تازہ ترین

مزید خبرں

تاریخ    24 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک

اپنی پارٹی کا سڑکوں کی تعمیر میں تاخیر پراظہارِناراضگی | ترقیاتی منصوبے غیر ضروری وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار:راتھر

سرینگر//اپنی پارٹی ضلع صدر اننت ناگ اور سابق ایم ایل اے عبدالرحیم راتھر نے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کی تکمیل میں تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے بتایا ’’ ہنگل گنڈ سے پازی پورہ تک سڑک کی تجدید کا کام پی ایم جی ایس وائی نے شروع کیاتھا اور ہنگل گنڈ سے ناگام تک سڑک کے حصہ کو ابھی تک چھوا بھی نہیں جومقامی لوگوں کے لئے تشویش کا باعث ہے‘‘۔ انہوں نے محکمہ مال کے حکام پرزور دیا ہے کہ وہ تعمیراتی ایجنسی کو مطلوبہ دستاویزات اور دیگر معلومات فراہم کریں جوکہ منصوبہ کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ بتائی جارہی ہے۔ راتھر نے کہا کہ توسہ پورہ گڈول سے اپر گڈول تک بھی ایک سڑک منصوبے کو بھی ادھورا چھوڑا گیا ہے اور علاقہ کے لوگوں میں غم وغصہ ہے اور وہ محکمہ کے خلاف تاخیر کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پرزور دیا کہ بقیہ کام کو موجودہ کام کے سیزن کے دوران ہی مکمل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ 
 
 
 

آغا حسن کاپارٹی کارکن کی وفات پراظہار تعزیت

 
سرینگر// انجمن شرعی شیعیان کے صدرآغا سید حسن نے تنظیم کے دیرینہ کارکن حاجی حکیم عبداللہ ساکن پانژس ماگام کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین اور پسماندگان سے تعزیت کی۔ آغا حسن نے مرحوم کی تنظیم کے ساتھ گہری وابستگی اور خیرخواہی کو سراہتے ہوئے اُن کی جنت نشینی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی۔
 
 

پولیس تھانہ اونتی پورہ میں آگ |  ایس او جی عمارت کو جزوی نقصان

 
سرینگر// اونتی پورہ پولیس تھانہ بدھ کی صبح میںآگ نمو دار ہوئی جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ پولیس تھانہ اونتی پورہ میں سپیشل آپریشن گروپ کی ایک عمارت میں بدھ کی صبح سوا آٹھ بجے کے قریب آگ نمودار ہوئی جس سے عمارت کی پہلی منزل اور چھت کو جزوی نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں اور فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کے اہلکاروں نے آگ کو بیس منٹوں کے اندر اندر ہی  قابو میں پا لیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ آگ کی وجہ بظاہر شارٹ سرکٹ ہے تاہم اس واردات میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔یو این آئی 
 
 

 کورنا کے صحتیاب مریضوں کی تعداد میں اضافہ

 
سرینگر //جموں کشمیر میں گزشتہ دنوں سے جاری کورنا وائرس کے کیسوں میں اضافہ کے بیچ بدھ کو مثبت معاملات سے زیادہ صحتیاب کیسوں کی تعداد ریکارڈ درج کر لی گئی اور پہلی بار جموں کشمیر میں ایک دن میں 2796مریض صحتیابی کے بعد گھروں کو رخصت ہوئے ۔ ادھر بدھ کو مزید 1249افراد کے ٹیسٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی مثبت معاملات کی تعداد 67ہزار 510تک پہنچ گئی ہے ۔ جبکہ وبائی بیماری کی قہر سامانیوں کے بیچ بدھ کوروز مزید 20مریضوں کی موت کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 1069تک پہنچ گئی ۔حکام کے مطابق جموں کشمیر میں بدھ کو 20افراد کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے۔ادھرجموں کشمیر میں گزشتہ دنوں سے جاری کورنا وائرس کے کیسوں میں اضافہ کے بیچ بدھ کو مثبت معاملات سے زیادہ صحتیاب افراد کی تعداد ریکارڈ درج کر لی گئی اور پہلی بار جموں کشمیر میں ایک دن میں 2796مریض صحت یابی کے بعد گھروں کو رخصت ہوئے ۔ مزید 1235افراد کے ٹیسٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی مثبت معاملات کی تعداد 66ہزار 261تک پہنچ گئی ۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 

قانون سازکونسل کے سابق ممبر سمیت کئی وفود لیفٹیننٹ گورنر سے ملے

جموں//قانون ساز کونسل کے سابق ممبر اور ان ایڈیڈ ’سی بی ایس ای ‘اسکولز ایسوسی ایشن کے ارکان نے یہاں راج بھون میں لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل کے ازالہ کیلئے اُن کی فوری مداخلت طلب کی ۔ سابق ایم ایل سی رومیش اروڑہ نے لیفٹینٹ گورنر کے ساتھ ملاقات کے دوران مختلف مسائل اور مانگیں پیش کیں جن میں بکرم چوک اور آر ایس پورہ ریلوے سٹیشن کو ہیری ٹیج درجہ دینے ، پی او جے کے رفوجیوں کی آن لائین رجسٹریشن اور عوامی اہمیت کے حامل دیگر مسائل اٹھائے ۔ ان ایڈڈ ’سی بی ایس ای ‘سکولوں کی ایسوسی ایشن اور ان ایڈڈ تسلیم تشدہ اداروں کے فورم ،جو راہول بنسل ، اروند مہاجن ، نندن کوتھیالہ ، ہرپریت سنگھ اور آدتیہ گپتا پر مشتمل تھے ، نے ایڈمیشن فیس ، ٹرانسپورٹ اور سالانہ چارجز اور موجودہ کووڈ وبائی صورتحال سے متعلق دیگر مسائل پر مشتمل مانگوں کی یاداشت پیش کی۔ بانی امن مومنٹ پروفیسر راج کاچرو نے بھی لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی اور مانگیں اور مسائل اُن کے گوش گذار کئے ۔ لفٹینٹ گورنر نے وفود کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور شکایات کو بغور سُنا اور انہیں یقین دلایا کہ اُن کے جائیز مسائل و مطالبات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جائے گا ۔ دریں اثنا چیئر مین جوائنٹ الیکٹرسٹی کمیشن ایل ڈی جہا نے لیفٹینٹ گورنر کو کمیشن کے کام کاج اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں تفصیل دی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کمیشن کے کام کاج میں شفافیت اور جوابدہی قائم کرنے کیلئے لازمی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ۔
 
 
 

سوم ناتھ سورگباش ایل جی کااظہاردکھ

جموں//لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے سابق ممبراسمبلی اور سینئر سیاسی لیڈر سوم ناتھ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ۔ اپنے تعزیتی پیغام میں لفٹینٹ گورنر نے آنجہانی کی روح کے دایمی سکون کیلئے پرارتھنا کی ۔
 
 
 

پولیس سینیارٹی تنازعہ تین دہائیوں کے بعد حل | 550سے زائید افسران کی سروس باقاعدہ ، ترقی کے احکامات صادر 

نیوز ڈیسک
سرینگر//جموں کشمیر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو 550سے زائد پولیس افسران کی باقاعدگی کے احکامات صادر کئے۔ان میں ایس پی اورڈی ایس پی رینک کے افسران شامل ہیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیاہے کہ ایسا کرکے تین دہائیوں پرانا سینیارٹی سے متعلق تنازع حل ہوگیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے ترقی پانے والے پولیس افسران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے محکمہ داخلہ کی کاوش کو سراہا اور کہا کہ کارکردگی کو بہتر بنانے اور گڈ گورننس اہم محاذوں پر اصلاحات عمل میں لانے کی کلید ہے۔ فی الوقت ایسے 550سے زیادہ افسران کی باقاعدگی یا ترقی ،عمل میں لائی گئی ہے جن کے کیس2007سے التواء میںپڑے ہوئے تھے۔ان میںایسے440ایس پی اور ڈی ایس پی بھی شامل ہیں۔محکمہ داخلہ نے گذشتہ تین دہائیوں سے جموں و کشمیر پولیس (گزیٹیڈ) سروس کو دوچار کرنے والے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے بنیادی اصولوں اور عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع مشق کی ہے۔اس فیصلے سے ایس پیزاورریٹائرڈپولیس افسران بھی مستفید ہوں گے۔سرکاری اعدادوشمارکے مطابق مجموعی طور پر ایس پی سطح کے 268 اور ڈی ایس پی سطح کے575  افسروں کوباقاعدگی اورترقی کی سینیاررٹی کو حتمی شکل دینے کی بنیاد مکمل کی گئی ہے۔بیان کے مطابق اس عارضی سنیارٹی کو فروری2020 میں حتمی شکل دی گئی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہمیں اپنی پولیس فورس پر فخر ہے۔ انہوں نے سرحد پار سے ہونے والی ملی ٹنسی سے نمٹنے اور جموں وکشمیر میں امن کو برقرار رکھنے کے لئے ٹھوس کوشش کرنے میں ہمیشہ اعلی پیشہ ورانہ مہارت اور سب سے بڑی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے محسوس کیا کہ جموں و کشمیر پولیس عسکریت پسندی کی طرف سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے سب سے آگے رہی ہے ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مثالی بہادری اور جر ات کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کے لئے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا ہے۔
 
 
 

270 اسسٹنٹ سب انسپکٹر بطور سب انسپکٹر ترقیاب

سرینگر// محکمہ پولیس میں270اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو سب انسپکٹروں کے طور پر ترقی دی گئی،جبکہ امسال پولیس ہیڈ کواٹر نے6700افسران و اہلکاروں کو ترقیوں سے نوازا۔ جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے 270اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو سب انسپکٹروں کے طور پر ترقی دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے ترقی پانے والے  افسران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں سماج اور عوام  بالخصوص محکمہ پولیس کیلئے مزید بہتر طریقے سے کام کرنے پر زور دیا۔انہوں نے ترقی پانے والے پولیس افسران کے اہل خانہ کو بھی مبارکباد پیش کی۔پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی اور فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سنیئر پولیس افسران کی نگرانی میں امسال مجموعی طور پر6744اہلکاروں کو ترقیوں سے نوازا گیا،جن میں کانسٹیبلوں سے لیکرانسپکٹروں کے عہدے تک کے افسران اور اہلکار شامل ہیں۔ جموں اور کشمیر زونوں ،صوبوں کی ایگزیکٹوں ونگوں میںپولیس اہلکاروں کو ترقیاں دی گئی،ان میں133اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو سب انسپکٹر،جبکہ1398ہیڈ کانسٹبلوں کو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کے طور پر ترقیوں سے نوازا گیا۔ اسی طرح سے2399سلیکشن گریڈ کانسٹیبلوں کو ہیڈ کانسٹبیلوں،جبکہ318کانسٹیبلوں کو سلیکشن گریڈ کے طور پر ترقیاں دی گئیں۔ بیان کے مطابق آرمڈ پولیس اور ایس ڈی آر ایف ونگوں میں بھی امسال اہلکاروں کو ترقیاں دی گئیں،جن میں میں ایس ڈی آف ایف(منسٹریل اسٹاف) کے3سب انسپکٹروں کو انسپکٹروں کے طور ترقی دی گئی جبکہ124اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو سب انسپکٹروں،جن میں4ایس ڈی آر ایف  اور120آرمڈ پولیس سے وابستہ ہے۔ آرمڈ پولیس اور ایس ڈی آر ایف کے402 ہیڈ کانسٹیبلوں کو بھی اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کے طور پر ترقیاں دی گئی،جبکہ1064سلیکشن گریڈ کانسٹیبلوں اور558کانسٹیبلوں کو بھی ترقیوں سے نواز ا گیا۔
 
 
 

پولیس سربراہ کا اظہار تشکر

سرینگر//پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا ،لیفٹینٹ گورنر کے صلاح کار آر آر بھٹناگرا وردیگرحکام کا ،محکمہ پولیس کے گزیٹیڈ کیڈر کے بھاری تعداد میں افسروں کی ترقیوں اوران کو باضابطہ بنانے کیلئے شکریہ اداکیا ہے ۔پولیس سربراہ نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس کارڈنیشن ایس جے ایم گیلانی ،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس ہیڈ کوارٹر لا اینڈ آرڈرعبدالغنی میر،لیفٹینٹ گورنرکے پرنسپل سیکریٹری نتیشورکمار،سپیشل سیکریٹری داخلہ شکیل الرحمن راتھراور دیگر کابھی شکریہ اداکیا۔پولیس سربراہ نے ترقی پانے والے افسروں کو نیک خواہشات اور مبارکباد بھی پیش کی ۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 

’بلاک دیوس‘ کے موقعہ پر روہت کنسل کادورئہ ترال

کھیل کود کاسامان،حق شہریت وآمدن اسناداورجاب کارڈس تقسیم

شکایات کا موقعہ پر ہی ازالہ

پلوامہ//بیک ٹو وِلیج پروگرام کے اِنعقاد کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے ۔اِس بات کا اِظہار پرنسپل سیکرٹری پی ڈی ڈی و محکمہ اطلاعات روہت کنسل نے ترال میں دوسرے یوم بلاک دیوس کے موقعہ پر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ’جن ابھیان ‘کا مقصد عوامی خدمات میں بہتری لانا اور عوامی شکایات کا فوری حل یقینی بنانا ہے ۔اس کے علاوہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے جاری سکیموں کی صدفیصد عمل آوری کا حصول بھی پروگرام کے اِنعقاد کا مقصد ہے ۔اُنہوںنے کہا کہ جن ابھیان سے جموںوکشمیر میں بہتر انتظامیہ کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور عام آدمی بااختیار بن جائے گااور یوٹی حکومت کی جانب سے اختیار کئے گئے نئے انتظامی ماڈل کو ایک نئی سمت ملے گی۔پرنسپل سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں دوسرے بلاک دیوس کے موقعہ پربلاک اونتی پورہ اور ترال کا دورہ کیا۔ اِس موقعہ پر اِن کے ہمراہ ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ ڈاکٹر راگھولنگر اور ایس ایس پی اونتی پورہ کے علاوہ دیگر ضلعی اَفسران بھی موجود تھے۔اونتی او رترال بلاکوں میں پرنسپل سیکرٹری نے مختلف محکموں کی جانب سے قائم کئے گئے سٹالوں کا معائینہ کیا اور عوامی شکایات کے ازالہ نظام کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔انہوں نے اس موقعہ پر سینکڑوں لوگوں سے تبادلہ خیال کیا اور انہیں درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے سکولی بچوں میں کھیل کود کٹس ، آمدن اور حق شہریت اَسناد تقسیم کیں او ربی بی بی پی کے تحت نو مولود بچیوں کے لئے بے بی کٹس بھی تقسیم کئے۔اُنہوں نے لاڈلی بیٹی سکیم کے تحت منظوری نامے بھی تقسیم کئے ۔انہوں نے جسمانی طور معذور افراد میں ویل چیئر ، آلات سماعت اور عصا تقسیم کئے ۔پرنسپل سیکرٹری نے ترال میں صورتحال کا جائزہ لیا ۔ اس کے دوران اے ڈی سی ترال نے انہیں مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں اور عوام تک رسائی اور دیگر عوامی افادیت کے پروگراموں کے بارے میں جانکاری دی۔پرنسپل سیکرٹری نے بٹہ گنڈ ، رتھ سنا اور سائمو سے آئے وفود سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ سائمو سے آئے سبکد وش ہوئے سکھ اساتذہ کے ایک وفد نے سڑک کے درمیان رُکاوٹ کا معاملہ اُٹھا یا جس کے سبب لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس سلسلے میں پرنسپل سیکرٹری نے اے ڈی سی ترال کو اس مسئلے کا فوری ازالہ کرنے کی ہدایت دی۔بٹہ گنڈ سے آئے ایک وفد نے این ٹی پی ایچ سی کے لئے معقول عملے ، کریٹکل کیئر ایمبولنس اور ڈیجیٹل ایکسرے پلانٹ کی مانگ کی۔بلاک دیوس کے موقعہ پر مقامی اور مختلف پنچایتوں کے ارکان نے حصہ لیا اور افسروں کو اپنے مسائل اور مانگوں سے آگاہ کیا اور ان کا فوری حل طلب کیا۔رتھ سنا کے ایک وفد نے پی ایچ سی رٹھ سنا میں ڈاکٹروں کی تعیناتی کی مانگ کی اور ٹرانسپورٹ اوپریٹیوں کی جانب سے زیادہ کرایہ وصول کرنے کی بھی شکایت کی۔ پرنسپل سیکرٹری نے وفود کو بغور سنا او رافسروں کو ان شکایات کا فوری ازالہ کرنے اور اس ضمن میں ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔بعد میں پرنسپل سیکرٹری نے ایمز کادورہ کرنے کے دوران وہاں جاری کام کا معائنہ کیا۔انہوں نے فیلڈ افسروں کوپروجیکٹ بروقت مکمل کرنے کے لئے کہا۔بلاک دیوس ضلع کے 11بلاکوں میں منعقد ہوا جہاں مختلف پنچایتوں کے لوگوں نے دیگر ترقیاتی معاملات سے آگاہ کیا۔ 
 
 
 

کورونامعاملوں میں اُچھال کا نتیجہ 

سعودی عرب کا بھارت سمیت 3 ممالک کیلئے پروازیں معطل کرنے کااعلان

نئی دہلی// کورونا معاملات میں اضافے کے پیش نظر سعودی عرب نے بھارت سے آنے اور بھارت جانے والی پروازوں پر منگلوار سے پابندی عائد کی ہے ۔سعودی عرب کی شہری ہوابازی کے محکمے نے کہا کہ وہ بھارت،برازیل اورارجنٹائنا کاسفر کرنے یا وہاں کے مسافروں کو اپنے ملک میں داخل ہونے کو معطل کررہا ہے ۔محکمے کے مطابق ان ممالک میں اگر کوئی بھی شہری گزشتہ چودہ روزمیں رہا ہو،توانہیں سعودی عرب میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔تاہم اس حکم سے سرکاری دعوت پر آنے والے مسافر مستثنی ہوں گے ۔ان احکامات کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر آنے جانے والی تمام ہوائی کمپنیوں کوبھیجا گیا ہے ۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں لاکھوں بھارتی کام کررہے ہیں ۔پانچ روز قبل ائے انڈیا ایکسپریس نے کہا کہ دبئی کی شہری ہوا بازی محکمے نے اس کی پروازوں کو چوبیس گھنٹوں کیلئے اس بناء پر معطل کیاکہ اُس نے28اگست اور4ستمبر کودوکووِڈ مثبت مریضوں کولایا تھا۔متحدہ عرب امارات کی حکومت کے مطابق بھارت سے سفر کرنے والے سبھی مسافروں کو آمد پر کووِڈ- 19منفی سند اصل میں پیش کرنا ہوگی اور یہ جانچ 96گھنٹے پہلے ہوئی ہونی چاہیے۔
 
 
 
 

بھاجپا پر لداخیوں کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش کااپیکس باڈی کاالزام 

ہنگامی دورے کے دوران اشوک کول کو احتجاجی مظاہروں کا سامنا 

یواین آئی

لیہہ// لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ کی مذہبی، سیاسی، سماجی اور طلبہ تنظیموں پر مشتمل اپیکس باڈی نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر لوگوں کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اپیکس باڈی نے بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے جنرل سکریٹری اور لداخ امور کے انچارج اشوک کول کے بیان پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے موصوف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیان پر لداخ کے لوگوں سے معافی مانگیں۔ واضح رہے کہ اپیکس باڈی نے منگل کو ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات فراہم کئے جانے تک لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے اعلان شدہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔ بی جے پی لیڈر اشوک کول نے اس بیان پر اپنے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا،’’قرارداد منظور کرنے سے کیا ہوگا؟ یہ سب بکواس ہے۔ ہم بہت جلد لداخ جا کر وہاں اپنے لوگوں سے بات کریں گے‘‘۔ اس دوران اشوک کول بدھ کو ہنگامی دورے پر لیہہ پہنچے جہاں انہیں احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ بظاہر بی جے پی لیڈران کو چھٹے شیڈول کی مانگ فی الحال التوا میں رکھنے پر راضی کرانے کے لئے یہاں آ پہنچے ہیں۔ اشوک کول کے اچانک لیہہ دورے کے خلاف درجنوں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جنہیں یہ نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا،’’وی وانٹ سکستھ شیڈول، اشوک کول شیم شیم، اشوک کول گو بیک، واپس جائو واپس جائو اشوک کول واپس جائو‘‘۔ اپیکس باڈی میں شامل بی جے پی کے سابق لیڈر اور سابق رکن پارلیمان تھپستن چیوانگ نے بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا،’’اشوک کول جی نے جو بیان دیا ہے ہم اس کو ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے لداخ کے تمام لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا،’’لداخ کے تمام لوگوں کی طرف سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو بیان انہوں نے دیا ہے ہم اس کی پرزور مخالفت کرتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس بیان کو واپس لیں اور لداخ کے لوگوں سے معافی مانگیں‘‘۔ تھپستن چیوانگ نے بی جے پی پر لوگوں کی یکجہتی کو نقصان کی سازش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا،’’کل جب ہم نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ لیا اس وقت بی جے پی کے ضلع صدر نوانگ سمستان بھی موجود تھے۔ بیان پر ان کے بھی دستخط ہیں۔ انہوں نے بھی لداخ کے لوگوں کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ اشوک کول نے لداخ کے لوگوں کی یکجہتی کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں یہ سازش نظر آ رہی ہے‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا،’’ہم اشوک کول جی اور بی جے پی کی مرکزی لیڈرشپ سے درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ لداخ کے لوگوں کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے چھٹے شیڈول کا جو ہم مطالبہ کر رہے ہیں اس پر وہ ذمہ داری کے ساتھ فیصلہ لیں‘‘۔حال ہی میں تشکیل دی گئی اپیکس باڈی نے منگل کو یہاں ایک میٹنگ کے بعد ایک مختصر بیان جاری کیا تھا جس کا متن کچھ یوں ہے،’’دی اپیکس باڈی آف پیپلز موومنٹ فار سکستھ شیڈول فار لداخ نے متفقہ طور پر بوڈولینڈ ٹیری ٹوریل کونسل کے طرز پر لداخ کو چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات فراہم کئے جانے تک آنے والے چھٹے ایل اے ایچ ڈی سی لیہہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ لیا ہے‘‘۔قابل ذکر ہے کہ لداخ یونین ٹریٹری کی انتظامیہ نے رواں ماہ کی 18 تاریخ کو لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے انتخابات کا اعلان کر دیا۔ محکمہ انتخابات کے سکریٹری سوگت بسواس کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ انتخابات 16 اکتوبر 2020 کو منعقد کئے جائیں گے۔انتخابات کا نوٹیفکیشن آنے کے بعد لیہہ کے سابق چیف ایگزیکٹو کونسلر اور سینئر کانگریس لیڈر رگزن سپلبار نے اپیکس باڈی سے لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی کال دینے کا مطالبہ کیا تھا۔اپیکس باڈی نے 10 ستمبر کو دو روزہ اجلاس کے بعد مرکزی حکومت سے اس یونین ٹریٹری کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظات فراہم کرنے نیز لیجسلیچر قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

ٹیچرس فورم کا مطالبہ

نصاب میں اخلاقی تعلیم بھی شروع کی جائے

سرینگر// نصاب کونئی امنگوں اور تقاضوں پر استوار کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جموں کشمیر ٹیچرس فورم کے صدر محمد اکبر خان کا کہنا ہے کہ نصاب میں 2005’’این سی ایف ‘‘کے وضع کردہ اصولوں کے عین مطابق اخلاقی تعلیم شروع کرنے کی پہل کرنا لازمی ہے۔محمد اکبر خان نے کہاحال ہی میں منظور کی گئی’’ ایس ای آر ٹی ‘‘کو طلاب اور اساتذہ کے احساسات کو ملحوظ نظر رکھ کر علاقائی یگانیت کے اصولوں پر شعبہ جاتی تقسیم کاری کی جانی چاہے،جبکہ قومی انعام یافتہ اساتذہ کو وہ تمام مرعات ملنے چاہے جو دوسری ریاستوں یا محکموں میں قومی انعام یافتہ ملازمین کو ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو کئی ایک مسائل بھی درپیش ہے،جن کو اگر چہ بار بار حکام کے سامنے پیش کیا گیا تاہم انہیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی اعلیٰ عہدوں پر تو کام کرتے ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی منظوری باقی ہوتی ہیں،جس کی وجہ سے انہیں اپنے ہی عہدے کی تنخواہ لینی پڑتی ہے۔ خان نے اساتذہ کے ویلفیئر فنڈ کی وکالت کرتے ہوئے ماسٹروں کے تنخواہوں میں تفاوت دور کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے ترقی دیئے گئے ماسٹروں اور اساتذہ کو بطور لکچرار تعینات کرنے کے علاوہ سابق کلہم خواندگی مہم کے تحت تعینات مدرسین کے زیر التواء کیسوں کا ازالہ کرنے پر بھی زور دیا۔اس دوران ٹیچرس فورم کے ترجمان بشیر احمد ٹھوکرکا کہنا ہے کہ اب جب جموں کشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ ہے تاہم دیگر مرکزی زیر انتظامیہ علاقوں کے اساتذہ کے مساوی ،انہیں بھی تنخواہ فراہم کی جانی چاہے۔ ضلع تعلیمی و تربیتی مراکز(ڈائٹ) میں سر نو جائزہ لیکر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی تعیناتی کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدرسین کی تربیت جدید تقاضوں ؎کے عین مطابق ہونی چاہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مدرسین کوجو انعامات دیئے جاتے ہیں،اس دائرہ کو وسیع کیا جانا چاہے،تاکہ زیادہ سے زیادہ مدرسین کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔رخصتی کے عوض تنخواہ(لیو سیلری)میں شمولیت،نئی تعلیمی پالیسی،محکمہ کا سربراہ محکمہ میں ہی سے اور بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے کلیدی جگہوں پر محکمہ تعلیم کے افسران کی تعیناتی اساتذہ کے دیگر مطالبات ہیں۔انہوں نے یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو مطالبات انہوں نے وقت وقت پر سرکار سے اٹھائے ہیں،ان کا ازالہ کیا جائے،اور انہیں اس بات کا ازخود احساس ہے کہ سڑکوں پر آنا انہیں زیب نہیں دیتا،تاہم یہ ان کیلئے مجبوری کا سامان ہے۔
 
 
 
 

ہندپاک دوستی برصغیرمیں امن کی ضمانت:ڈاکٹرمصطفی کمال

سرینگر// ہند پاک کے درمیان دوستی کو برصغیر میں امن کی ضمانت قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ ڈاکٹر کمال نے اپنی رہائش گاہ پر مختلف علاقوں سے آئے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت نے ہمیشہ ہند پاک دوستی کو لازمی قرار دیا ہے،کیونکہ مسئلہ کشمیر کا حل اس سے ہی برآمد ہوکر ہر حصہ میں امن و امان کی فضاء قائم ہوسکتی ہے۔انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ہند پاک دوستی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ کے حل طلب رہنے سے جموں کشمیر کے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا،’’ مسئلہ کشمیر زندہ جاوید ہے اور چاند و سورج کی مانند اقوام متحدہ میں حل طلب ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے عمر بھر ہند ،پاک دوستی کی وکالت کی اور مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے  پر ہند پاک اور کشمیریوں کے تینوں خطوں کے عوامی نمائندوں کی شرکت سے گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت اس موقف پر چٹان کی طرح ڈٹی ہے کہ جموں کشمیرکی خصوصی پوزیشن کو بحال کیا جائے۔انہوں نے دفعہ370کو مرکز اواور جموں کشمیر کے درمیان رشتوں کی بنیاد قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ برس5اگست سے جموں کشمیر میں’’ کالے قوانین‘‘ کا اطلاق کیا جا رہا ہے،اور ان کو واپس لیا جانا چاہے۔ریاست کی وحدت،انفرادیت،اجتماعت،کشمیریت،انسانیت اور جمہوریت کے اصولوں پر مرکزی حکمرانوں کو عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے سابق وزیر نے کہا کہ جموں کشمیر میں امن دفعہ370 کی بحالی سے قائم ہوگا۔انہوں نے مرکزی وزیر مملکت برائے خارجی امور کے اس بیان کا خیر مقدم کیا،جس میں موصوف نے کہا کہ بھارت ،پاکستان کے ساتھ نیک تعلقات اور دوستی قائم کرنے کا خواہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملک اپنے تمام معاملات بشمول مسئلہ کشمیر بات چیت کے ساتھ حل کریں گے ۔انہوں نے مرکزی حکومت کو اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتے بہتر ہونگے۔نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری نے کہا’’لداخ اور ڈوگرہ عوام بھی مودی سرکار سے ناراض ہے،اور ان کا بھی کہنا ہے کہ انکی زمین اور نوکریوں کو خطرہ ہے۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا،’’ مرکزی حکومت نے کشمیریوں پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی‘‘۔
 
 
 

کشمیر میں نئے کاروباری یونٹوں کے قیام کو منظوری 

سرینگر//صوبائی سطح کی سنگل وِنڈو کلیئرنس کمیٹی نے ناظم صنعت و حرفت کشمیر محمود احمد شاہ کی زیرصدارت منعقدہ میٹنگ میں صوبہ کشمیر میں نئے بزنس یونٹوں کے قیام کو منظوری دی جن پر87.54 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ کمیٹی نے 35.28 کروڑ روپے کی لاگت سے پریسائز / پریسٹریسڈ سیمنٹ پروڈکٹس کی تیاری کے لئے خطے میں اَپنی نوعیت کے پہلے کاروباری یونٹ کے قیام کو منظوری دی۔دریں اثنا کمیٹی نے دو کنٹرولڈ ایٹماس فیئر سٹور ایک صنعتی گروتھ سینٹر لاسی پورہ پلوامہ اور دوسرا صنعتی سٹیٹ رنگریٹ کے قیام کی منظوری بھی دی جس میں مجموعی طور بالترتیب  17.34 کروڑاور34.92 کروڑروپے کا سرمایہ کاری ہوگی۔اِن اِکائیوں کے قیام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت کے لئے بھی تعاون کرنے کے علاوہ متعدد سطحوں پر مواقعوں کے ایک نئے دورکی راہیں کھل جائیں گی ۔
 
 
 

 درماندہ 4,88,924شہریوں کو واپس جموں کشمیر لایا گیا 

جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے 4,88,924شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا  رہ کرجموں کشمیر واپس لایا۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اَب تک بیرون ملک سے934مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اَب تک 154کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اَب تک بیرون یوٹی درماندہ 4,88,924شہریو ں کو کووِڈ۔19 وَبا سے متعلق تمام اَحتیاطی تدابیر پرعمل کرکے واپس لایا۔تفصیلات کے مطابق 22 ستمبرسے23 ستمبر 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے4658 درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے جبکہ1123مسافر آج 133ویں دلّی کووِڈ خصوصی ریل گاڑی سے جموں پہنچے ۔اَب تک 133ریل گاڑیوں میں یوٹی کے مختلف اَضلاع سے تعلق رکھنے والے123,448درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔
 
 
 
 
 
 
 

ویشنو دیوی مندر میں پوجا پاٹ 

آرتی کے براہ راست درشن کیلئے موبائل ایپ متعارف

جموں// ویشنو دیوی شرائن بورڈ نے آرتی کے براہ راست درشن کے لئے ایک موبائل ایپ متعارف کیا ہے۔ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر رمیش کمار نے کہا کہ اس موبائل ایپ کو 17 اکتوبر کو نوراتری کے پہلے دن کے موقع پر لانچ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت آرتی کو ایک مذہبی ٹی وی چینل پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔موصوف نے کہا کہ اس موبائل ایپ سے عقیدت مندوں کو انفرادی طور پر ہی عبادت کرنے اور رحمتوں سے بہر مند ہونے کا تجربہ ہوگا۔واضح رہے کہ یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز شری ماتا ویشنو دیوی پوجا پرساد کی ہوم ڈیلیوری کو لانچ کیا۔عقیدت مند پوجا پرساد کو شرائن بورڈ کی ویب سائٹ پر بک کر سکتے ہیں  جس کو بعد میں شرائن بورڈ ملک بھر کے عقیدت مندوں کو سپیڈ پوسٹ کے ذریعے ارسال کرے گا۔ بورڈ نے اس ضمن میں محکمہ ڈاک سے ایک معاہدہ بھی طے کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ سال 1986 میں شرائن بورڈ کے معرض وجود میں آنے سے یاتریوں کی تعداد میں ہر گزرتے برس کے ساتھ اضافہ درج ہورہا تھا تاہم امسال کورونا وبا کی وجہ سے یاتریوں کی تعداد میں نمایاں کمی درج کی جا رہی ہے۔ویشنو دیوی یاترا 16 اگست سے بحال ہوئی اور روزانہ پانچ ہزار یاتریوں کو ہی تمام تر احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کے بعد یاترا کی اجازت ہے۔ 
 
 
 

مندر کے پرساد کی ہوم ڈیلیوری

 عقیدتمندوں تک ڈیڑھ ہزار پیکٹ پہنچائے گئے

جموں//ویشنو دیوی شرائن بورڈ نے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں ملک بھر میں پھیلے ویشنو دیوی کے عقیدت مندوں تک سپیڈ پوسٹ کے ذریعے پرساد کے زائد از ڈیڑھ ہزار پیکٹ پہنچائے۔بتادیں کہ 28 اگست کوویشنو دیوی شرائن بورڈ نے محکمہ ڈاک کے ساتھ عقیدت مندوں تک سپیڈ پوسٹ کے ذریعے پرساد پہنچانے کا معاہدہ طے کیا۔یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، جو شرائن بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں، نے پیر کے روز پرساد کی سپیڈ پوسٹ کے ذریعے ہوم ڈیلیوری کو لانچ کیا۔شرائن بورڈ کے ایک عہدیدار نے بدھ کے روز بتایا کہ بورڈ نے اب تک زائد 15 سو پوجا پرساد کے پیکٹ ملک بھر میں پھیلے عقیدت مندوں کو سپیڈ پوسٹ کے ذریعے ارسال کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹائزڈ بوکسز میں پرساد گھر کی دہلیز پر ہی حاصل کرنے کے لئے عقیدت مندوں کو شرائن بورڈ کی ویب سائٹ پر اس کو بک کرنا ہے۔