تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال :-کُتّوں کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں کتنے مسائل پیدا ہورہے ہیں ،یہ آئے دن اخبارات میں آتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے چند سوالات ہیں ۔
کتوں کے متعلق اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ۔ ماڈرن سوسائٹی میں فیشن کے طور پر کتّے پالنے کا رواج روز افزوں ہے۔اس کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے ؟کتّے کا جھوٹا اسلام کی نظر میں کیا ہے ؟کچھ حضرات اصحابِ کہف کے کتّے کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ کتّے رکھنے میںکیا حرج ہے؟ یہ استدلال کس حد تک صحیح ہے ۔ اس سلسلے میں ایک جامع جواب مطلوب ہے ۔ 
جاوید احمد…سرینگر

فیشن کیلئےکتّے پالنا حرام 

اس پر آنے والے خرچ اور وقت کیلئے اللہ کے حضور حساب طلب ہوگا
جواب: ایمان کی کمزوری ، مقصدحیات سے لاعلمی ، آنکھیں بند کرکے گمراہ قوموں کی نقالی اور سراسر بے فائدہ کاموں میں شوق اور فخر کے ساتھ پھنس جانا اور پھراُس پر خوشی محسوس کرنا ۔ اس صورتحال کا ٹھیک مشاہدہ کرنا ہو تو مارڈنٹی کے خبط میں مبتلا ہوئے اُن مسلمانوں کا حال دیکھئے جو کتّے پالنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے اوقات ، اپنی رقمیں کس شوق سے کتّوں پرلُٹا رہے ہیں ۔ 
قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کیا ہم تم کو اُن سراسر بے فائدہ بلکہ خُسران والے کاموں کی تفصیل بتا دیں جن کاموں میں پھنسے ہوئے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم تو بہت عمدہ اور بہترین کام کررہے ہیں۔(الکہف) ۔
کتوں کے ان خدمت گذاروں کا شوق ، فخر اور اپنے جھوٹے تفوق کو دیکھئے اور اوپر کی آیت کا اُن پر منطبق ہونے کا مشاہدہ کیجئے ۔
قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ جن لوگوں کو آخرت پر ایمان نہیں(اس لئے اپنے شوق اپنی عادت اور اپنی سرگرمیوں میں ان کے پاس آخرت کے لئے کسی تیاری کا کوئی خانہ ہی نہیں ہے۔)۔اُن کے بے فائدہ کام اُن کے لئے ہم مزیدار بنا دیتے ہیں ۔ (النمل)
نام نہاد ماڈرن سوسائٹی کا جنون رکھنے والے یہود ونصاریٰ کی نقالی میں جس شوق او رفخر کے ساتھ کتّوں کی خدمت میں لگے ہوئے اُن کے حالات دیکھ کر اور سُن کر بے اختیار اوپر کی آیات سامنے آتی ہیں جس کام کا نہ دینی فائدہ ، نہ دینوی ، نہ جسمانی فائدہ ، نہ عقلی ، نہ گھریلو فائدہ ، نہ سماجی ، نہ کوئی انسانی فائدہ ہے ، نہ حیوانی اُس کام میں اپنا وقت اپنی محنت ، اپنی دولت لٹانا اور پھریہ سمجھنا ہم نے کچھ کیا یا ہم بھی کچھ ہیں ۔ یہ وہی اوپر کی آیات کا نقشہ ہے جو مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتاہے ۔
کتّوں کے نام بینک بیلنس رکھنا ، اُن کی شادیاں کرانا ، ویب سائٹوں کے ذریعے رشتے طے کرنا پھر شادیوں میں ان کو دلہا دُلہن بناکر لاکھوں ڈالر خرچ کرنا ، کتوں کی مارننگ وایوننگ واک کرانے کی لازمی ڈیوٹی انجام دینا ، کتوں کو گھمانے اور سیر وتفریح کے لئے صبح وشام ہزاروں روپے خرچ کرنا ، کتوں کے کلینک کھولنا پھر ان کے علاج معالجے کی فکر اپنے والدین اور بچوں سے زیادہ کرنا اور پھر کتوں کے متعلق بڑے بڑے سٹور ،اُن کے کھانے پینے کے لے قسم قسم کی مصنوعات یہ سب وہ تماشے ہیں جو یورپ میں عام ہیں جہاں اپنی بوڑھی ماں کو دن میں پانچ منٹ دینے کے لئے بیٹا تیار نہیں ہے مگر اپنے کتّے کو چار گھنٹے دینے پر خوش ہے ۔ یہ عدالت کے مقدمہ اورمیڈیا کی رپورٹوں اور وزارتِ قانون کی بحث وتمحیص سے سامنے آنے والے حقائق ہیں ۔ 
کتّوں کو پالنے کا شوق رکھنے والے ان سچی حقیقتوں پر غور کریں ۔ کیا وہ اس انتظار میں ہیں کہ جو کسی کشمیری نژاد کو برطانیہ میں کرنا پڑتاہے کہ وہ صبح وشام اپنے کتوں کو سیر کرانے لے جاتاہے اور ہاتھوں میں ٹشو پیشر بھی لینا پڑتاہے تاکہ اگر راستے میں اس کے کتّے نے غلاظت کردی تو وہ اپنے ہاتھ سے اُٹھاکر کوڑے دان تک پہنچائے ورنہ سو پونڈ جرمانہ دینا ہوگا ۔

کتوں کے متعلق اسلام کیا کہتاہے ۔ چند حدیثیں ملاحظہ ہوں ۔

بخاری شریف ، مسلم ،ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے (شوق نہ کہ ضرورت) کی وجہ سے کتّا پالا اُس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط اجر ختم کردیا جاتاہے ۔ 
مسلم میں حدیث ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس گھر کے لوگ ضرورت کے بغیر کتّا رکھیں اُن سب کے اجر وثواب میں ہر روز دو قیراط کم کرایا جاتاہے ۔ 
ابن ماجہ میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت کردہ حدیث ہے کہ جو قوم کتّا رکھتی ہے اُن کے ثواب میں سے ہر روز دوقراط ختم کردئے جاتے ہیں ۔
قوم سے مُراد پورا خاندان اور ضرورت کی بناء پر کتّاپالنے کا مطلب ہے شکار کی غرض سے یا کھیتی یا مکان یا مویشیوں کی حفاظت کیلئے جیسے بکروال لوگ وغیرہ ضرورت مند ہوتے ہیں ۔ 
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضورصلعم نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھ سے ایک خاص وقت آنے کا ارادہ کیا تھا۔جب وہ اُس وقت پر نہ آئے تو میں نے سوچا کہ اللہ اور اس کے سارے قاصد وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ پھر جبرئیل ؑ کیوں نہیں آئے ۔ اسی کے بعد میں نے دیکھا کتّے کا بچہ ایک کونے میں چھپا بیٹھاہے ۔ جب وہاں سے اُسے نکال دیا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے ۔ حضورؐ نے فرمایا میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ وعدہ کے وقت کیوں نہیں آئے تو جواباً کہا کہ جس گھر میں کتا ہوتاہم اس گھر میں نہیں آتے ۔ 
ایک دوسری حدیث جو بخاری شریف میں ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو تو اس گھر فرشتے نہیں آتے ۔ 
حضرت مولانا اسمٰعیل شہیدؒ نے ایک شخص کو دیکھاکہ وہ کئی کتّے پالے ہوئے ہے تواُن سے برداشت نہ ہوا کہ ایک مسلمان اس غیرشرعی کام میں عمر ضائع کرے ۔ اس سے وہ بولے جس گھر میں کتاہوتاہے اس میں فرشتے نہیں آتے ۔ اُس شخص سے اس برے کام کو درست کرنے کے لئے کہا تو وہ شخص جواباً بولا اس لئے رکھے ہیں تاکہ حضرت ملک الموت بھی نہ آئیں ۔ جب وہ بھی نہیں آسکیں گے تو میری موت بھی نہ آئے گی ۔ حاضر جوابی کا بہت عمدہ مظاہر کرتے ہوئے مولانا شہیدؒ نے فرمایا تمہاری روح قبض کرنے وہی فرشتے آئیں گے جو کتّوں کی روح قبض کرتے ہیں ۔(الفرقان جولائی 2011ء )
بخاری میں ہے :حضوراکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس برتن میں کتامنہ ڈالے اُس کو سات مرتبہ صبا کرو۔ ایک حدیث میں ہے کہ اُس برتن کو آٹھ مرتبہ دھوئو اور ایک مرتبہ مٹی سے مانجھ لو۔
اس لئے یہ بات طے ہے کہ کتّے کا لعاب نجس بھی ہے اور طرح طرح کے جراثیم سے آلودہ بھی ۔
اصحاب کہف کے کتّے سے استدلال کرکے کتے پالنے کے شوق کو درست قرار دینے کی کوشش اسلام سے ناواقفی بھی ہے او رایک حرام کام کو حلال بنانے کی تحریف بھی ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی کہے شراب بھی مائع (Liqued)ہے او رپانی بھی۔ قرآن میں پانی کو ماء طہوراکہاہے لہٰذا شراب بھی پاک اور حلال ہے ۔
اصحاب کہف کا کتّا خودبخوداُن پاک نفوس جوانوں کے پیچھے چلتا گیا اور اس غار کے دہانے پر جاکر بیٹھ گیا جس غارکے اندر اصحاب کہف چھپ گئے تھے ۔اس سے کیسے ثابت ہوگاکہ شوق اور کافروں کی نقالی کے لئے پالیں ۔ حسرت اُس مسلمان پر جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نظر انداز کرکے کہف کا حوالہ دے ۔
کتّوں کے متعلق اسلامی قانون وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا نہ کہ اصحاب کہف کے کتّے سے کئے جانے والا باطل استدلال۔
لہٰذا فیشن کی بنیاد پر کتّاپالنا حرام ہے ۔ اس کا جھوٹا نجس ہے ۔ اس پر خرچ ہونے والا روپیہ حرام پر خرچ کرناہے اور اُس پر صرف ہونے والا وقت ضاع عمر ہے اور اس کا بھی قیامت میں حساب دینا ہوگا ۔
سوال:-ہم بہت سارے دوست عمومی تعلیم سے وابستہ ہیں او رساتھ ہی دینی علوم کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہم کن کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ ہماری دینی فکر درست بھی اور پختہ بھی ہو ۔ 
ڈاکٹر ند یم  ---  جموں          

پختہ دینی فکر کیلئے حصولِ علم کی ضرورت

جواب:-دینی علم دراصل بہت سارے علوم کا مجموعہ ہے اور جب تک باقاعدہ اُن تمام علوم کو کسی مستند ادارے میں حاصل نہ کیا جائے اُس وقت تک مکمل رسوخ واعتماد حاصل نہیں ہوپاتا ۔تاہم دینی فکر کو پختہ کرنے اور اسے تمام طرح کے افراط وتفریط سے محفوظ رکھ کر مضبوط بنانے کے لئے ایسے افراد جو عصری علوم سے وابستہ ہو ، درج ذیل کتابیں یک گونہ ضرور فائدہ ہوں گی ۔
تفسیر میں آسان ترجمہ قرآن اُردو وانگریزی از مولانا محمد تقی عثمانی ۔ پھر تفسیر معارف القرآن از مولانا مفتی محمد شفیع ؒ (اردو انگریزی علوم القرآن از مولانا تقی عثمانی ، معارف الحدیث (اردو انگریز) از مولانا منظور نعمانی ۔ الادب المفرد از امام بخاریؒ،ریاض الصالحین (اردو وانگریزی ) از امام نوریؒ۔ محاضرات حدیث از ڈاکٹر محمود احمد ۔عقائد میں عقیدۃ الطحاویؒ اور عقائداسلام از مولانا محمدادریس کاندھلویؒ۔
سیرت طیبہ میں سیرت النبی ؐاز علامہ شبلی ؒ وعلامہ سید سلمان ندوی اور الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن نیز رحمتہ اللعالمینؐ۔ تاریخ اسلا م میں مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی کی تاریخ اور تاریخ ملت حیات الصحابہ از مولانا محمد یوسف کاندھلوی ۔ 
مواعظ میں ، اصلاحی خطبات ، خطبات فقیر، خطباب حکیم الاسلام ، مواعظ فقیہ الامت نیز پیر ذوالفقار احمد کی تمام کتابیں ۔
متفرقات میں اختلافات امت اور صراط مستقیم ، سنت نبوی اور جدید سائنس ، مغربی میڈیا ، جہانِ دیدہ ،آپ کے مسائل اور ان کا حل ۔ ثبوت حاضرہیں ۔
فتاویٰ محمودیہ اور مولانا محمد رفعت قاسمی کی تمام کتابیں۔ان کے بعد کسی مستند عالم سے رہنمائی لی جائے ۔   
سوال:-۱- بچوں کی تاریخ پیدائش غلط لکھی گئی ۔اب بچے بڑی کلاسوں میں یعنی کالج میں پڑھتے ہیں ۔ اب ہم کیا کریں ؟
سوال:۲- میں خود سرکاری ملازمت کرتا ہوں او رسال میں 70ہزار سے زیادہ انکم ٹیکس ادا کرتاہوں ۔ کیا ہم جی پی فنڈکا سود جو ملتاہے اسے اس مد میں دے سکتے ہیں حالانکہ جی پی فنڈ کا سود اور جی پی فنڈ کی رقم ابھی نہیں ملتی۔ اس کی کیا صورت بنے گی اور ٹیکس ہمیں Pay Bill کے ساتھ ہی کاٹنا ہوتاہے ۔ 
خورشید احمد…کشتواڑ

غلط تاریخ پیدائش درست کرنا لازمی

جواب:۱- بچوں کی تاریخ غلط اندارج ہوئی ،یہ عمدً ہوا ہو یا سہواً بہرحال اس غلطی کی تصحیح کرنا لازم ہے ورنہ زندگی بھر ہی جھوٹ بولا بھی جائے گا اور لکھا بھی جائے گا کہ میری عمر یہ ہے حالانکہ عمر کچھ اور ہوتی ہے ۔ اس لئے درستگی کے لئے جو کچھ بھی کرنا پڑے ضرور کریں ۔ ورنہ یہ گناہ سار ی زندگی رہے گااور یہ والدین کے سر پر ہوگا ۔

غیر اسلامی ٹیکس میں غیر شرعی رقم دینے کی اجازت

جواب:۲- جی پی فنڈ میں ملنے والا سود انکم ٹیکس میں دینا درست ہے ۔ اس لئے کہ انکم ٹیکس شریعت کا لازم کردہ ٹیکس نہیں ہے ۔ اس لئے اس غیر اسلامی ٹیکس میں غیرشرعی رقم دینے کی اجازت ہے اور تمام مستند علماء کا یہ متفقہ فیصلہ ہے ۔
