مشرقی لداخ میں بھارتی فوج بھرپور جنگ لڑنے کے قابل:فوجی ترجمان

تاریخ    17 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سید امجد شاہ
جموں//ہندوستانی فوج نے کہا ہے کہ وہ مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ طویل تعطل کے لئے تمام آپریشنل تیاریوں کے ساتھ اچھی طرح سے تیار ہے تاہم ہندوستان ہمیشہ بات چیت کے ذریعہ معاملات حل کرنا چاہتا ہے۔چین کے ساتھ کشیدگی کے بیچ دفاعی ترجمان کے بیان میں کہاگیاہے کہ مشرقی لداخ میں سردیوں میں بھی بھارتی فوج پوری طرح سے جنگ لڑنے کی صلاحیت سے تیار ہے۔سرکاری بیان میں واضح کیاگیاہے کہ سخت موسم کی صورتحال لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ چین کے ساتھ سرحد کا دفاع کرنے میں ہندوستانی فوج کے محافظوں کو پریشان نہیں کرسکے گی۔بیان میں کہاگیاہے کہ ہندوستانی فوج کے پاس سیاچن کا تجربہ ہے جہاں حالات ایل اے سی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہیں۔دفاعی ترجمان نے کہا ’’جسمانی اور نفسیاتی طور پر سخت لڑنے والی ہندوستانی فوج کے مقابلے میں ، چینی فوج زیادہ تر شہری علاقوں سے ہے اور وہ مشکلات کا سامنا نہیں کرتی یا فیلڈ کنڈیشن میں طویل عرصے سے تعیناتی نہیں کرتی‘‘۔مزید کہا گیا ہے ’’چین کا تصور ہمیشہ جنگوں کو بغیر لڑے جیتنا ہے ، لہٰذا اگر وہ جنگ کے حالات پیدا کردیں گے تو وہ بہتر تربیت یافتہ ، بہتر طور پر تیار ، ا?رام دہ اور نفسیاتی طور پر سخت ہندوستانی فوجی  سخت مقابلہ کریں گیاور ان پریشانیوں سے چینی فوجیوں کا ذہن چکرا رہا ہے اور چینی میڈیا میں یہ نظر ا?رہا ہے‘‘۔بیان میں کہاگیاہے کہ اگرچہ ہندوستان ایک امن پسند ملک ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش رکھتا ہے ، مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ سرحد کے معاملے کو حل کرنے کے لئے بات چیت جاری ہے ، لیکن فوج بھی اس طویل تعطل کے لئے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹینکوں اور بکتر بند عملے کے لئے خصوصی ایندھن اور سامان کوبھی مناسب مقدار میں ذخیرہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بیرکوں کو بھی تیار کیا گیا ہے جو آرام دہ اور پرسکون ہیں۔ ساتھ ہی چھوٹے ہتھیاروں ، میزائلوں اور ٹینک اور توپ خانے میں گولہ بارود سمیت مختلف اقسام کے گولہ بارود کا بھی کافی ذخیرہ کیا گیا ہیاور کسی بھی صورتحال کیلئے میڈیکل سسٹم بھی موجود ہے۔بھارتی فوج کے ترجمان کے مطابق لداخ خطے میں نومبر کے مہینے کے بعد 40 فٹ تک برف ہوتی ہے ،اوردرجہ حرارت معمول کے مطابق منفی 30-40 ڈگری تک گر جاتا ہے تو ہندوستانی فوجیوں کو موسم سرما کی جنگ کا بہت بڑا تجربہ ہے۔بیان میں لکھا گیا ہے ’’لاجسٹک صلاحیت کا تعلق نقل و حرکت ، رہائش اور بلنگ سے متعلق ہے ، صحت کی معیاری خدمات ، خصوصی راشن ، مرمت اور بحالی ، ہیٹنگ سسٹم ، اعلیٰ معیار کے ہتھیار ، گولہ بارود ، معیاری لباس اور اسی طرح سے دیگر سہولیات موجود ہیں‘‘۔اس بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج پوری طرح سے تیار جنگ کے لئے تیارہے۔روایتی طور پر لداخ میں جانے کے لئے دو راستے تھے جو زوجیلا اور روہتنگ سے گزرتے ہیں۔ تاہم حال ہی میں ہندوستان نے درچا سے لیہ تک تیسری سڑک چلائی جو فاصلے کے لحاظ سے بہت کم ہے اوراس کے بند ہونے کا کم خطرہ ہے۔ روہتنگ روٹ پر اٹل سرنگ کی تکمیل سے رسد کی فراہمی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔بیان کے مطابق اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ہوائی اڈے ہیں جن کی مدد سے فوج کو اچھی طرح سے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان راستوں کو نومبر سے کھلا رکھنے کے لئے برف صاف کرنے کے جدید آلات بھی رکھے گئے ہیں۔
 

تازہ ترین