ دوپہر کے وقت مِتھلا ریاست کے راجہ جنک کے پاس ان کا ایک ذاتی خادم ہانپتے ہوئے آیا اور ہکلاتے ہوئے بولا:حضور!… ابھی… ابھی بازار میں… مجھے موت… موت کی دیوی دکھائی پڑی ۔ وہ … وہ مجھے بڑی دیر تک تکتی رہی… مجھے ڈر لگ رہا… کہ کہیں…
 راجہ جنک نے اس کے کانپتے ہوئے جسم پر ایک سرسری سی نظر ڈالی اور بات کاٹتے ہوئے تسلّی دینے کی کوشش کی۔غور سے سنو! موت کی دیوی ظالم نہیں ہوتی۔وہ بلا وجہ کسی کو نہیں ستاتی۔ اس کے پاس جس کی موت کا پروانہ ہوتا ہے،وہ اسی کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ اور یہ کوئی خوف یا ڈر کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ جس طرح ہم اپنے جسم کے کپڑے بدلتے ہیں، ٹھیک اسی طرح ہماری روح مقررہ وقت پر اپناٹھکانا بدل لیتی ہے۔یاد رہے کہ سب کو ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ یعنی ہر جاندار کے لیے موت یقینی ہے۔موت سے کوئی بچ نہیں سکتا  ! 
 لیکن وہ خادم راجہ کے سمجھانے سے اور زیادہ خوف زدہ ہوگیا اور پھٹی پھٹی آواز میں بولا:حضور! آپ کا اقبال بلند ہو۔ اگر میں یہاں رہوں گا تو موت کی دیوی ہر حال میںمجھے اپنے ساتھ لے جائے گی اور مجھے موت سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اس لئے میری آپ سے التجا ہے کہ آپ مجھے اپنے اصطبل سے ایک بہت ہی تیز رفتار گھوڑا دینے کی مہربانی کریں تاکہ میں اس پر سوار ہوکر جلد سے جلد اجودھیا نگر پہنچ جائوں اور ماتا سیتا دیوی کے قدموں میں رہ کر ساری عمر بتادوں۔
راجہ کو اس کی معصومیت پر رحم اور بیوقوفی پر غصہ آیا لیکن اس کی خدمات کا لحاظ کرتے ہوئے اس نے اسے ایک تیز رفتار گھوڑا دے دیا جس کا نام’ منوویگ ‘ تھا اور جو ہوا سے بھی زیادہ تیز ، انسانی سوچ سے بھی زیادہ تیز دوڑ تا تھا۔ وہ اس پر سوار ہوکر خوش خوش اجودھیا نگر کی طرف چل دیا۔اتفاق سے اسی وقت راجہ کو اپنے کسی ذاتی اور خاص کام سے کہیں جانا پڑا۔ جب وہ اپنا کام پورا کرکے اپنے محل واپس آرہا تھا تو راستے میں اسے ایک گھر سے چِلا چلا کر رونے کی آوازیں سنائی دیں۔ پھر اس گھر سے اسے موت کی دیوی نکلتی ہوئی دکھائی دی۔راجہ نے اس دیوی کو روک کر ادب سے پوچھا۔اے دیوی! کیا تم یہ بتانے کی مہربانی کروگی کہ تم آج بازار میں میرے ذاتی خادم کو کیوں گھور گھور کر دیکھ رہی تھیں؟
 موت کی دیوی نے وجہ بتاتے ہوئے کہا۔میں اسے اس لئے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی کہ کیا یہ وہی آدمی ہے جس کو آج میرے ساتھ چلنا ہے یا یہ کوئی اور ہے؟ کیونکہ اس آدمی کا پتہ اجودھیا نگر کے قلعہ کا دروازہ اور وقت شام لکھا ہے۔ اس لئے شبہ ہوا کہ کہیں اس آدمی کا پتہ اور وقت لکھنے میں کوئی بھول تو نہیں ہوئی ہے ؟کیونکہ وہ آدمی ابھی تک یہاں موجود تھا۔ اس کا شام تک اجودھیا نگر کے پاس ہونا کیسے ممکن ہوسکتا ہے ؟
راجہ نے نہایت افسوس بھرے لہجہ میں موت کی دیوی کی الجھن کو سلجھاتے ہوئے کہا:دیوی! پتہ اور وقت بالکل صحیح کہا ہے۔کیونکہ وہ تم سے خوف کھاکر، میرا سب سے تیز رفتار گھوڑا لے کر اجودھیا نگر بھاگ گیا ہے۔ اور آج شام تک وہ یقینا وہاں پہنچ جائے گا۔
 اور اس طرح اس نے خود اپنے آپ کو موت کے قریب کرلیا ۔سچ ہے، موت کے ہاتھ بڑے لمبے ہوتے ہیں!!!
 ( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دلی اردو اکادمی ایوارڈ یافتہ ادیبِ، ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو دلی؍ بھوپال کے سابق آئی بی ایس افسر،
 پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار، شاعرو ادیبِ اطفال، وٹس ایپ گروپ بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں) 
رابطہ۔ rais.siddiqui.ibs@gmail.com      
 
 

محنت کا پھل…!!!

انصار حسین
 
کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں دو دوست رہتے تھے ایک کا نام رامو اور دوسرے کا نام شامو رامو ایک محنتی شخص تھا اور شامو کاہل اور کام چور تھامحنتی راموہمیشہ اپنے بچوں کا خیال رکھتا تھا اور انہیں بڑی دھوم سے پالتا تھا اورشامو ہمیشہ اپنے گھر تک ہی محدودرہتا تھا اور انہیں اپنے بچوں کوئی فکر نہیں رہتی تھی نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بچے بھی اسی کی طرح کاہل ہوگئے اور وہ بھی اپنیہی گھر میں اپنے والد کی طرح رہنے لگے موسم سرما آنے لگا تو رامو اور اس کے بچے اناج گودام کرنے میں لگ گئے شامواور اس کے بے فکر بچے صرف موج مستی کرتے تھے جب برف گری راستے بند ہوگئے اور رامو اپنے بچوں کے ساتھ اچھی طرح سے زندگی بسر کرنے لگا اور شامو کے گھر میں روز لڑائی جھگڑے اسی بات پر ہوتے تھے کہ ان کے گھر میں پکانے کیلئے کچھ نہیں تھا اور آخر کار وہ الگ الگ ہوگئے اور غریب سے غریب تر ہونے لگے رامو اور ان کے بیٹے اتفاق میں رہتے تھے اور انہوں نے ایک عالی شان محل بنایا اور اسی میں رہنے لگے۔ اس لئے میرا کہنا ہے کہ ہمیشہ محنت کرنی چاہیے۔
جماعت: اول
لیوسنٹ انٹرنیشنل سکول ماگام
گُدگُدیاں…!!!
تین دوست
ایک بار تین دوست کھانا کھانے گئے۔اتنے میں بادل ا?گئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک کو چھتری لانے کے لئے بھیجا جائے۔چنانچہ ایک دوست چھتری لینے چلا گیا اس نے شرط رکھی میرے آنے تک کوئی کھانے کو ہاتھ نہیں لگائے۔پانچ گھنٹے گزر گئے وہ نہ آیا تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب کھانا کھا لینا چاہیے، جیسے ہی انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا دروازے کے پیچھے سے آواز آئی خبردار اگر کھانے کو ہاتھ لگایا تو میں چھتری لینے نہیں جائوں گا۔
مرتے وقت ایک شخص کی وصیت
بیٹا تم ڈیفنس والے پانچ بنگلے لے لینا۔بیٹا تم سے میں بہت پیار کرتا ہوں، کلفٹن والی 20 کھوٹیاں میں تمہیں دے رہا ہوں۔اور بیگم صدر والے 11فلیٹ تمہارے۔پاس کھڑی نرس بہت متاثر ہوئی اور اس کی بیوی سے بولی آپ کتنے خوش قسمت ہیں آپ کے شوہر کتنے امیر ہیں۔بیوی بولی کہاں کے امیر یہ دودھ والا ہے۔اپنے گاہکوں کے نمبر بتا رہا ہے۔
 

 دلچسپ معلومات…!!!

مدیحہ تبسم
دنیا کا سب سے چھوٹا اور خوبصورت محل
دور دراز اور شور شرابے سے دور علاقوں میں بنے چھوٹے گھر ہمیشہ ہی خوبصورت لگتے ہیں اور دل کو بھاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ گھر کے بجائے پورا محل ہوتو کیا ہی کہنے۔برطانیہ میں واقع دنیا کا سب سے چھوٹا محل ‘مولیز لاج’ کے نام سے مشہور ہے، جو 0.61 ایکڑ پر بنا ہوا ہے۔ انیسویں صدی میں بننے والے اس محل کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ یورو یعنی تقریباً 6 لاکھ 87 ہزار ڈالرز ہے۔
گرگٹ رنگ کیسے بدلتا ہے
گرگٹ کی طرح کسی شخص کے رنگ بدلنے کا محاورہ تو آپ نے سن رکھاہوگا اور گرگٹ واقعی میں اپنا رنگ بدلتاہے، جس کی کوئی ٹھوس وجہ معلوم نہیں ہوسکی لیکن اب سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے یہ معمہ حل کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ سوِئس سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گرگٹ اپنا رنگ جلد کے اندر مخصوص خلیوں میں رنگوں کے کرسٹلز کی ترتیب کو اوپر نیچے کر کے بدلتا ہے اور گرگٹ کی جلد میں موجود خلیوں کو ’آئینے‘ سے تشبیہ دی ہے۔ سائنسدانوں کاکہنا تھا کہ گرگٹ کی جلد میں خلیوں کی ایک دوسری تہہ بھی دریافت کی، جس کی مدد سے یہ رینگنے والا جانور ’انفرا ریڈ‘ روشنی کو منعکس کرتا ہے جو اسے اپنا جسم ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یونیورسٹی آف جنیوا کے کوانٹم فزکس اور ارتقائی حیاتیات کے شعبوں کے سائنسدانوں کا کہنا ہے، گرگٹ دو طریقوں سے رنگ پیدا کرتا ہے۔ ایک تو اس کے جسم میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جن میں گہرے یا گرم رنگ بھرے ہوئے ہوتے ہیں، جبکہ چمکدار نیلے اور سفید رنگ اس کی جلد کے اس پرت سے نکلتے ہیں، جہاں سے رنگ منعکس ہوتے ہیں۔ ان دونوں اقسام کے رنگ آپس میں مل بھی جاتے ہیں، جیسے نیلے رنگ کے خلیے کے اوپر سے جب پیلا رنگ گزرتا ہے تو گرگٹ چمکدار سبز دکھائی دیتا ہے۔تحقیق کے مطابق رنگوں کی اس آمیزش کے علاوہ گرگٹ کے رنگ میں کچھ تبدیلیاں اس وجہ سے بھی آتی ہیں کہ وہ اپنے خلیوں میں موجود رنگین مادے کو ایک خلیے سے دوسرے خلیے میں منتقل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یعنی جب تمام رنگ گرگٹ ایک جگہ جمع کر دیتا ہے تو اس کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے، جبکہ ان کے بکھرنے سے اس کا رنگ ہلکا ہو جاتا ہے۔
دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ
کینیڈا اور امریکہ کی سرحد پر ‘‘St. Lawrence River’’ نامی دریا بہتا ہے۔ اس دریا میں دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ واقع ہے جسے ‘‘Just enough room’’ نام دیا گیا ہے۔ یہ جزیرہ اتنا چھوٹا ہے کہ اس پر صرف ایک گھر اور اس کے ساتھ درخت ہی کے لیے جگہ ہے۔ اسے دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ مانا جاتا ہے۔وکی پیڈیا کے مطابق یہ جزیرہ 3,300 مربع فٹ پر مشتمل ہے۔ اسے ’’Seizland‘‘ خاندان نے 1950 میں خریدا تھا۔ یہ جزیرہ ایک گھر، ایک درخت، چند جڑی بوٹیوں اور ایک چھوٹی سی ساحل پر مشتمل ہے۔
 
 

تازہ ترین