تازہ ترین

مقامی جنگجو اور سب انسپکٹر جاں بحق

ترال میں جھڑپ، وڑی پورہ چاڈورہ میں سی آر پی ایف پر فائرنگ

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


عارف بلوچ+سید اعجاز +ارشاد احمد

جنگجو رائفل بھی لے اُڑے،سرہامہ بجبہاڑہ میں مسلح تصادم جاری

 
اننت ناگ +ترال +بڈگام//سرہامہ بجبہاڑہ میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان خونریز تصادم آرائی جاری تھی اور یہاں جنگجو محصور ہیں جبکہ ماحچھہامہ ترال میںمسلح جھڑپ میں ایک مقامی جنگجو جاں بحق  ہوا۔ ادھر وڈی پورہ چاڑورہ میں جنگجوئوں نے دن دھاڑے سی آر پی ایف کی ناکہ پارٹی پر فائرنگ کرکے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو ہلاک کیا اور اسکی رائفل بھی اڑا لی۔ترال میں ڈرائیور اور مالک مکان کو حراست میں لیا گیا۔
سرہامہ 
 پولیس نے بتایا کہ سرہامہ بجہباڑہ میں جمعرات کی شام انہیں گائوں میں کم سے کم 2یا 3جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی، جس کے بعد 3آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے گائوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کی۔ پولیس نے بتایا کہ اس بیچ یہاں چھپے جنگجوئوں نے فورسز اہلکاروں پر فائرنگ شروع کی جس کے بعد طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوگئی ۔فائرنگ کے ابتدائی تبادلے کے بعد گائوں میں خا موشی چھا گئی اور قریب 4گھنٹے تک سکوت چھایا رہا۔ لیکن ساڑھے 9بجے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جو رات دیر گئے تک جاری تھا۔ آپریشن کو جمعہ کی صبح تک جاری رہنے کے خدشہ کے پیش نظر فورسز نے گائوں میں مقام جھڑپ کے نزدیک روشنی کا انتظام کردیا اور اس بیچ طرفین کے درمیان وقفہ وقفہ سے فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری تھا۔بتایا جاتا ہے کہ محصور جنگجوئوں میں ایک کمانڈر بھی ہے۔پولیس نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر جھڑپ کی تصدیق ہونے کی اطلاع دی تھی۔
ترال
ترال قصبے سے7کلو میٹر دور ماچھہامہ باگندر نامی گائوں کوبدھ اور جمعرات کی درمیانی شب42 آر آر،180 بٹالین سی آرپی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے محاصرے میں لے کرجمعرات کی صبح گھر گھرتلاشی کارروائی شروع کی ۔اس دوران فورسز کی تلاشی پارٹی اس مکان کے صحن میں داخل ہوئی ،جس میں انہیںجنگجوئوں کے چھپے ہونے کی اطلاع تھی تو جنگجو نے فورسز پر فائرنگ کی۔اس موقعہ پر ڈی ایس پی ترال نے پبلک ایڈرس سسٹم کے ذریعے جنگجو کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے پیشکش ٹھکرا دی۔ اسکے بعد مقامی لوگوں کو مکان کے اندر بھیجا گیا لیکن جنگجو نے سرنڈر نہیں کیا۔ مکان میں موجود اہل خانہ کو فورسز نے بحفاظت باہر نکالا جس کے بعد مسلح تصادم شروع ہوا۔فائرنگ کے مختصر تبادلے کے دوران ایک جنگجو جاں بحق ہوا اور جنگجو کی لاش پولیس نے بر آمد کی۔پولیس نے بتایا مذکورہ جنگجو کی شناخت عرفان الحق ڈار ساکن گاڈ کھل چرسو کے بطور ہوئی ہے جو البدر سے وابستہ تھا ۔ پولیس نے بتایاتصادم آرائی کی جگہ سے اسلحہ و گولہ بارود اور ْقابل اعتراض موادبرآمد ہوا۔مذکورہ جنگجو نے اسی سال20اگست کو جنگجوئوں کی صف میں شمولیت اختیار کی تھی۔پولیس ریکارڈ کے مطابق عرفان الحق ڈار کو اونتی پورہ پولیس نے چرسو کے نزدیک شاہراہ پر اپریل 2019میں فورسز پر گرینیڈ پھینکنے کی پاداش میں 4اگست 2019 کو گرفتار کیا تھا اور اسے9 اپریل 2020میں کوٹ بلوال جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ وہ اپنے ہی گائوں میں درسگاہ چلا رہا تھا۔جھڑپ کے بعد اسکی تحویل سے ایک پستول بر آمد کیا گیا۔پولیس ذرائع نے بتایا مذکورہ جنگجوکسی جگہ زخمی ہوا تھا۔ آپریشن کے آخر پرمالک مکان شکیل احمد کار کوحراست میں لیا گیا ۔ادھرناگہ پتھری ترال سے تعلق رکھنے والے ایک ڈارئیور محمدالطاف چوپان کو بھی حراست میں لیا گیا ۔
چاڑورہ
 وسطی ضلع بڈگام کے وڈی پورہ کانسر مولہ چاڑورہ میںجمعرات کی صبح جنگجوئوں نے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی ایک پارٹی پر حملہ کر کے ایک آفیسرکو شدید زخمی کیا اور اسکا اسلحہ بھی اڑا لیا۔ مذکورہ آفیسر بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔پولیس نے بتایا کہ وڈی پورہ چاڈورہ میں جمعرات کی صبح قریب پونے آٹھ بجے موٹر سائیکل پر سوار جنگجوئوں نے117 بٹالین سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی ایک گشتی پارٹی کی طرف پہلے گرینیڈ پھینکا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر بدولے بری طرح زخمی ہوا۔ اسے اگرچہ بادامی باغ اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔پولیس نے بتایا کہ حملہ آور مہلوک افسر سے اس کی سروس رائفل بھی چھین کر لے گئے ۔واقعے کے فوراً بعد فورسز کی اضافی کمک طلب کر کے حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے لئے محاصرہ اور تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔خیال رہے ضلع میں گزشتہ شام تحصیل کھاگ میں بی ڈی سی چیئر مین کو گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا جبکہ محص ایک روز قبل ہی چرار شریف میں تصادم آرائی کے دوران سانبورہ پلوامہ کا ایک جنگجو جاں بحق اور کئی جنگجو فرار ہوئے ۔
 

 قصبہ پلوامہ کا 8 گھنٹوں تک محاصرہ

دکانداروں سے پوچھ تاچھ ،شوپیان کے کئی دیہات میں آپریشن

شاہد ٹاک
 
 شوپیان//قصبہ پلوامہ اور شوپیان کے نصف درجن دیہات میں بیک وقت جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لائے گئے۔ تاہم کسی بھی جگہ جنگجو ئوںکے ساتھ آمنا سامنا نہیں ہوا۔ جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر 55 آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی  پلوامہ نے دوران شب تین بجے قصبہ پلوامہ کے مورن چوک کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی۔ قصبہ کے دکانداروں کو 5بجے کے قریب انکے موبائل فونوں پر کالز کر کے  بتایا گیا کہ وہ دکانوں کے شٹر کھول دیں۔اس دوران درجنوں دکانداروں نے اپنے دکانوں کے شٹر کھول کر فوج اور پولیس کو دکانوں کی تلاشی کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔اسکے علاوہ ملحقہ بستوں میں تلاشیاں بھی لیں گئیں۔۔تاہم صبح گیارہ بجے محاصرہ ختم کردیا گیا۔اس دوران پتھن پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران مکانوں کی تلاشی لی گئی۔ادھر شوپیان میں بھی نصف درجن علاقوںمیں جنگجو مخالف آپریشن کئے گئے۔ شوپیان کے حاجی چک ،گنڈ درویش،آونیورہ اور کلورہ سمیت نصف درجن کے قریب دیہات کا محاصرہ کرکے وہاں تلاشی کارروائی کی گئی۔ گھر گھر تلاشی کارروائی کے دوران مکانوں کی تلاشی کے علاوہ نوجوانوں کے شناختی کارڈ چیک کرکے ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔تاہم بعد میں تمام علاقوں سے محاصرہ ختم کیا گیا ۔