تازہ ترین

معاشرتی بے راہ روی سے دوچار مسلم سماج

خواتین اور نوجوانوں کی اصلاح میں ہی نجات

تاریخ    18 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


پیرزادہ بلال یوسف
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک خاص نظام کے تحت پیدا کیاہے۔ساری مخلوق اسی نظام اورخداکی اسی بناوٹ کے تحت قائم ودائم ہے۔جب کوئی مخلوق اس فطری نظام سے منحرف ہوتی ہے یاکوئی اورشخص اس نظام سے چھیڑ چھاڑ کرتاہے تودنیا میں فساد،بگاڑ اورتباہی آتی ہے۔غورکریں جب سے دنیا بنی اورآسمان پر سورج اورچاندکا نظام قائم ہوا،اللہ تعالیٰ کی یہ دونوں بڑی مخلوق بھی اسی نظام قدرت کی پابندی کرتی چلی آرہی ہے۔سورج پورب سے نکل کر پچھم کو ڈوبتاہے،سورج کے اس نظام میں کبھی کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی، اگر سورج اس فطری نظام سے ہٹ کر پچھم سے طلوع ہوکر پورب کی سمت ڈوبنے لگے تودنیا تباہی اوربربادی کی شکار ہوجائے۔اسی کو حدیث پاک میں قیامت یعنی دنیا کے اختتام کی بڑی علامت قرار دیاگیا ہے۔پھر غور کریں سورج جب سے بنا اپنی شعاع سے دنیا کو منور کرتا آرہاہے،جب کبھی سورج اپنا نور حکم خداوندی سے تھوڑی دیر کے لئے روک لیتاہے جسے ہم سورج گرہن کہتے ہیں تودنیا خوفناک اندھیرے کی چپیٹ میں آجاتی ہے،اورہرانسان خوف ودہشت کا شکارہوجاتاہے۔اللہ تعالیٰ نے زمین کی لرزش اوراس کے زلزلے دورکرنے کی غرض سے زمین کی پشت پر پہاڑ کی کیل نصب کردی۔دنیا سے اگر پہاڑوں کوختم کردیاجائے تو زمین زبردست زلزلہ کی زد میں آکردنیا کی تباہی کا سامان بن جائے۔یہی حال جنگلات اور پیڑپودوں کا ہے۔یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں جو دنیا کے نظام کا ایک مضبوط حصہ ہیں۔جب انسان اس سے تعرض اورچھیڑ چھاڑ شروع کردے توموسم کے حالات بگڑ جائیں ،جس کا معمولی مشاہدہ ہم کرنے لگے ہیں۔
قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ موسم کامزاج بدل جائے گا ،بارش بے وقت ہوگی۔اوریہ سب خدائی بناوٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کانتیجہ ہوگا۔کائنات کی اہم ترین مخلوق انسانوں کا بھی یہی حال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص حکمت اور خاص نظام کے تحت اسے پیدا کیا اوراس کی دوصنفیں بنائیں،ایک کا نام مرد اوردوسرے کا عورت۔پھر قدرت نے دونوں کی بناوٹ اورمزاج میں کھلا فرق رکھا۔یہی فرق ان کی پہچان اورشناخت ہے۔مثال کے طورپر مردوں کے چہروں پہ مونچھ اورداڑھی ہے،جو عورتوں کی تخلیق میں شامل نہیں ہے۔ مردوں کے سرکے بال منڈوانے یا کتروانے میں اس کا حسن معلوم ہوتاہے اورعورتوں کے لمبے بال اس کی خوبصورتی اورزینت کا سامان ہیں،ناک ،کان چھیدوانا اور اس میں زیورات کا استعمال ،پائوں میں پازیب ،گلے میں طوق ،یہ سب عورتوں کے لئے زینت وجمال کا سبب ہیں، اورمردوں کے لئے عیب اورنقص کی بات ہے۔عورتوں اورمردوں کی آواز اورچال ڈھال میں بھی قدرت نے واضح فرق رکھا ہے،حتی کہ جسم کی بناوٹ اوران دونوں کی صلاحیتیں بھی مختلف اورجداگانہ ہیں۔اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ دنیا کی بقاء ،اس کے استحکام اور فطری نظام پر رہنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی بناوٹ اور فطری مزاج و شناخت پر قائم ودائم رہے،تاکہ اس کی تخلیق کے جو مقاصد ہیں وہ حاصل رہیں ،ورنہ انسانیت کا فساد وبگاڑ اوراخلاقیات کا زوال شروع ہوجائے گا،اورانسانوں سے گندے ،پلیداورتباہ کن اعمال صادرہونے لگیں،اورانسان ساری نعمتوں کے ہوتے ہوئے بھی بے لذت ،بے کیف اوربے چین ہوجائے گا۔اسی لئے اسلام عورتوں کو اس کے مزاج، بناوٹ اورصلاحیت کے اعتبارسے تعلیمات،ہدایات اورماحول اورمعاشرہ دینے کی پرزور وکالت کرتاآیاہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے عوتوں کو اس کے مزاج اورتخلیق کے اعتبار سے ہم آہنگ دستور حیات دیااور ان کو اپنی فطرت اور شناخت بچائے رکھنے کا پابند بنایا۔فطرت اور بناوٹ سے الگ راہ اپنانے کو ممنوع قرا ر دیا۔ اوراس پر اتنی سخت نگاہ رکھی کہ مردوں کو عورتوں کی آواز نکالنے اورعورتوں کو مردانہ بول اختیارکرنے سے منع کیا ۔اسی طرح عورتوں اورمردوں کے لباس میں اس کے بناوٹ کے اعتبار سے فرق رکھا اورعورتوں کومردوں کے لباس پہننے اورمردوں کوعورتوں کے لباس استعمال کرنے سے سخت منع کیا بلکہ ایسی عورتوں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی جو مردوں کا لباس زیب تن کریں،اسی طرح ان مردوں کو مستحق لعنت قرار دیا جو عورتوں کا لباس پہنیں۔عورتوں کے پوشیدہ مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ساتر لباس(پوشیدہ مقام کو چھپانے والا) کاشریعت نے تاکیدی حکم دیا، اگرلباس ساترنہ ہوتوایسی خواتین کے لئے سخت وعیدیں بتائی گئیں۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا المرأۃ عورۃاذا خرجت من بیتہااستشرفھاالشیطان(ترمذی شریف)یعنی عورتیں سراپا پردہ ہیں ،وہ جب گھر سے نکلتی ہیں توشیطان اس کی تاک میں لگ جاتاہے۔دوسری حدیث میں ہے کہ وہ دوسروں کی نظر میں ان عورتوں کو خوبصورت اورپرکشش بناکر پیش کرتاہے۔ایک حدیث میں ہے نساء کاسیات عاریات مائلات ممیلات لایدخلن الجنۃ (مؤطا امام مالک)
بہت سی خواتین کپڑے پہن کر بھی ننگی ہوں گی۔خود بھی غیروں کی طرف مائل ہوں گی اوردوسروں کو بھی اپنی طرف مائل کریں گی۔ایسی عورتیں ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گی۔علماء نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھاہے کہ کپڑا پہن کر بھی ننگا ہونا یہ ہے کہ لباس اتناچھوٹاہوجو ستر کی جگہوں کو نہ چھپاسکے۔دوسری شکل یہ ہے کہ لباس تومکمل ہو، لیکن اتنا چست ہوکہ جسم کی بناوٹ اوراس کانشیب وفراز نظرآئے۔تیسری شکل یہ ہے کہ لباس ڈھیلابھی ہو اورستر کی جگہوں کو چھپائے بھی ہوں لیکن اتناباریک ہوکہ باہر سے جسم نظرآئے۔یہ تینوں شکلیں کپڑا نہ پہننے کے مانند ہیں۔اسلام میں نگاہوں کی حفاظت کی بھی تاکید کی گئی ہے اورفرمایاکہ نگاہ شیطان کی چالوں میں پہلی چال ہے وہ نگاہ پر قبضہ کرکے بے حیائی اورزنا کے قریب کرتاہے۔حدیث شریف میں ہے النظرۃ سہم من سہام ابلیس مسموم فمن ترکھا من خوف اللہ اصابہ اللّٰہ ایمانا یجد حلاوتہ فی قلبہ (مستدرک حاکم)
نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے،جوشخص اپنی نگاہ کو اللہ کے خوف سے منع کی ہوئی جگہوں سے ہٹالے تواللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایمان کی حلاوت ولذت پیوست کردیتاہے۔نگاہ کے غلط استعمال سے منع کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا العینان تزنیان زناھما النظرو الیدان تزنیان وزناھما البطش (مسلم)
آنکھوں سے بھی زناکاصدورہوتاہے اوراس کازنا بدنگاہی ہے،ہاتھ بھی زناکے مرتکب ہوتے ہیں اوراس کا زنا ناجائز چیزوں کا چھوناہے۔الغرض عورتوں کی فطرت اورمزاج میں قدرت نے شرم وحیا پیداکرکے انہیں خوبصورتی عطاکی ہے ،ان کی آنکھوں کی لاج ،ان کاحسن اوران کی پست وباریک آواز ان کاجمال اورکمال ہے،ان کے سرکادوپٹہ ،ان کی عصمت وآبروکاسامان اوران کی عزت کا تاج ہے،ان کا پردہ کے ساتھ رہنا ان کی حفاظت کا ضامن اوران کے سکون کا باعث ہے۔اسلام میں ان کے اس مزاج اوربناوٹ کا اس قدرخیال کیاگیا ہے کہ انہیں اپنی زندگی کی بقاء کے لئے کسب معاش سے بھی آزاد رکھاگیا۔مردوں پر عورتوں اورلڑکیوں کی کفالت کی ذمہ داری دی گئی۔اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے نان ونفقہ اداکرنے کی صلاحیت نہ رکھے تواللہ تعالیٰ نے اسے شادی کرنے سے منع کیا، مگردنیا میں بگاڑ اورمعاشرہ پلیدنہ ہو،اوراس کا اخلاق وکردار پاک رہے ،اس کے قدم نہ پھسلیں، اس کے لئے شریعت نے ایسے مردوں کو روزہ رکھنے کاحکم دیا۔حاصل کلام یہ کہ عورتوں کا پردہ ان کی شرم وحیا ،ان کی بناوٹ اورخالق کے ذریعہ بنائے گئے نظام کا حصہ ہے۔اس کے قائم اورباقی رکھنے میں انسانی زندگی کا امن وسکون مضمر ہے۔یہ فطری نظام جتنا مضبوط ہوگا ،فیملی سسٹم اورخاندانی نظام اتنا ہی مضبوط اوربہتر ہوگا۔اگر اللہ تعالیٰ کی اس بناوٹ میں تغیر وتبدل کی جانے لگے تو انسانی زندگی،معاشرہ اورخاندانی نظام درہم برہم ہوجائے گا، عورتوں کی تخلیق کے مقاصد فوت ہوجائیں گے،پھر دنیا کش مکش اورسخت بے چینی میں مبتلاء ہوجائے گی،آج جب ہم حالات کاجائزہ لیتے ہیں تو شرم وحیا ،عفت وآبرو اورپاکیزگی کا ہرطرف جنازہ نکلتا نظرآرہاہے  ؎
پری نہفتہ رخ ودیو در کرشمہ ناز 
بسوخت عقل زحیرت ایں چہ بوالعجبی ست 
آنکھوں کاپانی گرتاجارہاہے۔پردہ ،شرم وحیا اورعورتوں کے فطری نظام کے قائم رکھنے کی ہرکوشش کو قدامت پسندی اوردقیانوسیت کا نام دیا جارہاہے۔عورتوں مردوں کا اختلاط ملازمت کے نام پر عام ہوگیا۔وہ زینت جوکبھی صرف اپنے شوہروں کے لئے اختیارکی جاتی تھی وہ اب غیروں کے لئے زیادہ ہونے لگی ہے۔شادی بیاہ کی محفلیں ان کے حسن جمال ،زیب وزینت کی نمائش گاہ بن گئیں ہیں۔وہ کپڑے جواللہ تعالیٰ نے شرم کی جگہ کو چھپانے کے لئے دیئے ،اب وہ شرم اورستر کی جگہ کو ابھارنے اورلوگوں میں رغبت پیداکرنے کے لئے استعمال ہونے لگے ہیں۔موبائل اورنیٹ نے شرم وحیاکی ساری عمارتیں زمیں بوس کردی ہیں۔ محرم غیرمحرم ،جائز وناجائز کا سارا فرق مٹتاجارہاہے۔ شہوتوں اورہوس کی تکمیل کے لئے ساری حدیں توڑ دی گئی ہیں۔
نیٹ اورموبائل نے ذہن ودماغ اتنے گندے کئے اوراس طرح آوارگی میں مبتلاء کیاکہ مذہب کا بھی خیال جاتا رہا۔کسی بھی قوم کی بہوبیٹیاں آج دوسرے مذہب کے ہوس کاروں کی ہوس کا شکار بنتی جا رہی ہیں۔نکاح کے بندھن تیزی سے ٹوٹ رہے ہیں۔طلاق کی شرح میں زیادتی ہونے لگی ہے۔بیویاں خود اپنے شوہروں سے طلاق مانگنے کی روش پر چل پڑی ہیں۔ آہ کیا ہوگیا، مزاج کی اس آزادی اور آوارگی نے الحاد وبے دینی کے دروازہ کھول دیئے۔بڑی تیزی سے خود مسلم بہو بیٹیاں غیرمسلم نوجوانوں کی شکار ہورہی ہیں۔ان کی محبت کے دام میں مبتلاء ہوکر دین اسلام جیسی قیمتی اورابدی نعمت کو چھوڑ کر کفروارتداد اپنا رہی ہیں۔اس وقت ان گندے حالات اورآوارہ مزاجی کا منصوبہ بند فائدہ اٹھانا شروع کردیاہے۔ افسوسناک اورحیرت انگیز خبر یہ ہے کہ پورے ملک میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ہماری لڑکیاں ارتداد کی شکارہورہی ہیں، اس ارتداد سے کوئی گائوں اورعلاقہ بچاہوا نہیں ہے۔
ایسے میں قوم کے ذمہ داراشخاص،سماجی کارکنان،ملی فکررکھنے والے افراد،باغیرت نوجوان اورعلماء وائمہ اور اخبارات سے وابستہ کام کرنے والے آگے بڑھیں اورشہر سے لیکر دیہات تک ایسی ٹیم تیار کریں، جو اس سیلاب کا رخ موڑ سکے،خواتین بالخصوص اسکول اورکالج میں پڑھنے والی لڑکیوں پر مشتمل ہفتہ عشرہ یا کم از پندرہ دنوں میں محلوں اورگائوں کے درمیان محفوظ مقام پر جلسہ منعقد کریں،ان کواسلام ،آخرت ،مرنے کے بعد دوربارہ زندہ ہونے،حساب وکتاب ،اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی اورجنت وجہنم کے عقیدے سے باخبر کریں ،انہیں ان کی عفت وحیا اور پردہ کی اہمیت اورضرورت بتائیں، اوران میں اسلامی طرز حیات پیداکرنے کی کوشش کریں۔عموماً پارکوں، بازاروں اور کوچنگ سنٹروں کے بگڑتے ماحول نے ارتداد کی راہ ان کے لئے آسان بنادی ہے۔اپنے حلقہ کے دینی  رہنمائوں اور اپنے گھر کے ذمہ داران اپنی بیٹیوں اوربہنوں کے لئے دینی تعلیم وتربیت کا نظم کرکے گھر میں دینی ماحول بنائیں ۔نماز وتلاوت کا خواتین کو بھی پابند بنائیں ۔شرعی پردہ اورحجاب کی حکمتیں انہیں بتائیں۔ والدین اپنی بچیوں کی صغرسنی ہی سے ان کے لئے ساتر لباس کا نظم کریں۔عموماً ہم بچپن میں لڑکیوں کوایسے لباس پہناتے ہیں جس سے ستر پوشی نہیں ہوتی، جواں ہوکر بھی لڑکیاں انہی لباسوں کی عادی بن جاتی ہیں۔ اس طرح کی تدابیر ملت کے ہرباشعور اور ذمہ دار شخص کو اپنانی ہونگیں۔ 
آج ضرورت ہے اس بات کی ہے کہ ہم سب ملکر اپنی بساط کے مطابق کوشش کریں تو انشاء اللہ پھر دینی ہوائیں چلنے لگیں گی ۔یوں تو پوری معاشرہ کی اصلاح کی ضرورت ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ اصلاح خواتین اور نوجوانوں کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہر بچہ کا سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں صحیح مسلمان ہوگی تو بچے کو بھی اسلام سکھائے گی اور اسلام کے احکام وآداب کی تعلیم دے گی۔ مسلمان معاشرہ میںعورتوں کی تعلیم وتربیت پر ہمیشہ توجہ دی گئی ہے۔ اسلئے ایک عورت کی اصلاح ایک فرد کی اصلاح نہیں بلکہ ایک خاندان ایک جماعت کی اصلاح ہے۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی خواتین کی ترتیب کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی خاص طورسے خواتین اسلام کو خطاب کرنے کیلئے الگ مجلس منعقد فرماتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی طریقہ پر عمل کرتے ہوئے بزرگان دین،علماء،وصلحا نے بھی ہمیشہ اپنے وعظ ونصائح اور تصنیف وتالیف میں خواتین کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ بہت سی کتابیں ہر زبان اور ہر زمانے میں اصلاح خواتین کیلئے لکھی گئی ہیں ۔موجودہ دور میں بھی ہمیں بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنا ہوگا ،جبھی عریانیت کے اس دور میں ہم اپنے بچے اوربچیوں اورخوداپنے ایمان کی حفاظت کرسکتے ہیں۔
رابطہ۔ اچھہ بل سوپور،حال امام وخطیب مرکزی جامع مسجد ملک صاحب صورہ سرینگر 
موبائل نمبر۔ 7006826398