تازہ ترین

تہذیبوں کا تصادم اورکشمیریت

سوزِ دروں

تاریخ    19 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


منظور انجم
آئیے آج بات کرتے ہیں اس قوم کی جس کا ہم حصہ ہیں ۔لیکن کیسے کریں ۔ ہمیں پہلے یہ پتہ لگانا ہوگا کہ قوم کیا ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ،اس لئے امت مسلمہ کا حصہ ہیں ۔ ہم کشمیری ہیں، اس لئے کشمیری قوم کا حصہ ہیں ۔ ایک ساتھ ہم دونوں قومیتوں کا جزو نہیں ہوسکتے، نہ ہم دونوں میں سے ایک کو الگ کرکے ایک ہی قومیت کا حصہ بن کر رہ سکتے ہیں ۔یہ ہمارا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اوراس کی پوری تاریخ کا انتہائی گھمبیر مسئلہ رہا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سے ایسے تضادات نے جنم لیا ہے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی نسلی ، علاقائی ، لسانی، تہذیبی اور گروہی شناخت امت مسلمہ کی روحانی اور نظریاتی اساس کے سماتھ یا تو خلط ملط ہوکر ایک ابدی کنفیوژن کا باعث بنی یاایک دوسرے سے ٹکرا کر فساد اور شر پیدا کرتی رہی ۔آج ہر جگہ ہر مسلمان کی شخصیت کے اندر قومیت کا ٹکرائو موجود ہے ۔چودہ سو سال کی تاریخ میں مسلم عالموں نے اس مسئلے کی کوئی وضاحت کرکے مسلمان کا فکری اور شخصیاتی کنفیوژن دو ر کرنا ضروری نہیں سمجھا ۔اس لئے علاقائی قومیتوںکی تحریکیں اور اسلامی قومیت کی تحریکیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ گربگریباں بھی رہیں ۔خلافت عثمانیہ کا خاتمہ بھی اسی تضاد کی وجہ سے ہوا۔ علاقائی قومیتوں کی تحریکیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے عرب دنیا سے اکھاڑ پھینکا گیا اورتین براعظموں پر مسلمانوںکی چھ سو سالہ حکومت ختم ہوگئی ۔ ردعمل میں ترکی میں مسلم قومیت کے نشان مٹا کر علاقائی قومیت کا جھنڈا بلند کردیا گیا ۔مسلمانوں نے اس سانحے کے بنیادی عوامل کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے مسلمانوں کے خلاف عیسائیت اوریہودیت کی سازش قرار دیکر لارنس آف عربیا کی سازشوں، کوششوں اور کامیابیوں کو بحث کا موضوع بنادیا ۔اس کے بعد علاقائی قومیتوں کی تحریکوں نے پوری عرب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اور اس کے مقابلے میں مسلم قومیتوںکی تحریکیں اخوان المسلمین کی صورت میں ابھریں جنہیں علاقائی قومیتوں کیلئے ایک آفت قرار دیکر کچل ڈالا گیا ۔یہ ٹکرائو آج بھی جاری ہے اور اس وقت تک کبھی ختم نہیں ہوگا جب تک نہ علاقائی اور اسلامی قومیت کے درمیان ٹکرائو کی بنیادی وجہ کو تلاش کرکے مسلم دنیا کا یہ کنفیوژن دور نہ کیا جائے ۔ مسلم سکالروں اور اداروںمیں ابھی کوئی نہیں ہے جو اس مسئلے کو اہمیت کا مسئلہ سمجھ کر اس کو تحقیق اور بحث کا موضوع بنائے ۔علاقائی قومیتوں کے عروج کے ایک دور کے بعد سوویت یونین کیخلاف افغانستان کی مسلح جدوجہد نے ایک بار پھر مسلم قومیت کو ہمہ گیر بنادیالیکن یہ مسلم قومیت کا فطری ابھار نہیں تھا بلکہ اس کا سکرپٹ امریکہ نے اپنے مقابل دوسری سپر پاور کو پارہ پارہ کرنے کے لئے بنایا تھا ۔ سعودی عرب اس سکرپٹ کو روبہ عمل لانے کا کلیدی کردار بنا ۔ جہاد کے فتوے جاری ہوئے اور دنیا بھر سے مسلمان اس جنگ میں حصہ لینے کے لئے افغانستان پہنچے ۔ جہاد یہاں سے ہی مسلمانوں کے اسلامی جذبے کی کلید قرار پایا ۔اور اس جذبے نے عرب قومیتوں کیخلاف مسلح جدوجہد کا جواز پیدا کردیا،چنانچہ آئی ایس آئی ایس جیسی قوتوں کا جنم ہوا ۔چونکہ امریکہ کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ ایسا ہوگا، اس لئے جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا تو امریکہ نے اس سکرپٹ کے ووسرے باب کو کھول کر افغانستان سمیت ہر جہادی قوت کو دہشت گرد قرار دیا اور ان مسلح قوتوں کا خاتمہ کرنے کے لئے باضابطہ جنگ شروع کردی ۔ افغانستان میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کی فوجیں پہنچ گئیں اور طالبان کی حکومت کا خاتمہ کردیا گیا ۔اس کے بعد اسلامی قومیت کے ان ہیروز کی باری آئی جو مقامی قومیتوں سے عروج حاصل کرکے امریکہ دشمنی سے امت مسلمہ کے دلوں پر چھاچکے تھے۔ ان میں صدام حسین اور لیبیا کے معمرقدافی سرفہرست تھے ۔ ایک کو پھانسی پر لٹکادیا گیا اور دوسرے کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ۔ امریکہ تو اپنا کام کرکے چلا گیا لیکن پوری عرب دنیاکو قومیتوں کی جنگ میں مبتلا کرگیا ۔جس سعودی عرب نے جہاد کا نظریہ عام کرنے کیلئے اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ اسلامی سکا لروں کا بھرپور استعمال کیا تھا،اب یہ نظر یہ تبدیل کرکے ایک روشن خیال اسلامی نظرئیے کی تبلیغ کا بھیڑا اٹھا چکا ہے ۔اب اسرائیل کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے لئے فتوے جاری ہورہے ہیں اور پردے کا تصور بھی تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس طرح سے اسلامی نظرئیے کی بنیادوں کو تبدیل کرنے کا وہ عمل اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے جو صدیوں پہلے شروع کیا گیا تھا ۔اس نظرئیے کے نام پر دنیا بھر میں مذہبی تنظیموں کی بہتات قائم ہے جو اس مذہب کی الگ الگ شاخیں قائم کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں کررہی ہیں ۔
اسلام ایک آفاقی نظریہ ہی نہیں بلکہ سیاسی ، سماجی ، اقتصادی ، معاشی اور تہذیبی شعور پیدا کرنے والا آئین بھی ہے۔ لیکن اسے کسی علاقائی ، لسانی ، گروہی یا شخصیاتی تہذیب کو ختم کرکے اپنے آپ کو ثابت کرنے کی حاجت نہیں ہے ۔ یہ ان ساری تہذیبوں کی آبیاری کرتا ہے، یہی اس کی عظمت اورآفاقیت ہے ۔اس بات کو سمجھنے کے لئے اسلام کے بنیادی فلسفے اور اس کی چودہ سو سالہ تاریخ کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنا ضروری ہے ،تب ہی مسلمان قومیتوں کے تصادم سے باہر نکل کر علاقائی قومیتوں کے ساتھ امت مسلمہ کی صورت میں متحدہ قومیت کا خواب شرمندہ تعبیرہوسکتا ہے ۔اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ خود قدرت نے دنیا کو الگ الگ علاقائی اور ماحولیاتی حصوں میں بانٹ دیا ہے ۔ ہر ماحول انسان کی ایک الگ فطرت اور صورت تشکیل دیتا ہے ۔ انسان جہاں جنم لیتا ہے وہاں کی زمین کی خاصیت اس کی شخصیت اورفطرت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ یہ شخصیت اس کے لئے الگ سماجی ماحول پیدا کرتا ہے ۔ الگ زبان اور الگ پہناوا جو اس کے ماحول سے مطابقت رکھتا ہے اس کے لئے لازم ہوجاتا ہے ۔ اس طرح ایک الگ قومیت تخلیق ہوتی ہے جو اس کی شناخت ہوتی ہے ۔ پھر اس کی صدیوں کی تاریخ بھی اس کی الگ شناخت بناتی ہے ۔اس شناخت کے ساتھ ہی دین اسے امت مسلمہ کا حصہ بناتا ہے ۔
آئیے اب وہ بات کرتے ہیں جسے شروع کرنے کے لئے یہ تمہید ضروری بن گئی ۔کشمیر کو ہمیشہ اس بات پر ناز رہا ہے کہ وہ پورے برصغیر میں ایک الگ تہذیبی ، سماجی اورتاریخی شناخت رکھتا ہے ۔اس شناخت کو ہی کشمیریت کا نام دیا جاتا تھا ۔اس کی ایک نظریاتی ، فطری اور قومی انفرادیت تھی لیکن کئی دہائیاں پہلے جب اسلامی قومیت کی ہمہ گیریت مسلم دنیا میں چھاگئی، اسے اس قومیت کی ضد قرار دیا گیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں کچھ ایسی روایتیں موجود تھیں جو اس تصور کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی جو مقبول عام ہوچکا تھا ۔اس تصور میں اتنی قوت تھی کہ کشمیریوں نے سمجھا کہ وہ غلط تھے، اس لئے کشمیریت کو لوگوں کی اکثریت نے مسترد کردیا ۔اس کے بعد کشمیری زبان کے ساتھ محبت پر پہلی ضرب پڑ گئی ۔اسے چھوڑ کر اردو گھروں میں بولی جانے لگی ۔ بچوں کے کشمیری نام عربی ناموں میں تبدیل ہوگئے ۔ وعظ و تبلیغ کے لہجے بدل گئے لیکن اب جب دنیا اورمسلم دنیا کی تبدیلیاں ظاہر ہوگئی ہیں تو پھر یہی مسئلہ پیدا ہوا ہے کہ ہم کیا ہیں ۔ ہماری قومیت کیا ہے ۔ ہماری تاریخ کا ایک بڑا اوراہم حصہ غیر مسلم تاریخ ہے ۔ کیا وہ اب ہماری تاریخ نہیں ۔کیا اونتی ورمن سے ہماری کوئی وابستگی نہیں جس نے تبت سے افغانستان اور بنگال تک کشمیر کی سلطنت قائم کی تھی ۔ کیا لل عارفہ سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں جس نے ہمارے سب سے بڑے روحانی پیشوا شیخ العالم ؒکو اپنا دودھ پلایا ۔ علامہ اقبال اسلام کی عالمی قومیت کے سب سے بڑے علمبردار تھے لیکن کشمیر سے ان کی اٹوٹ محبت صرف اس لئے تھی کہ انہیں کشمیری برہمن خاندان سے تعلق پر فخر تھا ۔ پنڈت جواہر لعل نہروبھی کشمیر کے دیوانے اسی لئے تھے کہ ان کے اسلاف کشمیری تھے۔ علاقائی تہذیب کے اس تعلق کو وہ دونوں نہیں توڑ سکے ۔اب ہم فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں کہ ہم کیا ہیں ۔ہم دونوں کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن دونوں سے ٹکرا بھی رہے ہیں۔ جب ہم کشمیری ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو اسلامی تہذیب سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں اور جب اسلامی تہذیب کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں تو کشمیری نہیں رہتے ہیں ۔اس کنفیوژن کے ساتھ کوئی قوم نہیں جی سکتی ہے اور ہم بھی نہیں جی سکتے ہیں ۔ نہ ہم اپنی تاریخ سے الگ ہوسکتے ہیں ، نہ اپنی تہذیب سے ، نہ اپنی فطرت سے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے مذہب ، اپنی مذہبی تاریخ اور اپنی مذہبی تہذیب سے بھی الگ نہیں ہوسکتے ہیں ۔ شاہ ہمدان ؒ جب اسلام کا پیغام لیکر کشمیر آئے ،اس وقت کشمیر ی سماج ایک برہمن سماج تھا جس کی اپنی روایتیں اور اپنی تہذیب تھی ۔ شاہ ہمدانؒ نے اس تہذیب کو تبدیل کرنے کی شرط پر اسلام قبول کرنے کی بات نہیںکی بلکہ اس نے برہمن کو اس کی اپنی تہذیب کے ساتھ مسلمان بنایا اور جب وہ مسلمان بنا تو اس نے اسلامی تہذیب اوراپنی تہذیب میں توازن پیدا کرکے جس تہذیب کی تخلیق کی ،وہی کشمیریت کے نام سے موسوم ہوئی ۔اس کشمیریت کی بنیادوںمیںاسلام کے آفاقی اصولوں کی بالادستی تھی اور آج بھی ہے ۔اس تہذیب کو دفن کرنے سے ہم اگر اسلامی تہذیب کا حصہ بننا چاہیں تو یہ اسلامی تہذیب کے ساتھ ہی ہماری سب سے بڑی زیادتی ہوگی اوراپنے ساتھ یہ زیادتی ہوگی کہ ہم دونوں تہذیبوں کے درمیان آدھے ادھورے لٹکتے رہیں گے ۔