تازہ ترین

سُکڑتی آبی پناہ گاہوں کو نابود ہونے سے بچائیں

تاریخ    21 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
 جموں و کشمیرکی خوبصورتی میں چار چاند لگانے والی قدرتی آب گاہوں اور جھیلوںمیں پچھلے 95سال کے دوران 50فیصد کمی آئی ہے۔ ایک تازہ ترین تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قدرتی جھیلوں اور آب گاہوں کوغیر قانونی قبضہ ، آلودگی اور پرتنائو صورتحال کی وجہ سے تشویشناک حد تک نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے 22اضلاع میں کل 3651چھوٹی بڑی آب گاہیں موجود ہیں جن میں پانچ آب گاہیں عالمی شہرت کی حامل ہے ۔ان میں جموں کی دو آبگاہیں سرنسر اورمانسر اور کشمیر کی دو آب گاہیںہوکر سر اور ولر جھیل شامل ہیں۔ 
رپورٹ میں اس بات کاپریشان کن انکشاف کیاگیا ہے کہ شہر سرینگر میں موجود قدرتی آب گاہیں اور جھیلیں غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے ختم ہورہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر میں 50فیصد آب گاہیں اور قدرتی جھیلیں ختم ہوچکی ہیںاور سرینگر شہر میں 95سال کے دوران آبی پرندوں کی پناہ گاہوں کے رقبہ میں7018مربع کلومیٹر کی کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق1911میں سرینگر شہر میں آبی پرندوں کی پناہ گاہیں 13,425.90 مربع کلومیٹر پر پھیلی تھیں جو سال 2017کے آخر تک 6,407.14مربع کلو میٹرتک سکڑ چکی ہیں۔
تحقیقی رپوٹ میں مختلف ذرائع کا حوالہ دیکر لکھا گیا ہے کہ سرینگر شہر کے گردونواح میں آنے والی قدرتی آب گاہیں جن میں جھیل ڈل ، خوشحال سر، بابہ ڈیمب، شالہ بگ، آنچار،ہوکر سر اور نار کرہ آ ب گاہیں شامل ہیں ،کو رہائشی کالونیوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نارکرہ آب گاہ کا استعمال کشمیر صوبے میں آئی آئی ایم کی تعمیر کیلئے کیا جارہا ہے ۔
 اسی طرح جنوبی ایشیاء میں صاف پانی کی سب سے بڑی جھیل کو سال 1986میں قومی سطح کی آبی پناہ گاہ کا درجہ حاصل تھا جبکہ سال 1990میں رامسر جھیل کے ساتھ ہی ولر کو بھی آبی پرندوں کی قومی پناہ گاہ کا درجہ حاصل ہوا ۔ آبی پرندوں کی پناہ گاہوں پر کی گئی بین الاقوامی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ولر جھیل میں 45فیصد کمی آئی ہے ۔ شہر سرینگر سے 14کلومیٹر دور ہوکر سر جھیل اور آبی پرندوں کی پناہ گاہ،جو 13.75مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے ،سے متعلق رپوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ہوکر سر جھیل میں 50فیصد کمی آئی ہے جبکہ آنچار آبی پناہ گاہ میں اب صرف 30فیصد بچا ہے۔ 
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دریائے جہلم اور اسکے گردونواح میںبڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ پانی کے معیار میں بھی گراوٹ آئی ہے اور آبی پناہ گاہوں اور جھیلوں و جھرنوں میں موجود پانی دن بہ دن آلودہ ہورہا ہے۔ تحقیق میں لکھا گیا ہے کہ زراعت، سیاحت اور بڑھتی ہوئی تعمیرات کی وجہ سے پانی کے معیار میں بھی کمی آئی ہے۔ تحقیق میں لکھا گیا ہے کہ گندے پانی کی ترسیل کیلئے بہتر نظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی آلودگی کا شکار ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں موجود آب گاہوں کے پانی میںFNO3-NاورNH4-Nکی تعداد زیادہ ہے جبکہ شہر ی علاقوں میںنائٹریٹ کی مقدار بھی کافی زیادہ ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر شہر میں تعمیراتی کاموں میں 159فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہاں1971سے لیکرابتک زرعی زمین میں 20.75فیصد کمی آئی ہے۔
گوکہ اگست2017میں عدلیہ بھی آبی پناہ گاہوںکی حفاظت کیلئے کمر بستہ ہوئی تھی اور ابھی بھی اس سلسلہ میں معاملہ زیر سماعت ہے تاہم کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے اور عملی طور سرکار کشمیر میں موجود 400سے زائد آبی پناہ گاہوںکی آلودگی پر قابو پانے اور ناجائز قبضہ کو ہٹانے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔ انتظامیہ نے اگرچہ حالیہ دنوں آبی پناہ گاہوں کے حوالے سے محکمہ وائلڈ لائف سے جواب طلب کیا تھا اور تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ناجائز قبضہ ہٹانے کی ہدایت دی تھی مگر ابتک پرندوں کی آبی پناہ گاہوں، جھیلوں اور جھرنوں پر ناجائز قبضہ ہٹانے کے حوالے کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔
 گوکہ دو روزقبل اب محکمہ مال کے حکام کو آبی پناہ گاہوں کی پیمائش اور سروے کیلئے موبائل فون تک حکومت کی جانب سے فراہم کئے گئے تاہم عملی طور کچھ ٹھوس ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے کیونکہ جب اتنے برس کچھ نہ ہوا تو اب کیا ہوسکتا ہے۔وائلڈ لائف محکمہ نے پہلے ہی محکمہ مال، محکمہ جنگلات ، لائو ڈا اور دیگر اداروں کے تحت آنے والی آبی پناہ گاہوں کی تفاصیل جمع کرکے ضلع ترقیاتی کمشنروں کے حوالے کردی ہیں اور اس کے بعد ضلع ترقیاتی کمشنروں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ آبی پناہ گاہوں پر غیر قانونی طور پر کئے گئے قبضے کو ہٹانے کیلئے کب اقدامات کریں گے تاہم کافی عرصہ بعد بھی کارروائی مقفود ہے اور ایسے میں شاید ہی اب ان آب گاہوںکی شان رفتہ بحال ہوجائے گی کیونکہ جہاں کئی آب گاہیں اب نابود ہی ہوچکی ہیں وہیں بیشتر آب گاہوں کا بڑا حصہ اب کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوچکا ہے اور ایسے میں شاید ہی انتظامیہ اب اتنے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی عمل میں لاسکتی ہے ۔یوں مختصراً یہ کہاجاسکتا ہے کہ سکڑتی آب گاہوں کا احیاء ناممکن ہے تاہم اب جتنا بچا ہے ،اگر اُس کا تحفظ یقینی بنایا جائے تو وہ ماحولیات کیلئے بہت بڑی خدمت ہوسکتی ہے۔