محبوبہ مفتی غیر قانونی طور حراست میں ہیں

انتظامیہ کو معافی مانگ کر انہیں رہا کرنا چاہئے :سوز

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر//پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا کہ جموں وکشمیر یونین ٹریٹری انتظامیہ کسی کو مطمئن نہیں کر سکتی کہ ساری کشمیر مین سٹریم لیڈرشپ کو آئینی اور قانونی قواعد کے تحت 5اگست 2019کو گرفتار کیا گیا تھا یہ سب گرفتاریاں غیر آئینی اور غیر قانونی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ان ہی غیر آئینی گرفتاریوں میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی بھی شامل تھی، جو اب بھی اپنے گھر میں نظر بند ہے ۔انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اپنے غیر آئینی اقدامات کا جائزہ لیکر اور محبوبہ مفتی سے معافی مانگ کر، اُس کو فوراً رہا کرے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو یہ جاننا چاہئے کہ سارے برصغیر کو معلوم ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور کس طرح مین اسٹریم لیڈر شپ کو انگنت طریقوں سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے ۔اس دوران پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے ساتھ بڑی ذیادتی ہوئی ہے جس کو زبانی احکامات کے ذریعے اپنے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔
 

تازہ ترین