عیاری اور مکاری کے پر ستار لوگ | دنیاوی فوائد ہی کو سمیٹنے کی کوششوں میں مصروفِ

گفت و شنید

تاریخ    21 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


معراج مسکینؔ
جموں و کشمیر کو انڈین ٹریٹری میں تبدیل کرنے کے ایک سال گزرنے کے بعد وادیٔ کشمیر میں جو گوناگوں صورت حال چلی آرہی ہے وہ سابقہ حکومتوں سے بھی کئی گنابدتر نظر آرہی ہے۔عوام کو عرصہ دراز سے درپیش مصائب و مشکلات سے نجات دلانے اور ہر معاملے میں راحت دلانے کے جو خوش کُن وعدے کئے گئے تھے ،وہ تاحال سراب ہی ثابت ہورہے ہیں۔جبکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے سرکاری انتظامی شعبوں کے اعلیٰ سے ادنیٰ ملازمین کی زیادہ تر تعداد سابقہ حکومتوں کے ادوار میں جس طرح بدنظمی ، بے راہ روی ،خود غرضی اور چاپلوسی کے تحت اپنے منصبی فرائض کی انجام دہی میں مصروف کار تھی آج کے اس گورنرراج میں بھی وہ اُسی روایتی پالیسی کے مطابق اپنی ملازمت کے فرائض منصبی انجام دے رہی ہے اور بدستور وہی کچھ کررہی ہے جس سے لوگوںکے مشکلات و مصائب میںمزید اضافہ ہورہا ہے ۔
بلا شبہ کسی بھی حکومت کے مستحکم ،مضبوط اور کامیاب ہونے کی واضح دلیل یہ ہوتی ہے کہ اُس کے دور اقتدار میں عام لوگوں کی حالت بہتر ہو، معاشی حالت اچھی ہو ،غریب کو دو وقت کی روٹی میسر ہو ،قانون کی حکمرانی ہو ،امن و امان پر حکومت کا کنٹرول ہو،ہر ایک کے لئے سستا اور فوری انصاف میسر ہو،لوگوں کو روزگار کے وسائل دستیاب ہوںاور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام ہو۔یہی وہ باتیں ہوتی ہیں جن کی آڑ میں سیاست دان سیاست گری کرتے رہتے ہیں اور اسی سیاست گری کے تحت حکمران بن جاتے ہیں۔چونکہ حکمرانی کسی کی ذاتی میراث نہیں ہوتی بلکہ حکمرانی ایک آنی جانی چیز ہے تاہم کسی بھی کامیاب حکمران کی واضح نشانی اُس کے عوام کے تئیں بے لوث خدمت ہی ہوتی ہے اور غریب و پسماندہ لوگوں کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی اُس حکمران کی حکومت کا اہم جُز ہوتا ہے۔اس حوالے سے اگر آج  وادیٔ کشمیر بلکہ بھارت کی دوسری ریاستوں پر نظر ڈالی جائے تو سب کچھ بالکل اُلٹ دکھائی دیتا ہے ۔جبکہ کرونائی قہر کے دوران جہاںلاکھوں کروڑوں لوگوں کا روزگار چِھن چکا ہے وہیں لاکھوں لوگوں کی ملازمتیں بھی چھین لی گئی ہیں ،جس سے اُن کی زندگی تلپٹ ہوکر رہ گئی ہے ، ہر طرف افرا تفری کا عالم برپا ہے اور اب ملک کے کئی حصوں میں اس کے خلاف آواز یں بھی اُٹھنے لگی ہیں۔ اب اس اعتبار سے وادیٔ کشمیر کی موجودہ گورنر حکومت کی کارکردگی کا ذکر کیا جائے تو ایک سال گذرجانے کے بعد بھی کسی معاملے میں موثر اور حوصلہ افزا نہیں کہی جاسکتی ہے۔وادیٔ کشمیر کا غریب عوام جتنا آج پِس رہا ہے اس سے قبل اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔روزگار ناپید ہے اور تعلیم یافتہ بے کار نوجوان دَر دَر بھٹک رہا ہے ۔قانون کی حکمرانی موثر نہیں اور امن و امان کی صورت حال غیر مستحکم ہے ۔سستے اور فوری انصاف کا تو دور دور تک کوئی نشان ہی نہیں،وقفہ وقفہ کے بعد جھڑپوں میں انسانی ہلاکتیں بھی ہورہی ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کے قیمتوں کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں ہے۔حکومت کے ارکان بظاہر ہر معاملے میں پُر عزم کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں لیکن انتظامی اداروں کے ذمہ داران کی طرف سے حکومت کی کارکردگی کو موثر اور مثبت بنانے میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہیں اور حسب روایت اپنی روایتی پالیسیوں کے تحت کام چلا نے کے فارمولے پر گامزن ہیں۔عام لوگوں کو درپیش مسائل اور اہم نوعیت کے معاملات کو حل کرنے کی طرف عدم دلچسپی کا مظاہرہ ہر سُونمایاں ہے اورعوام کا اعتماد بحال کرنے کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کے پُرانے طریقۂ کار کو بدلنے کی ذرَہ بھربھی کوشش نہیں ہورہی ہے۔عرصہ ٔ دراز کی المناک صورت حال سے بُری طرح متاثرہ پوری وادی اور جموں کے بعض ضلعوں کو کوئی بھی قصبہ ،دیہات ،علاقہ اور محلہ ایسا نہیں ،جہاں آج بھی مظلوم اور ستم رسیدہ لوگ آنسو اور سسکیاں لئے ہوئے انصاف ،ہمدردی اور مروت کے لئے ترس رہے ہیں اور بدستور بے مروت سماج میں بے انصافی ،نفرت اور ٹھوکروں کی نذر ہورہے ہیں ۔اس صورت حال کی آڑ میں اگرچہ بہت سے افراد آج بھی سماجی ٹھیکیدار بن کر استحصالی کاروائیوں کے ذریعے کروڑوں روپیوں کے مال و جائیداد بٹور رہے ہیںبلکہ ساتھ ہی اپنے آپ کو کشمیریوں کے ہمدرد جتلاکر کشمیریوں کے نام نہاد نمائندے بھی بن بیٹھے ہیںلیکن نہ وہ کشمیریوں کی کوئی حق ادائیگی کرنے کی کوئی کوشش کررہے ہیں ،نہ اپنی نمائندگی کا کوئی فرض ادا کرتے نظر آرہے ہیں بلکہ بدستور اپنا اُلو سیدھا کرنے کے لئے مختلف حیلے بہانے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے تحت عوام میں خلفشار ہی بڑھاتے رہتے ہیں۔بغور دیکھا جائے تو آج بھی اپنی اس وادی میں ہند نواز اور ہند مخالف جماعتیں موجود ہیں ،اُن کی صورت حال بالکل وہی ہے جو گورنر راج سے قبل تھی۔کھلے لفظوں میں نہ سہی لیکن دھیمے لہجہ میں ہر کوئی سیاسی لیڈر آج بھی جو بات کرتا رہتاہے، اُس میں حسب روایت دوغلا پن ہوتا ہے تاکہ کل اُسے اپنی بات سے مُکر جانے میں کوئی دِقت پیش نہ آئے ۔جب تک عوام میں اپنی پذیرائی دیکھتا ہے تو عوام کی ہی باتیں کرتا رہتا ہے اور جب عوام سے دور ہوجاتا ہے تو دوسری بولی بولنے لگتا ہے۔گویا جہاں سے فایدوں سے اُمید دکھائی دیتی ہے اُسی کی طرف رُخ موڈ لیتا ہے۔بالکل اُسی طرح جس طرح یہاں کی ہند نواز سیاسی جماعتیں پچھلی نصف صدی سے کرتی چلی آرہی تھیںاور مفادات کے اس کھیل میں کشمیری قوم کو اس مقام پر لا کھڑا کرچکی ہیںجہاں اُس کے لئے اب ’نہ جائے ماند ن نہ پائے رفتن ‘کی حالت بن چکی ہے۔
موجودہ وبائی قہر کے دوران وادی ٔ کشمیر میں روز مرہ استعمال ہونے والی ضروری چیزوں کی قیمتوں میں بدستور اضافے سے پوری آبادی پریشان ہے،ٹرانسپورٹروں کے من مانے کرایوں نے مسافروں کو بدحال بنا دیا ہے۔حکومتی انتظامیہ نے جہاں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 30فیصد کا اضافہ کردیا ہے وہاں بعض ٹرانسپورٹر 60فیصداضافی کرایہ وصول کررہے ہیںاور وہ بھی اُوورلوڈنگ کے ساتھ۔ کسی بھی معاملے میں کوئی نظم دکھائی نہیں دیتا ہے اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومتی ادارے مختلف شعبوںکو اس غلط طرز ِ عمل سے باز لانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔
 یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ یہاں کے معاشرے میں ایمانداری ،حق پرستی اور انصاف کا فقدان ہے،جس کے نتیجہ میں عام لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ،حسرت ناک پہلو یہ بھی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد کرونائی قہر کے نتیجہ میں کسی نہ کسی طرح متاثر ہوا ہے اور اس کے باوجود کون کس کو لوٹ رہا ہے اور کیوں لوٹ رہا ہے ،سمجھ سے بالا تر ہے ۔المناک اور عبرت ناک صورت حال کے بعد بھی اپنے غلط طرز ِعمل کو جاری رکھ کر اپنی اخلاقی و ذہنی پستی کاکھلم کھلا مظاہرہ کیاجارہا ہے۔ظاہر ہے کہ جہاں سرکاری انتظامیہ میں بدنظمی ،نااہلی ،کورپشن اور بدعنوانیاں ہوں ،وہاں معاشرے کے زیادہ تر تاجر ،کاروباری حلقے اور دکاندار طبقہ بھی زبردست بددیانتی ،ناجائز منافع خوری اور خود غرضی کی غلاظت سے لت پَت ہوجاتا ہے۔زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کو دھوکے ،فریب اور مکاری سے لوٹنے کی تاک میں رہتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو لوٹ کر فخر محسوس کرتے ہیںجس سے قوم اور معاشرے میں جھوٹ کا بھول بھالا ہوجاتا ہے اور سچائی غرق ہوجاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کہ خود غرض ،بددیانت اور بے انصاف قوم یا معاشرے میں انسان کی روح یا اُس کا ضمیر ذاتی مفادات کے قید خانے میں بند رہتی ہے اور اُسے خریدنے کے لئے محض چند سِکّوں کی ضرورت پڑتی ہے جن کے عوض وہ اپنی غیرت ،حمیت ،عزت یہاں تک کہ دین ِا یمان تک بیچ کھاتا ہے۔اپنی اس وادی  میں بھی اسی روش کی ایک جھلک نظر آتی ہے اور انہی سکّوں کے حصول کے لئے وادی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ برسر پیکار ہے۔
 وادیٔ کشمیر میں کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی طبقہ اسی معاشرے کا ایک حصہ ہے ۔سرکاری ملازم،تاجر ،دکاندار یا مزدور اسی حصے کے افراد ہیںلیکن افسوس کہ بیشتر افراد اپنی ذمہ داریوںسے بالکل غافل ہے ۔ آج تک اُس نے کئی ستم رسیدہ اَدوار دیکھے،خوفناک واقعات و حادثات کا سامنا کیا ،گولیوں کی گن گرج اورگولہ بارود کی تباہ کاریاںجھیلیں،بے شمار انسانی جانوں کا اتلاف اُٹھایا ،زلزلہ اور سیلاب کی قہر سامانیاں برداشت کیںاور اب عبرت ناک وبائی قہر کا عذاب بھی جھیل رہا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک اُس میں ایمانداری ،حق پرستی اور انصاف کا شعور بیدار ہونے کا نام نہیں لیتا ۔شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ آج تک جو بھی حکمران اس پر تھونپا گیا وہ اُس پر ہونے والے ظلم و ستم پر اُف بھی نہیں کرسکا،عوامی فلاح و بہبودی اور معاشرتی اصلاح و احوال کے لئے کوئی بھی سیاسی پارٹی مخلص نہیں بنی،سرکاری افسران اور عہدیداران ذاتی مفادات تک ہی کار بند رہے اور انتظامی شعبوں میں غلط پالیسیوں کے مرتکب افراد کی مدد کرتے رہے۔گویا اعلیٰ عہدوں پر فائز استحصالی عناصر کے حوصلے بلند ہوتے رہے اورلوٹ کھسوٹ میں ملوث آفیسر اور اہلکار بھی خوش رہے،جن کی بدولت ناجائز منافع خور ،ملاوٹ خور ،نقلی ادویات اور دوسری غیر معیاری چیزیں فروخت کرنے والے تاجر اور دکاندار کے بھی وارے نیارے ہوتے رہے ۔
اپنی وادی کے اُمت ِمسلمہ کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی کہ ہماری زندگی اور اعمال روحانیت اور مقصدیت سے خالی ہے،اولاً ہماری اکثریت بے عملی ،بد اعملی،بے راہ روی اور اباحیت کا شکار ہے اور جو لوگ اسلامی اعمال کے پابند ہیں ان کے اعمال مقصد اور روح سے خالی ایک رسم بن کر رہ گئے ہیں ۔جس کے نتیجہ میں جہاں ارباب و اقتدار اور کاروباری لوگ ایمان ،دیانت اور فرض جیسی مبنی بر حق باتوں کو خاطر میں لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے وہیں سرکاری و غیر سرکاری ملازم طبقہ ،تاجر پیشہ افراد ،دکاندار ،مزدور ،کاشت کار اور دیگر مختلف پیشوں سے وابستہ تقریباً سبھی لوگ بھی اپنے مذہبی اور دینی مقام و مرتبے سے بالکل بے نیاز ہوکر صرف عارضی دنیاوی فوائد ہی کو سمیٹنے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہیں ۔جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی زندگی کو دو خانوں میں بانٹ کر رکھا ہے ۔ایک خانہ صرف عبادت یعنی نماز،روزہ،زکوٰۃ،حج ،درود ازکار اور وعظ و تبلیغ کا ہے اور دوسرے خانے میںہمارے دنیاوی معاملات ہیں جو ہم جیسا چاہیں اپنی مرضی سے انجام دیتے ہیں ۔جس سے ہم پر یہ بات بخوبی صادق آتی ہے کہ ــ’نماز میرا فرض ہے اور چوری میرا پیشہ،عبادت میرا دین ہے اور ابہام میری دنیا ‘۔
 

تازہ ترین