تازہ ترین

پانی زندگی ہے اور لاپر واہی موت

تاریخ    26 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


  جموں و کشمیر بالعموم اور وادی کشمیر بالخصوص اگر چہ آبی وسائل سے مالا مال ہے لیکن حسرت کا مقام ہے کہ وادی کے بیشتر علاقوں میں لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں اورآئے دنوں مضر صحت پانی کے استعمال سے وبائی بیماریاں پھوٹ پڑنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔اگر اس مسئلہ پر ذرا سنجیدگی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وادی میں قلتِ آب کیلئے براہ راست محکمہ آب رسانی،جسے اب جل شکنی محکمہ نام دیاگیا ہے، ذمہ دار ہے ۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ پانی کی فراوانی کے باوجود تقسیم ملک کے 73سال بعد بھی کشمیری عوام پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیںگوکہ اس کیلئے محکمہ آب رسانی رقومات کی عدم دستیابی کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے اس سیکٹر کیلئے جس طرح ریاستوں کو زر کثیرفراہم کیا گیا ،اُس سے یہ امید کی جارہی تھی کہ پانی کے مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جاسکے گا تاہم جموں وکشمیر میں حکومت کی کارگزاری کا چونکہ باوا آدم ہی نرالا ہے لہٰذا یہاں یہ چیزیں خلاف توقع نہیں ہیں ۔
جہاں تک جل شکتی محکمہ کا تعلق ہے تو یہ محکمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست انسانی آبادی کے وجود سے ہے اور اگر پانی فراہم نہ ہو تو موت طے ہے اور اگر پانی غلیظ ملے تو بیماری یقینی ہے تاہم مذکورہ محکمہ جان بوجھ کر عوام کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں پوری وادی میں ہی نہیں بلکہ جموں صوبہ کے خطہ چناب میں ہزاروں لوگ یرقان اور دست و قے کی بیماریوں میںمبتلا ہوگئے لیکن محکمہ ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے ۔ مذکورہ محکمہ بے عملی کا اس حد تک خو گر ہوچکاہے کہ اب صارفین کو ایگریمنٹ کے باوجود بھی پانی فراہم نہیںکیاجارہا ہے ۔
محکمہ آب رسانی کا ایک اہم ڈویژن پی ایچ ای ڈویژن سرینگر ہے جس کے ذمہ شہر سرینگر میں بود وباش کرنے والوں کو صاف پانی فراہم کرنا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ڈویژن اپنے فرائض سے آنکھیں چرا رہا ہے ۔جو پانی لوگوں کو فراہم کیا جارہا ہے وہ اصل میں قابل استعمال نہیں ہے اور اس پر طرہ یہ ہے کہ یہ پانی بھی وقت پر لوگوں کو فراہم نہیں کیا جارہا ہے،نتیجہ کے طور پر پانی کی ہاہاکار مچ جاتی ہے۔جہاں تک مذکورہ ڈویژن کے حکام کا تعلق ہے تو وہ اپنے آپ کو تیس مارخواں سمجھتے ہیں اور ان کی بات حرف آخر ہوتی ہے۔من مانیوں کا یہ عالم ہے کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔جس علاقہ یا خطہ میں پبلک ڈیلنگ سے منسلک افسران کا یہ حال ہو،اس خطہ یا علاقہ کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔
جوابدہی کے فقدان کی وجہ سے جل شکتی محکمہ صرف پیسے دینے والی مشین تک محدود رہ چکا ہے جہاں کاموں کے ٹینڈر صرف یہ جان کر نکالے جاتے ہیں کہ لوگوں کی جیبیں کتنی گرم ہوں ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو پانی کی سپلائی کا یہ عالم نہ ہوتا۔ایک صارف کو ایگریمنٹ کے بعد پانی فراہم کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے لیکن اس کیلئے بھی پیسوں اور نذرانے کا جواز پیدا کرنے کیلئے کہاجاتا ہے کہ پائپیں نہیں ہیں اور جب صارف دفتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تنگ آجاتا ہے تو اس کے پاس نذرانہ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا ہے۔ غور طلب ہے کہ حکام بالا اس صورتحال سے بالکل باخبر ہیں ،یہاں تک کہ سیکریٹریٹ میں بیٹھے بابو حضرات بھی ایسے افسران کی خرمستیوں سے آگاہ ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے ۔ایسے میں لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس محکمہ کے لوگ اوپر سے نیچے تک ملے ہوئے ہیں اور نذرانوں کا حصہ سب کو ملتاہے ورنہ وہ کون سے غیبی ہاتھ ہیں جو ایک اعلیٰ آفیسر کو اپنے ماتحت عملہ کے خلاف کارروائی کرنے سے روکتے ہیں۔
 رشوت خوری کے خلاف جنگ اور شفافیت قائم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کئے جارہے ہیں ۔اگر یہ دعوے صحیح ہیں تو ایسے ملازمین کا کوئی بال بھی بیکا کیوں نہیں کرتا جبکہ ان کے خلاف حکام کو بدعنوانیوں کے پختہ ثبوت مل سکتے ہیں۔اگر حکومت رشوت خوری مخالف جنگ میں سنجیدہ اور پر خلوص ہے تو ایسے لوگوںکو چلتا کرنا ضروری ہے تاکہ ان اہم محکموں کے تئیں عوام کا اعتماد بحال ہو۔پی ایچ ای محکمہ کی موجودہ مخدوش صورتحال کودیکھ کر یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ حکومت سرکاری محکموں میں جوابدہی اور شفافیت لانے میں سنجیدہ نہیںہے اور یہ بیانات صرف ہاتھی کے دانت ،کھانے کے اور دکھانے کے اور تک ہی محدود ہیں، جو پڑھنے میں تو بہت اچھے لگتے ہیں لیکن عملی دنیا سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔اگر جل شکتی محکمہ عوام میں اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے تو محکمہ کے اعلیٰ حکام پر لازم ہے کہ وہ غفلت شعار اور بدعنوان لوگوں کی لگام کس لیں ورنہ ہمیں مجبوراً یہ کہنا پڑے گا کہ اس جرم میں سب برابر کے شریک ہیں۔