رام بن میں 38 اورڈوڈہ میں 54کیس مثبت

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


محمد تسکین+اشتیاق ملک
بانہال+ڈوڈہ// ضلع رام بن میں جمعرات کو مزید 38 افراد کے کورونا وائرس نمونے مثبت آئے اور اس طرح ضلع میں متاثرین کی کل تعداد 1209 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے فعال معاملات کی تعداد 423 ہے جبکہ ضلع میں اب تک 8 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ جمعرات کو گول سے 6، ارکان انٹرنیشنل سے 4، اے بی سی آئی تعمیراتی کمپنی سے1، ایچ سی سی تعمیراتی کمپنی سے2، ناشری ٹنل کا ایک ورکر اورنیل، میتراہ، رام بن، چندرکوٹ، ناشری ٹنل، ڈھلواس، سٹیٹ بنک آف انڈیا، پرنوت، ہڑوگ، سیری، نیراہ ، سناسر، کوٹ اور امکوٹ سے معاملات سامنے آئے ۔کورونا ٹیسٹوں میں تیزی لانے کے بعد ضلع میں متاثرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے جبکہ لوگوں نے بھی ماسک پہننا ترک کردیاہے اورسماجی دوری کا اصول بھی پامال ہورہاہے۔شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات میں لوگ بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔ ادھر ڈوڈہ ضلع سے کووڈ 19 کے 54 نئے مثبت کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 55 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔جمعرات کو ڈوڈہ سے کورونا وائرس متاثرین کے 54 نئے معاملات سامنے آئے اور اس کے ساتھ ہی ضلع میں مثبت کیسوں کی تعداد 1220 پہنچ گئی ۔ اس دوران شفایاب ہوئے مریضوں کی تعداد 714 ہو گئی ہے۔ضلع میں اب تک کورونا سے 24 اموات ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ جموںکے دیگر اضلاع سمیت وادی  کشمیر میں بھی کورونا سے ہو رہی ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد آئے روز بڑھ رہی ہے۔ ماہرین مسلسل حفاظتی اقدامات کرنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ 
 

سانبہ کی پہاڑی بستیاں

 مریضوں کو آج بھی چارپائیوں پر ہسپتال لے جانا پڑتا ہے

جموں// صوبہ جموں کے ضلع سانبہ کی بعض پہاڑی بستیوں کے لوگوں کو دور حاضر میں بھی مریضوں کو ہسپتال چارپائیوں یا پالکیوں پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔ضلع کے ایک پہاٹی علاقہ جیٹھ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مریضوں خاص کر درد زہ میں مبتلا حاملہ خواتین کو چارپائی پر اٹھا کر دس کلو میٹر دور ہسپتال پہنچانا ہمارا روز مرہ کا معمول بن گیا ہے۔انہوں نے کہ جموں وکشمیر میں سانبہ واحد وہ ضلع ہے کہ جس کی روڈ کنکٹوٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ مریضوں کو دس کلو میٹر دور علاقے میں واقع ہسپتال چارپائی پر اٹھا کے لے جانا ہمارا معمول بن گیا ہے۔انہوں نے کہا: 'یہ ہمارا روز مرہ کا کام ہے مریض کو خاص کر درد زہ میں مبتلا حاملہ خواتین کو دس کلو میٹر دور چارپائی پر اٹھا کر ہسپتال لے جانا پڑتا ہے'۔موصوف نے کہا کہ ایک طرف حکومت دیہات کو بھی سڑکیں و دیگر سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہے لیکن جموں و کشمیر میں ضلع سانبہ واحد ضلع ہے جہاں روڈ کنکٹوٹی نہ ہونے کے برابر ہے جو ہماری پسماندگی کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ بیک ٹو ولیج پروگرام کے تحت سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں لیکن ہماری سڑک دس کلو میٹر طویل ہے اس کو پانچ لاکھ روپے سے تعمیر نہیں کیا جاسکتا ہے۔موصوف نے کہا کہ ہم آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی غلاموں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں کو سمب جانے کے لئے صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی ساتھ جانا پڑتا ہے کیونکہ یہ جنگلی علاقہ ہے لہٰذا خطرے سے خالی نہیں ہے۔یو این آئی 
 

تازہ ترین