تازہ ترین

خصوصی حیثیت ہند یونین کیساتھ تعلقات کی روح تھی، جو نکل گئی

اختلافات اپنی جگہ، حق کی لڑائی میں متحد

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


کشمیر نیوز سروس

انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ اجتماعی قیادت کے ماتحت:سجاد غنی لون 

 
سرینگر//پیپلز کانفرنس سربراہ سجاد غنی لون نے5 اگست 2019 کی تاریخ کو تاریک ترین دن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی پوزیشن کشمیر اور بھارت یونین کے درمیان تعلقات کی روح تھی ۔انہوں نے آئندہ کسی بھی انتخابی عمل میں حصہ لینے کے حوالے سے کہا ’ ابھی تک ہمارے تمام فیصلے اجتماعی قیادت کے ماتحت ہیں، اجتماعی قیادت جو فیصلہ کرے گی ہم وہ کریں گے‘۔ماضی میں عبداللہ اور مفتی خاندانوں سے متعلق دئے گئے بیانات کو واپس لیتے ہوئے سجاد غنی لون نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو کسی بھی طور پر غیر کشمیر ی کو ہم پر حکمرانی ،بہتان بازی اور ہمارے اپنے لوگوں کی تذلیل کرنے کیلئے سہولیت کے بطور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایک تفصیلی انٹر ویو کے دوران سجاد غنی لون نے کہا ’5 اگست میرے لئے ایک تاریک دن تھا ، میں5 اگست کو کشمیری عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کے ایک غیر مہذبانہ اقدام کے طور پر دیکھ رہا ہوں، یہ ایک زبردست اور سیاسی انتقام گیری کا اقدام تھا اور کسی نے نفرت کا نشانہ بنایا۔نفرت کے علاوہ ، مسئلہ یہ ہے کہ لگتا ہے کہ دہلی میں حکمران طبقے کو کشمیر ، تاریخ کشمیر ، کشمیر کا سیکولر نظریہ اور کشمیر کے جغرافیائی  وسیاسی نشان کے بارے میں ابتدائی فہم حاصل نہیں ہے۔انڈین یونین میں کشمیر کی مذہبی ساخت کی انفرادیت ایک قابل قدر اثاثہ تھا،اب یہ نئے حکمرانوں کے لئے بوجھ بن چکا ہے ‘ان کا کہناتھا ’’دفعہ370، آرٹیکل35( اے) اور خصوصی حیثیت کا پورا تصور کشمیر کے ساتھ دہلی کے تعلقات کی روح کو ظاہر کر تا ہے۔ آپ نے اسے نکال دیا،اب یہ بے روح رشتہ بن چکاہے۔یہ ایک تاریخٰی رشتہ تھا ،یہ ایک جواز تھا، یہ ایک قیمتی ا ثاثہ تھا، انہوں نے اسے پھینک دیا اور ان کھنڈرات میں اب کشمیری خاموش ہیں ، اپنی ہی سرزمین میں بے بس ہیں ‘‘۔سجاد لون نے کہا ’دفعہ370 کو ختم کرنے اور سیاست کو کمزور کرنے سے متعلق عمل بہت پہلے شروع ہواتھا،جب ہم سے سب کچھ چھین لیا گیا ، تو ہمارے لئے سیاسی طبقے کا حصہ بننا بدقسمتی ہے، ہمارے پاس نئی نسل کو منتقل کرنے کے لئے خوف اور خیانت کی کہانیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے‘۔لون نے کہا ’دہلی میں ایسے لوگ ہیں جو جشن مناتے اور فتح کا اعلان کررہے ہیں، یہاں تک کہ ایک نوزائد بچہ بھی اُنہیں یہ صلاح دیتا ہے، اپنے گھوڑے روکو اور انتظار کرو ،فتح کا جشن کس پر ، کیا وہ کشمیریوں سے جنگ کر رہے ہیں؟ کیا (کشمیری) اُنکے اپنے لوگ نہیں ہیں؟‘۔سجاد  لون نے کہا ’میرے الفاظ یاد رکھنا،5اگست ،5 اگست کو ختم نہیں ہوگا، یہ ایک طویل دن ہے جو برسوں پر محیط ہے، 5 اگست بالآخر کیسے کھیلے گا؟ ، کوئی نہیں جانتا ہے،یہ کسی تلخ شخص کی باتیں نہیں ہیں،یہ میرا شائستہ تجزیہ ہے۔5 اگست کا رد عمل ہوگا اور وہ ردِ عمل شروع ہو چکا ہے،صرف وقت ہی بتائے گا کہ آیا وہ کوئی فاتح ہیں؟ 5 اگست کو جو کچھ ہوا اسکے نتائج دیر سویر ظاہر ہوں گے۔جب اُن سے پوچھا گیا کیا آپ نے اپنی رہائی کے لئے کسی معاہدے پر دستخط کیے ہیں؟،تو انہوں نے کہا ’نہیں ، مجھ سے کسی نے معاہدے پر دستخط کرنے کو نہیں کہا۔ مجھے معلوم تھا کہ ایک معاہدہ جاری ہوا ہے اور لوگوں سے اس پر دستخط کرنے کے لئے کہا جارہا ہے، لیکن میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔‘اس سوال ’آپ نے علیحدگی پسند خیمے کو ایک دہائی قبل چھوڑ دیا، کیا آپ کو اپنے فیصلے پرکوئی افسوس ہے؟ تو سجاد لون نے کہا ’ واقعی نہیں! مجھے کوئی افسوس نہیں ہے ،میں نے ہمیشہ لوگوں کی فلاح وبہبود، معاشی ترقی اور تنازعات کو حل کرنے پر یقین کیا ہے،اور آپ صرف مین اسٹریم سیاست میں ہی معاشیات پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں،اگرچہ معاشی مداخلت کے نقطہ نظر سے کچھ مختلف معاملات ہیں، جیسا کہ میں نے دیکھا کہ سری نگر کا نظریہ یہ تھا کہ اچھی معیشت ہی آخر کار ہمیں باوقار وجود کی طرف لے جائے گی اور معاشی طور پر محفوظ لوگ زیادہ تر عقلی فیصلے کریں گے بشمول تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھی فیصلہ لے سکتے ہیں، دہلی کا اس حوالے سے نظریہ مختلف ہے، اقتصادی مداخلت کو وقار اورفیصلے کرنے پر اثر انداز کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے،جیسے کہ اقتصادی ترقی جیسے الفا ظ کا استعمال کیا جاتا ہے اور لوگوں کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے ،اس طرح معاشیات کو پیش کیا گیاہے ۔اگر کل انتخابات ہوتے ہیں تو کیا آپ اور آپ کی پارٹی حصہ لے گی؟ اس سوال کے جواب میںلون نے کہا ’آج تک ہمارے تمام فیصلے اجتماعی قیادت کے ماتحت ہیں، اجتماعی قیادت جو فیصلہ کرے گی ہم وہ کریں گے۔‘بی جے پی کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے لئے عبد اللہ اور مفتی خاندانوں کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے، آپ بھی ان دونوں خاندانوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، کیا آپ اپنے بیانات پر قائم ہیں؟۔ انہوں نے کہا’میں بی جے پی سے اتفاق نہیں کرتا ہوں، جہاں تک میرے بیانات کا تعلق ہے، نہیں اب میں ان بیانات پر قائم نہیں ہوں، میں اپنے تمام بیانات واپس لیتا ہوں، ہم مستقبل میں اس پر لڑسکتے ہیں لیکن ہم اپنے اختلافات کو غیر کشمیریوں کو یہاں آنے اور ہم پر راج کرنے ، ہم پر بہتان لگانے ، اپنے لوگوں کی تذلیل کرنے کیلئے سہولیت فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘(حصہ دوم اتوار کے بلٹن میں شائع کیا جائیگا)