دہائیوں قبل نصب کئے گئے بجلی کھمبے بوسیدہ | پائین شہر کے بیشتر علاقوں میںحادثات پیش آنے کا احتمال

تاریخ    17 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ارشاد احمد
سرینگر//پائین شہرکے بیشتر علاقوں میں 3دہائیوں قبل نصب کئے گئے بجلی کے کھمبے بوسیدہ ہوچکے ہیں جبکہ ان پر لٹکتی ہوئی ترسیلی لائنیں کسی بھی وقت گرنے کا امکان رہتا ہے اور اگر کبھی کوئی کھمبایا ڈھیلی ہوچکی ترسیلی لائین گرگئی تو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پائین شہر کے درجنوں علاقہ جات میں ابھی تک تین دہائیوں قبل نصب کئے گئے بجلی کے کھمبے اور درجنوں ڈھیلی ہوچکی ترسیلی تاریں کسی بھی وقت بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکے ہیں۔ حول، سازگری پورہ،عالمگیری بازار، ویژ رناگ،نوشہرہ سمیت دیگر علاقوں میںنصب لکڑی کے سینکڑوں کھمبے بوسیدہ ہوچکے ہیں ۔حول کے مقامی شہریوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہم نے کئی مرتبہ محکمہ بجلی کے اعلیٰ حکام سے رجوع کیا کہ ان بوسیدہ ہوچکے کھمبوں اور لٹکتی ہوئی ترسیلی تاروں کو بدل دیا جائے لیکن سالوں گزر جانے کے باوجود بجلی کا نظام بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ محمد شفع خان نامی شہری نے بتایا کہ یہ کھمبے اس قدر بوسیدہ ہوچکے ہیں کہ ابتر موسم اور ہوائیں چلنے کے دوران ان کھمبوں کے گر جانے کا اندیشہ رہتا ہے جس سے نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان ہوسکتا ہے ۔لوگوں نے محکمہ بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ بوسیدہ ہوچکے کھمبوں کو بدل دیا جائے تاکہ جانی اور مالی نقصان نہ ہو۔ 
 

تازہ ترین