تازہ ترین

اقوام متحدہ کے 75سال

عالمی ادارہ کو عوامی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


اسد مرزا
اقوا م متحدہ جنرل اسمبلی کا 75و اں اجلاس 15 ستمبر سے شرو ع ہوچکا ہے تاہم اس مرتبہ یہ اجلاس کئی معنوں میں سابقہ اجلاس سے مختلف اور اہم ہے۔کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث اس سال بیشتر عالمی رہنما ذاتی طورپر خصوصی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور اس کی میٹنگ ورچوول ہوگی ، لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ عالمی سفارت کاری اور پائیدار ترقی کا پہیہ اپنے معمول کی رفتارسے نہیں گھومے گا۔
اقوام متحدہ کا قیام 1945میں عمل میں آیا تھا اور یہ اپنی 75ویں سالگرہ منا رہا ہے۔اقوا م متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے اس موقع پر ایک وسیع تر ’عوامی بحث‘ کی اپیل کی ہے جس میں ہمیں اپنے مطلوبہ مستقبل کی تعمیر سے متعلق اب تک کے سب سے جامع،  بامعنی اور پرمغز تبادلہ خیال کرسکیں۔
اقو ام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے 21ستمبر کو ایک آن لائن تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ، جس کا مقصد’تکثیریت کے لیے نئی حمایت کا حصول ‘ ہے، جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ معاملہ کورونا وائرس کی وبا سے دوچار دنیا کے لیے پہلے کے مقابلے آج کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔
اس موقع پر اقو ام متحدہ پائیدار ترقیاتی اہداف یا ایس ڈی جی ،جس کے تحت عالمی برادری غربت کو ختم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے ،کے تئیں اپنی عہدبندی کا جائزہ لے گا ۔ اس کے علاوہ عالمی حیاتیاتی تنوع، صنفی مساوات میں متعلق پیش رفت، خواتین کے حقوق پر بھی گفتگو ہوگی اور تکثریت کے سلسلے میں جاری مذاکرات کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
75برسوں میں کیا کھویا ، کیا پایا
یہ موقع عالمی ادارے کی اپنی حصولیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کا بھی موقع فراہم کرے گا۔گزشتہ عشرو ں کے دوران اقو ام متحدہ نے عالمی امن و استحکام کوبرقرار رکھنے میں بھرپور کوشش کی ہے، اس نے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو انسانی امداد فراہم کی ہے، اس نے عالمی پیمانے پر عوامی صحت کے معاملے میں کلیدی رول ادا کیا ہے اور دیگر امور کے علاوہ وہ ماحولیاتی تباہی کے خلاف جنگ میں بھی پیش پیش رہا ہے۔
تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے تمام اقدامات کی تعریف و توصیف ہی کی جاسکے۔ بہت سے معاملات میں اس کی شدید نکتہ چینی بھی ہوئی ہے۔ حالیہ عرصے میں جیسا کہ1994میں روانڈا کے قتل عام کے معاملے پر اس کی طرف سے مناسب اقدامات نہیں لیے جانے اور 2010میں زلزلہ کے بعد ہیتی میں ہیضہ پھوٹ پڑنے کے لیے اقو ام متحدہ کے امدادی کارکنوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتارہا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی سوڈا ن میں مقیم اقو ام متحدہ قیام امن فورس کی اس لیے نکتہ چینی کی جاتی ہے کہ وہ شہریوں کو موت، اذیت اور عصمت دری سے بچانے میں ناکام رہی۔کانگو، کمبوڈیا، ہیتی اور دیگر ملکوں میں اقو ام متحدہ قیام امن فورس پر ان ملکوں میں شہریوں کے جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ طاقت کا عدم توازن بھی ایک متنازعہ معاملہ ہے کیوں کہ اقو ام متحدہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کو کسی بھی معاملے پر ویٹو کردینے کا حق حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یہ فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے میں انتہائی غیر موثر ثابت ہوا ہے ، حالانکہ 1967سے 1989کے درمیان اقو ام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 131قراردادیں منظور کیں ۔ جو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ موقر ادارہ صرف زبانی جمع خر چ کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔
اقوام متحدہ واضح طور پر ایک مثالی تنظیم نہیں ہے۔اسے اپنے بہت سے مشن میں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ البتہ سیاسی گروہ بندی والی اس دنیا میں جہاں اقتصادی اور سماجی تفاوت کی بھرمار ہے،اجتماعی تنازعات کوحل کرنے کے لیے یہ غالباً کسی دوسرے کثیر فریقی ادارے سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چھوٹے اور ترقی پزیر ملکوں کو بھی اپنی آواز بلند کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم مل جاتا ہے۔
چین کا حیرت انگیز قدم
اقو ام متحدہ کی 75ویں سالگرہ سے متعلق تقریبات کے آغاز سے قبل سب سے حیران کن چیز چینی وزارت خارجہ کی جانب سے  پیش کیا جانے والا’پوزیشن پیپر‘ ہے جس میں بیجنگ نے اقوام متحدہ کے رول، بین الاقوامی صورت حال، پائیدا ر ترقی اور کووڈ 19پر تعاون سمیت مختلف امورپر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ 
اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اقو ام متحدہ کی 75ویں سالگرہ ایک اہم موقع ہے اور بین الاقوامی برداری کو عالمی فاششٹ مخالف جنگ کے نتائج کو مشترکہ طور پرتقویت فراہم کرنی چاہئے اور اجارہ داری،  بالادستی اور طاقت کی سیاست کو مسترد کرنا چاہئے۔ اس کی جگہ بین الاقوامی برادری کو تکثیریت کا پرچم بلند کرنا چاہئے، اقو ام متحدہ کے اصولوں اور چارٹر کی حفاظت کرنی چاہئے اور اقو ام متحدہ پر مرکوز بین الاقوامی نظم اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کا دفاع کرنا چاہئے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ چین انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل والی دنیا کی تعمیر کے لیے تمام ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیا رہے۔ اس نے شمال۔ جنوب تعاون کو اصل چینل اور جنوب۔ جنوب تعاون کو اس کا ضمنی ذریعہ بنانے کی بھی اپیل کی ہے۔
چین، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، نے غریب ملکوں کے لیے مدد کے لیےDebt Service Suspension Initiative  کی بھی حمایت کی ہے۔ چین کے ’پوزیشن پیپر‘ میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطین کامسئلہ مشرق وسطی کا بنیادی مسئلہ ہے اور ایک آزاد فلسطینی مملکت کی حمایت کی گئی ہے جو 1967کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور جسے مکمل خود مختاری حاصل ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔ بیجنگ نے اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کی عالمی جنگ بندی کی اپیل کی بھی حمایت کی ہے۔اس نے بات چیت اور سیاسی مفاہمت کے ذریعہ افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔
آنے والی نسلوں کے لیے ایک ’نئے اور بہتر خاکہ‘ کی اپیل کرتے ہوئے چین نے کہا ہے ’’ تمام ملکوں کو موجودہ وبا سے آگے کے بارے میں سوچنا چاہئے اور دیگر اہم سوالات کے جواب تلاش کرنے چاہئیں مثلاً یہ دنیا کیسی ہوگی اور اس نئی دنیا کو کس طرح کے اقوام متحدہ کی ضرورت ہوگی ۔‘‘
ہندوستان اوراقوا م متحدہ
اقوا م متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہندوستان نے اقو ام متحدہ میں تین انتخابات جیت کر ہیٹ ٹرک بنائی ہے۔ ہندوستان نے اس عالمی ادارے کے اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے باوقار شعبے اقوام متحدہ کے خواتین کی صورت حال سے متعلق کمیشن (سی ڈبلیو ایس) کی چار سالہ مدت کے لیے چین کو ہراکر رکنیت حاصل کی۔ اس کے علاہ ایس سی او ایس او سی کی دیگر دو کمیٹیو ں، پروگرام اورکوراڈی نیشن کمیٹی (سی پی سی) اور آبادی اورترقی سے متعلق کمیشن (سی پی ڈی) کی رکنیت حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا ۔ اس کی مدت 2021 سے شروع ہوگی جب ہندوستان اقو ام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پراپنی دوسالہ مدت کا آغا ز کرے گا۔
ہندوستان ہمیشہ سے ہی اقو ام متحدہ کا زبردست حامی رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے تئیں ہندوستان کی حمایت تکثیریت اور مذاکرات کے متعلق اس کی مضبوط عہد بندی پر مبنی ہے۔ جوکہ مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے اور عالمی برادری کو درپیش متعدد چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان امور میں قیام امن اور امن کو برقرار رکھنا، پائیدار ترقی، غربت کا خاتمہ، ماحولیات، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، تحدید اسلحہ، انسانی حقوق ، صحت اور وبا، مہاجرت، سائبر سیکورٹی، خلاء، جدید ٹکنالوجی ، اقو ام متحدہ کی جامع اصلاحات بشمول سلامتی کونسل میں اصلاحات وغیرہ شامل ہیں۔
 مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں اقوام متحدہ کو اس کی تفویض کردہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے یاد دہانی کراتے رہنا چاہئے ۔ لیکن اس سے زیادہ اہم یہ بھی ہے کہ ہمیں عالمی رہنماوں کو بھی ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتے رہنا چاہئے کیوں کہ اس کے اراکین کی طرف سے سیاسی تائید اور مالی امداد کے بغیر اقوام متحدہ موثر طور پر کام نہیں کرسکتا ہے اور آنے والے وقت میں بھی اس کی افادیت برقرار رہ سکے۔
(مصنف سینئر تجزیہ نگا ر ہیں۔وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز دوبئی سے وابستہ رہے ہیں)
ای میل ۔ asad.mirza.nd@gmail.com
 

تازہ ترین