تازہ ترین

سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہونے کا دعویٰ

آکسیجن ہے تو ہاہاکار کیوں مچی ہے ؟

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 سرکار کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس مریضوں کیلئے3762آئیسولیشن بیڈ دستیاب ہیں ۔ان میں سے 1113بستروں پر مریض زیر علاج ہیں جبکہ 2649بستر خالی پڑے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمارکے مطابق 3762بستروں میں سے 1078پہلے زمرے جبکہ 2684دوسرے زمرے کے بستر ہیں۔ پہلے زمرے کے 1078بستروں میں سے565پر مریض زیر علاج ہیں جبکہ اس زمرے کے 513بستر خالی پڑے ہیں۔ دوسرے زمرے کے آئیسولیشن وارڈوں میں مجموعی طور پر 2684بستر موجود ہیں جن میں سے 548پر مریض ہیں جبکہ 2136بستر خالی ہیں۔  
ان اعدادوشمار سے بدیہی طور یہی لگ رہا ہے کہ سب کچھ کنٹرول میںہے اور کہیں کوئی پریشانی نہیں ہے تاہم ہسپتالوں سے مسلسل جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں،وہ پریشان کن ہیں۔گزشتہ کچھ روز سے مسلسل یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں سے منسلک ہسپتال میں آکسیجن کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے اور کورونامریضوںکو آکسیجن دستیاب نہیں ہے ۔ایسی ہی اطلاعات گزشتہ دنوں گورنمنٹ میڈیکل کالج کشمیر سے منسلک صدر ہسپتال ،سکمز صورہ و دیگر ہسپتالوں سے بھی تواتر کے ساتھ موصول ہورہی تھیں۔
 صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیکل کالج ہسپتال جموں کی ایمر جنسی میں جو مریض داخل ہوکر کورونا پازیٹیو قرار پاتے ہیں ،وہ کئی کئی روز تک ایمر جنسی میں ہی غیر کووڈ مریضوں کے ساتھ داخل رہتے ہیںجس کی وجہ سے عام مریضوں اور تیمارداروں کے کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ ہمہ وقت لگا رہتا ہے ۔ایمر جنسی میں کئی کئی روز تک داخل ہونے کی وجہ بستروں یا جگہ کی کمی نہیں بلکہ آکسیجن سپلائی سے مربوط بیڈوں کی قلت ہے ۔ہسپتال میں جو بھی کورونا مریض داخل ہورہے ہیں،انہیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن حالت یہ ہے کہ ہسپتال میں اب آکسیجن بیڈ دستیاب ہی نہیںہیں۔ انداز ہ لگائیں کہ کم و بیش 900 بستروں پر مشتمل صورہ ہسپتال میں تقریباً300بسترے اب کووڈ مریضوں کیلئے مخصوص رکھے گئے ہیں اور وہ سبھی زیر استعمال ہیںتاہم ان میں سے آکسیجن سپلائی سے مربوط بستروں کی تعداد صرف180ہے جبکہ دیگر بیڈوں کیلئے آکسیجن سلینڈر استعمال کئے جارہے ہیںاور وہ بھی محدود ہی ہیں۔یہ کہنے کی باتیں نہیں ہیں۔اندازہ لگائیں کہ صورہ انسٹی چیوٹ جیسے بڑے ہسپتال میں جہاں تین آکسیجن پلانٹوں میں فی منٹ3200لیٹر آکسیجن پیدا واری صلاحیت ہے ،وہاں آکسیجن کم پڑرہا ہے حالانکہ اس کے علاوہ450آکسیجن سلینڈر بھی دستیاب ہیں لیکن وہ بھی ناکافی لگ رہے ہیں کیونکہ مریض زیادہ ہیں اور سلینڈر ختم ہونے میں دیر نہیں لگتی ہے اور اب ایک جدوجہدہے جو جاری ہے تاکہ سبھی مریضوںکو آکسیجن ملے لیکن اس عمل میںتاخیر بھی ہوتی ہے کیونکہ دستیابی ہی نہیں ہے۔
صدر ہسپتال کے بارے میں اگر چہ اعداد وشمار قدرے بہتر ہیں لیکن زمینی صورتحال وہاںبھی انتہائی خراب ہے ۔اس ہسپتال میں بھی اب 250کے قریب بسترے کووڈ مریضوں کیلئے مخصوص ہیں اور سب کے سب زیر استعمال ہیں۔ان میںسے180بستروں کو آکسیجن سپلائی دستیاب ہے جبکہ800سلینڈر بھی میسر ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ وہاں بھی مریض آکسیجن کو ترس رہے ہوتے ہیں اور گھنٹوں تک انہیں آکسیجن کے بغیر گزارہ کرنا پڑتا ہے اور جن 180بستروں کے ساتھ آکسیجن پورٹ میسر بھی ہیں ،ان میںسے درجنوں خراب ہیں اور اُن جن میں اگرچہ سپلائی چل بھی رہی ہے لیکن آکسیجن کا بہائو اس قدر کم ہوتا ہے کہ وہ مریضوں کیلئے سود مند ثابت نہیںہورہا ہے۔جانکار حلقوں کا ماننا ہے کہ اس وقت آکسیجن کی طلب میں پانچ گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔
ضلعی ہسپتالوں کا خدا ہی حافظ ہے ۔وہاں سہولیات کا فقدان ہے اور آکسیجن کی ضرورت رکھنے والے سبھی مریض سرینگر پہنچ رہے ہیں کیونکہ وہاں آکسیجن یا تو سرے سے ہی میسر نہیںہے یا اگر میسر ہے بھی تو وہ چند سلینڈروں تک ہی محدود ہے۔اب حکومت کی جانب سے مسلسل آکسیجن سلینڈر خریدے جارہے ہیں جبکہ اس کے علاوہ کشمیر کے 8اورجموں کے 3ہسپتالوں میں آکسیجن سپلائی کو اپ گریڈ کیاجارہا ہے تاہم یہ فوری ممکن نہیں ہے اور نئے آکسیجن پلانٹ لگانے میں مہینو ں لگ جائیں گے ۔اس کو آگ لگنے پر کنواں کھودنا کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بار بار یہ الزام لگ رہا ہے کہ انتظامیہ نے تیاری کے چار ماہ ضائع کئے اوراب جب پانی سر کے اوپر سے بہہ چکا ہے تو ہم بیچ بچائو کرنے لگے ہیں جو اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
بہر کیف حکومتی لاپرواہی سے ہرگز انکار نہیں ،لیکن یہ صورتحال ہمارے لئے بھی لمحہ فکریہ ہونی چاہئے اور عوام کو سوچنا چاہئے کہ آخر ہم کہاں جارہے ہیں۔ظاہر ہے کہ کووڈ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ میں عوام کی لاپرواہی کا بڑا ہاتھ ہے ۔اگر ہم نے کورونا کو خود دعوت نہ دی ہوتی تو شاید ہسپتالوں میں اب یوں کہرام نہ مچ چکا ہوتا ۔ابھی بھی وقت ہے ہم ہوش کے ناخن لیں اور اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کی بجائے اپنے اور باقی لوگوںکو بچانے کی کوششیں کریں اور بچائو صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن رہنما خطوط پر عمل کریں جو کووڈ کے بچائو کیلئے وضع کئے گئے ہیں ورنہ آنے والے دنوں میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہوسکتی ہے اور اُس وقت ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ ہوگا۔