ملک کے تعلیمی نظام پر بھگوا چھاپ

درس وتدریس

تاریخ    22 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ڈاکٹر محمد بشیر ماگر
آزادی کے بعدبھارت کا تعلیمی نظام مختلف ادوار میں جدید طرز پر نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ جس میں زیادہ ترمغربی دنیا کے نظام تعلیم کی ہمیشہ نقل ہوتی رہی ہے ۔ مختلف ایجوکیشن کمیشنز بنتے رہے جیسے کتھاری کمیشن، ایجوکیشن کمیشن، وغیرہ وغیرہ ۔ان کی رپورٹس آتی رہیں۔پھر ہندوستان کے چوٹی کے ماہر تعلیم، ٹیکنوکریٹس اور سائنسدان اس پر بحث کرکے اس کمیشن یا تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل ملک میںحالات کے مطابق اپنے ملک گیر سماجی، اقتصادی،مذہبی ،علاقائی تناظر اور تعلیمی معیار کو سامنے رکھ کر عملی جامعہ پہناتے رہے ہیں۔ جس میں تمام مذاہب ہندو،مسلم، سکھ، عیسائی،بودھ ،جین ، پارسی اور جن کا کوئی مذہب نہیں ان کو مد نظر رکھا جاتا رہا ہے جو کہ ایک جمہوری ملک کا نسب العین ہوتا ہے۔ملک بھر کی تمام اہم بولی جانے والی زبانوں: ہندی، اردو، بنگالی، تیلگو، تامل،پنجابی،کشمیری ، مراٹھی، بھوجپوری ،اڑیا،آسامی،کنڑوغیرہ کے علاوہ آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میںآنے والی تمام زبانوں اور مذہبی زبانوں جیسے سنسکرت ،عربی ،فارسی ، گورمکھی ،بوھدی وغیرہ کو بھی آئین کی بالادستی کو مدنظر رکھکر تعلیمی نظام میں شامل رکھا جاتا رہاہے۔ لسانی،علاقائی ،طبقاتی اور مادری زبانوں کو ہر اس ایجوکیشن پالیسی میں کثیر السانی،کثیر الاطراف کے ہر پہلو کو مد نظر رکھکر جمہوری طرز پالیسی کے تحت حتمی شکل دیکر ملک گیر پیمانے پر رائج کیا جاتا رہا ہے۔ مگر اب کی بارموجودہ حکومت نے جو ایجوکیشن پالیسی سامنے لائی ہے اور اس کو حتمی شکل دے کر ملک گیر پیمانے پر رائج کر دیا ہے ،اس پر چند معروضات سامنے رکھ رہا ہوں۔میں آج کے اس مختصر سے مضمون میں صرف سکولی نصاب کی چند کتب پر اپنی بات کا اس تحریر کے زریعے اظہار کر رہاہوں۔ نئی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء پر انشاء اللہ آنے والے دنوں میں قارئین کی نظر ایک مفصل تحریر پیش کروں گا۔
اگر ہم اسکولز کے NCERT  کی کتب کا جائزہ لیں۔آپ کو شاید معلوم ہوگا کہ ہندوستان کے اسکولز میں این سی ای آر ٹی کا نساب عام تعلیم کم اور ہندو دھرم کا پرچار زیادہ کرتی نظر آرہی ہے۔ میں ایک دو مثالیں دے کر آگے گزرنا چاہتا ہوں۔حضرات مسلمانوں، سکھوں،کرسچنز کو زبردستی ہندو دھارمک گرنتھ پڑھنی پڑرہی ہیں۔جیسے : نمبر ایک ششم درجہ یعنی چھٹی کلاس میں ایک کمپلسری کتاب ’بال گرام کتھہ‘ہے۔ یہ پوری کی پوری رامائن کتھہ ہے۔ تمام طلباء مسلم ،سکھ، کرسچن ،بودھ ،جین گویا کہ تمام مذاہب کے بچوں کو زبردستی پڑھائی جا رہی ہے۔ نمبر دو: ساتویں یعنی سیونتھ کلاس میںکمپلسری ’مہا بھارت‘  نام کی ایک کتاب پڑھنی پڑ رہی ہے۔جس میں پوری کی پوری مہابھارت زبردستی تمام مذاہب کے بچوں پر لازمی پڑھنی واجب قرار دی گئی ہے ۔ جس کا ہندو مت کے سوا کسی بھی مذہب مسلم،سکھ،کرسچن ،بودھ ،جین وغیرہ کا دور تک کوئی اینٹرسٹ یا واسطہ نہیں بادل ناخواستہ پڑھنی پڑ رہی ہے۔ اسی طرح نمبر تین : آٹھویں کلاس یعنی 8th Standerd میں ایک کمپلسری کتاب ’ بھارت ایک کھوج‘  جو صرف اور صرف ہندتواکو پراموٹ کرتی ہے۔ اس میں ہندومذہب کے وید پڑھائے جا رہے ہیں۔چلو مان لیا ایک بڑی اکثریت کا یہ مذہبی معاملہ ہے تو دوسرے مذاہب کے بچے بھی جھیل لیں گے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اس کتاب میں کچھ ایسے ابواب ہیں جیسے ( نئی سیمائیں، عرب اور منگول، محمود غزنوی اور محمد غوری) وغیرہ کو لٹیرے اور چور قرار دیا گیا ہے۔ کچھ اسطرح کی عبارات درج کردی گئی ہیں جس سے مسلمانوں کے تئیں عام مذاہب کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کا باعث بن گئی ہیں۔جب یہ نفرت بھرا نصاب ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے کلاس کے بچوں کوایک اہم مضمون کے طور پڑھنے پر آپ کی ایجوکیشن پالیسی زبر دستی ٹھونس رہی ہے اور نو نہالوں کے دماغ میں نفرتوں کے سوا کچھ نہیں بھر رہی ہے تو یہ سراسر نا انصافی ،غیر جمہوری اور مادر وطن ہندوستان کے ساتھ ایک بہت بڑا کھلواڑ ہے۔ میں ایک اور مثال دے کر اپنے مختصر وقت کا جائز مصرف کرنا چاہتا ہوں۔نمبر چار دسویں کلاس بچوں کی ایک اہم کلاس ہے۔ 10th Classمیںایک کمپلسری کتاب لگائی گئی ہے جس نام ہے۔(کرتکیہ) اس کرتکیہ میں ایک Chapterہے ’حیران ہے راما‘ جس میں کسی ایک انگریزی اندولن کے بارے میں ایک من گھڑت کہانی دکھائی گئی ہے جس میں ہندوستان کے ترنگہ جھنڈے کے بجائے (بھگوا جھنڈا) دکھایا گیا ہے۔اور ساتھ ہی ایک علی صغیر مسلمان کو انگریزوں کا مخبر (سالسی) بتایا گیا ہے۔اس عمل سے مسلم بچوں میں زبردست جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے اور نفرتوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ان ابواب میں رام،لکشمن،اور ہندو دیوی دیوتائوں کو مختلف وقتوں میں آزادی کی جنگ کا علمبردار بتایا گیا ہے جو کہ سراسر زیادتی اور ہمارے آئین ہند( قانون) کے بالکل خلاف ہے ۔
ہم وطنوں کو اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہے کہ یہ ہندتوا بیسڈ ،ہندو گرنتھ اور بھگوانصاب کیوں لگایا گیا ہے؟ ہمیں صرف اور صرف اس بات کے اوپر افسوس ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس نصاب اور کتابوں میں کچھ ایسے ابواب بھی شامل کئے جاتے جن میں دوسرے ہم وطن مذاہب کے لوگوں مثلا ًمسلمان،سکھ،کرسچن،بودھ ،جین وغیرہ کے اوتار اور پیغمبروں کے بارے میں بھی جانکاری اپنے بچوں تک پہنچا دیتے جن میں حضرت محمد ﷺ، گورو نانک جی،مہاتما بدھ،یا دیگر دھارمک گرنتھوں قرآن پاک، گربانی، بائبل وغیرہ شامل ہیں۔دوسرا یہ کہ جنگ آزادی میں جن تمام مذاہب کے لوگوں نے قربانی دی ہوئی ہے، اپنے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں، ان کے بارے میں بھی بچوں تک معلومات پہنچائی جا تیں تو افضل رہتا۔میری گذارش ہے تمام اہل علم و دانش ،ارباب اختیار ، تعلیمی ماہرین اور ٹیکنوکریٹس سے کہ نظام تعلیم میں یا تو دوسرے تمام مذاہب ، دھرموں ،گرنتھوںکے ابواب کو نصاب میں شامل کریں!! اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پھر ان کتب کو درسی نصاب سے ہٹا دینا ہی جمہوری عمل، مذہبی رواداری اور انصاف پر مبنی ہوگا۔                                                             
  (ڈاکٹر محمد بشیر ماگرے کا تعلق راجوری جموں وکشمیر سے ہے اور جغرافیہ کے پروفیسر اورریٹائرڈ کالج پرنسپل ہیں)
 

تازہ ترین