تازہ ترین

بٹہ مالو میں خونریز تصادم، 3جنگجو اور خاتون جاں بحق

سی آرپی ایف ڈپٹی کمانڈنٹ سمیت 2اہلکار زخمی ،علاقہ میں مشتعل نوجوانوں اور فورسز میں جم کر پر تشدد جھڑپیں

تاریخ    18 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//شہرسرینگر کے گنجان آباد علاقے فردوس آباد بٹہ مالو میں بدھ اور جمعرات کی درمیان شب ایک خونریز تصادم آرائی میں ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے 3جنگجو جبکہ ایک جواں سال خاتون جاں بحق جبکہ سی آر پی ایف کا ایک ڈپٹی کمانڈنٹ سمیت دو اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا جس کی حالت نازک تھی۔علاقے میںتین جنگجوئوں اورمقامی خاتون کی ہلاکت کے بعد مشتعل نوجوانوں اور فورسز میں شدید جھڑپیں ہوئیں جو کافی دیر تک جاری رہیں۔

تصادم کیسے ہوا؟

 پولیس کے مطابق فردوس آباد بٹہ مالو  بستی میں لین نمبر 3میں کچھ جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور سی آر پی ایف 117بٹالین نے رات کے قریب 12بجے محاصرہ کیا اور سوا بارہ بجے  کے قریب جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس میں سی آر پی ایف ڈپٹی کمانڈنٹ راہل ماتھر شدید طور پر زخمی ہوا جسے نازک حالت میں فوری طور پر بادامی باغ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔اسکے بعد  طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔مختصر فائرنگ کے تبادلے کے بعد آپریشن ملتوی کیا گیا اور صبح 3بجے کے قریب جب آپریشن کا دوبارہ آغاز کیا گیا تو فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جو صبح سات بجے تک جاری رہا۔پولیس نے بتایا کہ جمعرات کی صبح فائرنگ کے تبادلے میں 45سالہ جواں سال خاتون کوثر ریاض زوجہ ریاض احمد زخمی ہوئیں جنہیں پولیس کنٹرول روم اسپتال لیا گیا ، لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھی تھی۔سات بجے تک دو طرفہ فائرنگ کے دوران پہلے ایک جنگجو کی ہلاکت ہوئی جس کے تھوڑی دیر بعد دوسرا جنگجو اور اسکے بعد تیسرے جنگجو کی ہلاکت ہوئی۔ جنگجوئوں کی لاشیں اپنی تحویل میں لینے کے بد آپریشن ختم کیا گیا۔

پر تشدد مظاہرے

3جنگجوئوں اورمقامی خاتون کی ہلاکت کے بعدیہاں مشتعل نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے فورسز پر شدید پتھرائو کیا جس کے جواب میں انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے۔طرفین کے درمیان تشدد آمیز صورتحال کافی دیر تک جاری رہی جس سے علاقے میں افرا تفری پھیل گئی۔

جنگجوئوں کی شناخت

بٹہ مالو میں پولیس نے جاں بحق جنگجوئوں کی شناخت ذاکر احمد پال ولد نثار احمد پال ساکن آلورہ امام صاحب شوپیان،عبیر مشتاق بٹ ولد مشتاق احمد بٹ ساکن بدراگنڈ کولگام اور عادل حسین بٹ ولد عبدالرشید بٹ ساکن بٹہ پورہ چرسو اونتی پورہ کے بطور کی ہے۔ پولیس  بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں جنگجوئوں کو بارہمولہ میں سپرد خاک کیا جائیگا اور انکے قریبی رشتہ داروں کو انکی آخری رسومات میں شرکت کرنے کی اجازت دی جائیگی۔معلوم ہوا ہے کہ ان تینوں جنگجوئوں نے اسی سال جنگجوئوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ذاکر پال نے 4جون کو ہتھیار اٹھائے،عبیر نے 14جون کو اور عادل حسین 18اگست کو جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوئے تھے۔
 

 شادی کی خوشیاں2 ہفتوں کے بعد ہی ماتم میں تبدیل

خاتون کی ہلاکت اپنی ہی گاڑی میں ہوئی

عبیر نقشبندی
 
سرینگر// شہر کے فردوس آباد بٹہ مالو میں بدھ تک صوفی کنبہ میںدلہن کی آمد کے نغمے گونج رہے تھے،اور ہر سو خوشی و مسرت کا ماحول تھا،مگر جمعرات کو خوشی کے نغمے آہ و فغان اور نالہ زاری میں تبدیل ہوئے۔ دو ہفتہ قبل ریاض احمد صوفی اور انکی اہلیہ کے25برس کے بیٹے عاقب  کی شادی ہوئی تو گھر میں خوشی کا ماحول پیدا ہوا،تاہم جمعرات اعلیٰ اصبح یہ ماحول غم میں تبدیل ہوا۔صوفی کنبے میں اب ریاض احمد،انکا فرزند فہیم اور عاقب اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سانحہ پر ماتم منا رہا ہے۔ جمعرات صبح کو عاقب کی والدہ 45سالہ کوثر جاں وادی میں جاری اس ڈروانے خواب کا ایک اور شکار ہوگئی،جو کئی دہائیوں سے کشمیریوں کاپیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا ہے۔ عاقب اور انکے بھائی فہیم پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور وہ اس درد کو کسی بھی طور برداشت نہیں کر پا رہے ہیں،حالانکہ انکے دوست ،اقربا اور رشتہ دار انہیں صبر کرنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں۔انکے والد ریاض احمد، جو کہ محکمہ صحت میں کام کر رہے ہیں، ایک خاموش مجسمہ بن چکے ہیں،اور اپنے کنبے میں اچانک تبدیلی کو سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں۔انکے نزدیک بیٹھے ایک رشتہ دار نے کہا’’ یہ(ریاض)  سی ڈی اسپتال میں شبانہ ڈیوٹی پر تھے‘‘۔صوفی کنبے کا آبائی پیشہ نان فرشی ہے،اور یہ صبح بہت جلد ی اٹھ کرگاہکوں کیلئے روٹی تیار کرتے ہیں،تاہم جمعرات کو اس کنبے کی خوشیوں کو ان کے اپنے ہی پیشہ نے لوٹا۔جمعرات کو عام دنوں ہی کی طرح عاقب اپنی والدہ کوثر کے ہمراہ کار میں سوار ہوا،تاکہ انکی رہائش سے کوئی آدھ کلو میٹر دور ریکہ چوک میں وہ اپنی دکان پر پہنچیں۔ مہلوک خاتون کے فرزند عاقب نے جذباتی انداز میں کہا’’ ہم اعلیٰ الصبح سینٹرو گاڑی میں اپنی رہائش گاہ سے نکلے،وہ(کوثر) میرے ساتھ سامنے والی سیٹ پر بیٹھی تھی،اور جب ہم آگے بڑھے تو ہم نے فوجی اور پولیس گاڑیاں دیکھیں۔میری والدہ کو کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا اور انہوںنے مجھے گاڑی واپس موڑنے کیلئے کہا‘‘۔ عاقب نے جب گاڑی واپس موڑ لی اور کچھ ہی میٹر دور چلا تو انہوں  نے گولیوں کی گنگناہٹ سنی جو انکے عقبی شیشے کو چیرگئی۔ عاقب نے آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا’’ ہم صرف کچھ میٹر ہی واپس چلے تھے کہ کار کے عقبی شیشے سے گولیاں چیرتی ہوئی میری والدہ کے جسم میں پیوست ہوئیں،اور ہم یہ نہیں جانتے کہ گولیاں فوج،سی آر پی ایف یا پولیس نے چلائیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ گولیاں انکی والدہ کے سر کے پچھلے حصے کو جا لگیں،اور وہ موقعہ پر ہی چل بسی‘‘۔ اپنی والدہ کی  حالت دیکھ کر عاقب کو کچھ دیر کیلئے یہ سمجھ بھی نہیں آیا کہ کیا کچھ ہوا،اور وہ اپنی والدہ کے جسم سے خون رستا ہوا دیکھ رہا تھا۔عاقب نے اپنے کپڑوں پر والدہ کے خون کی طرف انگشت نمائی کرتے ہوئے کہا’’ وہاں پر میری مدد کیلئے کوئی نہیں تھا،اور میری والدہ دم توڑ رہی تھی،میں نے کسی کو بھی اپنی والدہ کے جسم کو چھونے کی اجازت نہیں دی اور میں نے اپنے والدہ کو گاڑی میں پولیس کنٹرول روم پہنچایا‘‘۔ عاقب کو دو ہفتے قبل اپنی شادی کے وہ مناظر آنکھوں کے سامنے آنے لگے جب انکی والدہ نے انکی چھوٹی انگلی پر مہندی لگائی تھی۔ عاقب نے کہا’’ میں نے اس کو گاڑی سے باہر نکالا اور اس سے بغلگیر ہوا۔جس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ  میں اپنی گاڑی بٹہ مالو پولیس تھانے میں رکھوں۔مجھے ایس ایچ ائو تھانہ کا انتظار کرنے کیلئے کہا گیا،مگر میں نے انہیں کہا کہ میں نے اپنی والدہ کو کھویا ہے،اور لوگوں کی مداخلت کے بعد مجھے جانے کی اجازت دی گئی۔ صوفی گھرانے کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو یہ بات یاد ہے کہ ان برسوں میں انہوں نے اپنے گھر کی تعمیر کس طرح کی،جہاں پر وہ حالیہ دنوں میں ہی عاقب کی شادی کی وجہ سے منتقل ہوئے تھے۔ رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ پورا کنبہ شادی کے بعد دلہن کی میکے جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا،تاہم خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوئیں۔ اس تقریب کیلئے کنبے نے جو لکڑیاں وازوان لانے کیلئے لائی تھی،اس لکڑی سے کوثر کیلئے آخری غسل کیلئے پانی گرم کیا گیا۔
 

تازہ ترین