آر پار تجارت کا معاملہ| 10 تاجروں کی رہائش گاہوں پر NIAچھاپے

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// قومی تحقیقاتی ایجنسی( این آئی اے) نے آر پار تجارت سے وابستہ کئی تاجروں کی رہائش گاہوں پر جمعرات کو پے درپے چھاپے ڈالے۔تاہم چھاپوں کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) مبینہ منی لانڈرنگ معاملے کی تحقیقات کررہی ہے اور ابھی تک30کشمیری تاجروں اور علیحدگی پسندوں کو گرفتار کیاگیا ہے ۔این آئی اے بیان کے مطابق جمعرات کی صبح سرینگر کے متعدد علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ این آئی اے کے ہمراہ سی آر پی ایف اور پولیس اہلکار بھی تھے ۔ ایجنسی نے محمد اقبال لون ساکن پارمپورہ،بشیر احمد لون ساکن ہوکر سر،خورشید احمد لون ساکن پارمپورہ،ظہور احمد بٹ ساکن وزیر باغ،فضل الحق مسگرو عارف حسین مسگر ساکنان باغ سندر چھتہ بل ، اعجاز احمد شیخ و جاوید احمد شیخ ساکنان بژھ پورہ،تجمل مسعودی اور مصدق افضل مسعودی ساکنان باغندر پانپور کے مکانوں پر چھاپے مارے اور بڑے پیمانے پر تلاشیاں لیں۔ یاد رہے تجمل مسعودی کو آر پار تجارت کے سلسلے میں 3سال قبل گرفتار کیا گیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ سبھی شہری آر پار تجارت کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔یاد رہے کہ سرینگر اور مظفر آباد کے درمیان آر پار تجارت مارچ2019سے معطل ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت 2008 میں کشمیر کے مرکزی شہروں  سرینگر اور مظفر آباد اور پونچھ اور راولاکوٹ کے درمیان لائن آف کنٹرول کے آر پار ٹرک سروس شروع کی گئی تھی، جس کے ذریعہ21 اشیاء کی جنس برائے جنس کے تحت تجارت کا آغازہوا تھا۔یہ تجارت جنگ بندی لائن پر سیکورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی اور منشیات کی اسمگلنگ کے واقعات کے باعث معطل ہوتی رہی ہے۔لیکن پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے باعث مارچ میں دو طرفہ تجارت معطل کر دی گئی تھی۔
 

تازہ ترین